Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مکہ مکرمہ: فرضی حج خدمات فراہم کرنے والا غیرملکی گرفتار

حج پرمٹ کی خلاف ورزی پر 20 ہزار ریال جرمانہ مقرر کیا گیا ہے(فوٹو، ایکس )
مکہ مکرمہ پولیس نے مصری باشندے کو فرضی حج خدمات فراہم کرنے کے الزام میں سوشل میڈیا پراشتہاری مہم چلانے پر گرفتار کرلیا ہے۔
عاجل نیوز کے مطابق سوشل میڈیا پر مذکورہ غیرملکی کی جانب سے اندرون مملکت سے حج کرنے کے خواہشمندوں کو راغب کرنے کے لیے خود کو حج خدمات فراہم کرنے والے ادارے کا اہلکار ظاہر کرتے ہوئے حج پرمٹ و دیگر سروسز فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی جارہی تھی۔
پولیس کے تفتیشی یونٹ کی ٹیموں نے فرضی حج خدمات فراہم کرنے کے دعویدار مصری باشندے کا سراغ لگا کر اسے حراست میں لے لیا۔
ملزم کے خلاف جعل سازی اور دھوکہ دہی کا مقدمہ درج کرکے کیس پراسیکیوشن کے حوالے کردیا گیا جہاں اس کے خلاف قانونی کارروائی مکمل کی جائے گی۔
واضح رہے رواں برس حج سیزن کا باقاعدہ آغاز یکم ذوالقعدہ 18 اپریل 2026 سے ہو گا۔اس حوالے سے وزارت داخلہ کی جانب سے مکہ پرمٹ کی پابندی کا بھی اعلان کیا گیا جس کے تحت کوئی بھی ایسا غیرملکی جس کے پاس مکہ پرمٹ نہیں وہ  مکہ مکرمہ میں داخل نہیں ہوسکتا۔
پابندی پرعمل درآمد 14 ذی الحجہ تک رہے گا۔ مکہ مکرمہ کے تمام داخلی راستوں پر چیک پوسٹوں کو فعال کردیا گیا ہے جبکہ اضافی چیک پوسٹیں بھی قائم کی گئی ہیں۔
حج ضوابط اور مکہ پرمٹ کے حوالے سے  وزارت داخلہ کی جانب سے جاری تفصیلی بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ مکہ پرمٹ کی خلاف ورزی پر 20 ہزارریال جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔

مکہ کے تمام داحلی مقامات پر چیک پوسٹیں قائم کردی گئی ہیں(فوٹو، ایکس)

وزارت کی جانب سے جاری ضوابط میں مزید کہا گیا تھا کہ ایسے افراد پر ایک لاکھ ریال تک جرمانہ ہوگا جو کسی غیرملکی کے لیے کسی بھی نوعیت کا وزٹ ویزہ جاری کرائے اور مملکت آنے کے بعد اسے حج کرانے کی کوشش کرے یا ممنوعہ مدت ( یکم ذی القعدہ سے 14 ذی الحجہ تک) میں مکہ مکرمہ لے جائے یا وہاں رہائشی سہولت وغیرہ فراہم کرے۔
بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ مملکت میں مقیم غیرملکی جو غیرقانونی طریقے سے (پرمٹ کے بغیر) حج کرنے کی کوشش کرتے ہوئے حراست میں لیے جائیں گے انہیں ملک بدر کرکے 10 برس کے لیے بلیک لسٹ کردیا جائے گا۔
وزارتِ داخلہ  نے سعودی شہریوں اور مقیم غیرملکیوں سے اپیل کی ہے کہ حج ضوابط پر سختی سے عمل کریں اور کسی بھی نوعیت کی خلاف ورزی میں ملوث نہ ہوں۔

شیئر: