سعودی عرب: سمر سیزن میں زیادہ گرمی پڑے گی، درجہ حرارت کیا رہے گا؟
درجہ حرارت معمول سے 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ سکتا ہے۔(فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب میں موسمیات کے قومی مرکز نے کہا ہے کہ’ اس سال موسم گرما میں (جون، جولائی، اگست) مملکت کے تمام علاقوں میں اوسط درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے۔‘
ایس پی اے کے مطابق جون میں جازان، باحہ، مکہ، عسیر، مدینہ، ریاض، قصیم، حائل اور تبوک کے کچھ حصوں میں درجہ حرارت معمول سے 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ سکتا ہے۔
جولائی اور اگست کے دوران جازان، باحہ، عسیر اور مکہ ریجن کے کچھ حصوں میں درجہ حرارت معمول سے 1.6 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھتے کی توقع ہے۔
علاوہ ازیں قومی مرکز نے مملکت میں جون کو سب سے گرم مہینہ قرار دیا۔ سال 1985 سے 2025 کے دوران اس مہینے میں گرمی کے اعداد وشمار بھی جاری کیے ہیں۔اخبار 24 کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا کہ’ مملکت میں جون کے مہینے میں اوسط درجہ حرارت 32.2 ڈگری جبکہ زیادہ سے زیادہ 39.5 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔‘
اس مہینے میں مشرقی اور اندرونی علاقوں میں درجہ حرارت سب سے زیادہ رہتا ہے، جبکہ جنوب، مغربی پہاڑی مقامات اور شمالی ریجن میں گرمی نسبتا کم ہوتی ہے۔
اسی طرح کم سے کم درجہ حرارت 24.4 ڈگری سینٹی گریڈ ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بیشتر علاقوں میں رات کے اوقات بھی موسم گرم ہی رہتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ 40 برسوں کے دوران درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
سال 2024 میں جون کے دوران اوسط درجہ حرارت 41.52 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو اوسط درجہ حرارت سے زیادہ ہے۔
اسی برس اوسط کم سے کم درجہ حرارت بھی 27.04 ڈگری تک پہنچا جو حالیہ برسوں میں درجہ حرارت کے مسلسل بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔

یومیہ ریکارڈ کے مطابق 15 جون 2010 کو مکہ مکرمہ سٹیشن میں درجہ حرارت 51.4 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔ 23 جون 2010 کو جدہ میں پارہ 52 ڈگری رہا جو بلند ترین سطح تھی۔
جبکہ جون 1985 میں ابھا کم از کم درجہ حرارت 11 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔
