Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی پروجیکٹ: یمن میں مزید 4 ہزار 199 دھماکہ خیز ڈیوائسز کو تباہ کیا گیا

اب تک 5 لاکھ 53 ہزار 828 دھماکہ خیز خطرات کو تلف کیا گیا( فوٹو: ایکس اکاونٹ)
سعودی عرب کے مسام پروجیکٹ کے ارکان نے یمن میں ابین گورنریٹ کے علاقے زنجبار سے 4 ہزار 199 پھٹنے سے رہ جانے والا آرڈیننس، مائنز اور جنگ کی باقیات کو تباہ کیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق مسام کے ملٹری انجینئرز نے 16 اینٹی پرسنل مائنز، 16 اینٹی ٹینک مائنز، 102 شیل، تین دھماکہ خیز ڈیوائسز، 15 ہینڈ گرینڈ، تین میزائل اور چار ہزار سے زیادہ راونڈز تباہ کیے ہیں۔
یہ دھماکہ خیز مواد عدن، لحج اور ابین گورنریٹس میں تنازع سے متاثرہ علاقوں سے جمع کیا گیا تھا۔
اس اقدام کا مقصد یمن کو پھٹنے سے رہ جانے والے آرڈیننس، بارودی سرنگوں اور دھماکہ خیز ڈیوائسز سے صاف کرنا ہے، جو شہریوں کی زندگی خطرے میں ڈال رہا ہے۔
مسام پروجیکٹ، حوثیوں کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔
 2018 میں پروجیکٹ کے آغاز کے بعد سے اب تک 5 لاکھ 53 ہزار 828 دھماکہ خیز خطرات کو ختم کیا گیا ہے۔

اس سے بے گھر خاندانوں اور کسانوں کی اپنی زمینوں پر واپسی ممکن ہوسکی جبکہ انسانی ہمدردی کی تنظیموں کو زیادہ محفوظ طریقے سے کام کرنے کے قابل بنایا گیا۔
دھماکہ خیز مواد اور بارودی سرنگوں کو بلا تفریق زمین میں بچھایا گیا تھا، جو عام لوگوں، خاص طور پر بچوں، خواتین اور عمر رسیدہ افراد کے لیے سنگین خطرہ بن رہا تھا۔
پروجیکٹ کے تحت مختلف ٹیموں کو دیہات، سڑکوں اور سکولوں سے بارودی سرنگوں یا دھماکہ خیز مواد کو ہٹانے کا کام سونپا جاتا ہے تاکہ عام لوگ محفوظ رہتے ہوئے نقل و حرکت کر سکیں۔ انسانی امداد کی فراہمی کو آسان بنایا جاسکے۔

 

شیئر: