Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

not published

جازان ریجن میں انجیر کے 346 سے زیادہ فارمز موجود ہیں ( فوٹو: ایس پی اے)
جازان ریجن میں ’انجیر‘ کی فصل براہ راست اقتصادی اثرات کے ساتھ ایک زرعی ماڈل کے طور پر ابھر رہی ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی’ایس پی اے ‘ کے مطابق جازان میں قومی مرکز برائے پائیدار زرعی تحقیق و ترقی (استدامہ) کی جانب سے انجیر کی کاشت کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کیا جارہا ہے۔
بہتر پیداوار کےلیے کاشتکاروں کو جدید زرعی طریقوں کے استعمال اور ٹیکنالوجی سے متعارف کرایا جاتا ہے۔
وزارت ماحولیات، پانی اور زراعت کے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق اس وقت جازان میں انجیر کے 346 فارمز ہیں، 480000 درختوں سے سالانہ 9600 ٹن پیداوار حاصل کی جاتی ہے۔
مملکت میں انجیر کی پیداوار کا دورانیہ سب سے طویل سمجھا جاتا ہے، جس کا آغاز نومبر سے ہوتا ہے اور جون کے اختتام تک جاری رہتا ہے۔

 مارکیٹنگ سسٹم کے تحت انجیر کو تین اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اعلی معیار کی فصل براہ ریاست ریاض اور جدہ جیسے بڑے شہروں کی ریٹیل مارکیٹ میں بھیجی جاتی ہے جبکہ درمیانے اور آخری درجے کے پھل مقامی مارکیٹوں میں فروخت کیے جاتے ہیں۔
جازان کی زرعی مارکیٹنگ کمیٹی کے سربراہ ابراہیم ابوشرحہ نے بتایا ’مارکیٹنگ کے فروغ کے لیے مختلف علاقوں میں کوآپریٹو سوسائٹیز کے ساتھ شراکت داری قائم کی جارہی ہے جبکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور ڈیلیوری سروسز کو بھی فروغ دیا جارہا ہے۔‘

 جازان میں انجیر کی اقسام میں ’براون ترکی‘ نمایاں ہے، جس کی مارکیٹ میں سب سے زیادہ طلب ہے۔ انجیر سے مختلف اقسام کے جام اور دیگر خشک مصنوعات کی تیاری میں بھی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہےٓ جس سے سرمایہ کاری کے  نئے در کھل رہے ہیں۔

 

شیئر: