Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کشمیر میں احتجاج: مظاہرین کا لانگ مارچ راولاکوٹ کے قریب، مظفرآباد میں فوجی ہیلی کاپٹر کا حادثہ

پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر میں چند روز قبل کالعدم قرار دی جانے والی ’جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی‘ کے لانگ مارچ کا دوسرا روز سخت سکیورٹی اقدامات، انٹرنیٹ کی مکمل بندش، فورسز کے ایک ہیلی کاپٹر حادثے اور راولاکوٹ میں کرفیو کے نفاذ کی گونج میں گزرا ہے۔
عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر منگل 9 جون کو میرپور، کوٹلی اور پونچھ ڈویژن سے شروع ہونے والا یہ مارچ اب دارالحکومت مظفرآباد کی طرف پیش قدمی کر رہا ہے جبکہ وادیِ نیلم سے بھی ایک قافلہ دارالحکومت کی جانب بڑھ رہا ہے۔
تاہم حالیہ پُرتشدد جھڑپوں کے نتیجے میں خطے میں اب تک مجموعی طور پر ایک خاتون اور کوٹلی کے ایک ڈاکٹر سمیت کم سے کم 14 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
راولاکوٹ میں مساجد سے اعلانات اور کرفیو کی تصدیق
بدھ کی دوپہر پونچھ ڈویژن کے مرکزی شہر راولاکوٹ میں اس وقت صورت حال مزید کشیدہ ہو گئی جب کچہری روڈ اور دیگر علاقوں میں واقع مساجد کے لاؤڈ سپیکرز سے اعلانات کیے گئے کہ شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور شہری گھروں کے اندر رہیں۔
مساجد سے کی جانے والی وارننگ میں کہا گیا کہ ’کوئی بھی شخص شہر میں داخل نہ ہو، بصورتِ دیگر وہ خود ذمہ دار ہوگا۔‘
اگرچہ ابتدائی طور پر کسی تحریری نوٹیفیکیشن کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی، تاہم بعد ازاں ڈپٹی کمشنر پونچھ ممتاز کاظمی نے اردو نیوز کے ساتھ بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔
سکیورٹی فورسز نے راولاکوٹ جانے والے تمام راستے مسدود کر دیے ہیں، مرکزی سڑکوں پر موٹرسائیکل سواروں کو آگے بڑھنے سے روکا جا رہا ہے اور شہریوں کو کہیں بھی جمع ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
مقامی رہائشیوں کے مطابق بدھ کی صبح سے راولاکوٹ کی فضاؤں میں ہیلی کاپٹرز کی آمدورفت کا سلسلہ جاری رہا جو مقامی کالج گراؤنڈ میں لینڈنگ کر رہے تھے۔
مظفرآباد میں ہیلی کاپٹر حادثہ
لانگ مارچ کی آخری منزل دارالحکومت مظفرآباد میں بدھ کو مکمل شٹرڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال رہی، تاہم شہر میں کسی بڑے احتجاجی مظاہرے کی اطلاع نہیں ملی۔
یہاں بھی سکیورٹی فورسز ہائی الرٹ پر ہیں اور دن کو فضاء میں ہیلی کاپٹرز کی پروازیں مسلسل جاری رہیں۔

مظاہرین بڑی تعداد میں راولاکوٹ کے نواحی علاقے ’دریک‘ کے عیدگاہ گراؤنڈ میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں (فوٹو: عتیق/ فیس بک)

اسی دوران پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے تصدیق کی ہے کہ ’مظفرآباد میں فوج کا ایک ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر تکنیکی خرابی کے باعث حادثے کا شکار ہو گیا ہے اور ہیلی کاپٹر میں سوار تمام افراد شہید ہو گئے۔‘
دوسری جانب پاکستان کے زیرِِانتظام کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کی زیرِ صدارت دارالحکومت میں ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں فوجی ہیلی کاپٹر حادثے پر گہرے دُکھ کا اظہار کیا گیا۔
اجلاس میں خطے کی امن و امان کی صورت حال اور وفاق کے ساتھ جاری ڈیڈلاک پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کا کہنا تھا کہ ’چند عناصر کی ہٹ دھرمی اور غیر دانش مندانہ رویے سے حالات خراب ہوئے جبکہ نظریہ پاکستان اور الحاقِ پاکستان کے خلاف سرگرمیاں کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہیں۔‘
لانگ مارچ کی پیش قدمی اور مذاکرات کا اشارہ
سکیورٹی رکاوٹوں کے باوجود لانگ مارچ کے شرکا کی پیش قدمی جاری ہے۔ اس وقت میرپور اور پلندری سے آنے والے مظاہرین بڑی تعداد میں راولاکوٹ کے نواحی علاقے ’دریک‘ کے عیدگاہ گراؤنڈ میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں جبکہ منگ اور تھوراڑ سے آنے والے قافلے شہر کے مغربی حصے میں موجود ہیں۔

مظفرآباد میں فوج کا ایک ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر تکنیکی خرابی کے باعث حادثے کا شکار ہو گیا (فوٹو: روئٹرز)

چند روز قبل فائرنگ سے زخمی ہونے والے ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنما سردار عمر نذیر نے ایک تازہ ویڈیو پیغام میں مظاہرین کو پرامن رہنے اور شہر کی حدود سے باہر ہی پڑاؤ برقرار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
عمر نذیر نے مذاکرات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں مذاکرات کے سلسلے میں ایک پیغام موصول ہوا ہے، جس کا جواب ہم نے بھجوا دیا ہے۔
یاد رہے کہ اس بحران کے دوران کوٹلی میں مظاہرین اور فورسز کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم سے کم تین افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ اس سے قبل 7 اور 8 جون کی درمیانی رات راولاکوٹ میں ہونے والے تصادم میں 11 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے جس سے ہلاکتوں کی کل تعداد 14 ہو گئی ہے۔
مذاکرات کی ناکامی اور بغاوت کے مقدمات
پاکستان کے زیرِِانتظام کشمیر میں یہ حالیہ بحران اس وقت سنگین ہوا جب 30 مئی کو اسلام آباد کی ہائی پاور کمیٹی اور عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کے درمیان مظفرآباد میں ہونے والے مذاکرات ناکام ہو گئے۔ ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ وہ آٹے پر سبسڈی اور بجلی کے بلوں میں ریلیف جیسے بنیادی حقوق کے لیے پرامن احتجاج کر رہے ہیں۔

حالیہ پُرتشدد جھڑپوں کے نتیجے میں خطے میں اب تک کم سے کم 14 افراد ہلاک ہو چکے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

مذاکرات کی ناکامی کے پانچ دن بعد جمعے کی شام کشمیر کے محکمہ داخلہ نے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت ’جوائنٹ جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی‘ کو کالعدم تنظیم قرار دے دیا تھا۔ تاہم کمیٹی نے اس پابندی کو مسترد کرتے ہوئے مارچ کا سلسلہ جاری رکھا۔
مارچ کے آغاز پر محکمہ داخلہ نے مزید دو نوٹیفیکیشن جاری کیے۔ پہلے نوٹیفیکیشن میں کالعدم کمیٹی کے چار مرکزی رہنماؤں شوکت نواز میر، سردار امان خان، سردار عمر نذیر اور خواجہ مہران ارشد کی گرفتاری میں معاونت پر ایک ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا گیا۔
دوسرے نوٹیفیکیشن کے تحت شوکت نواز میر اور خواجہ مہران کے خلاف ’ریاست کے خلاف بغاوت‘ کے مقدمات درج کرنے کا حکم دیا گیا، جس کے بعد مظفرآباد اور ڈڈیال کے تھانوں میں اُن کے خلاف ایف آئی آرز درج کی جا چکی ہیں۔
اس وقت پورے خطے میں موبائل ڈیٹا اور انٹرنیٹ سروسز مکمل طور پر معطل ہیں، تاہم لینڈ لائن اور عام فون کالز کی سہولت کام کر رہی ہے۔

’اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن‘ کی لاپتہ پرفیسر کی بازیابی کی اپیل 

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی ’اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن‘ نے جامعہ کشمیر کے ڈائریکٹر اکیڈمکس اور پروفیسر ڈاکٹر واجد عزیز لون کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔
بیان میں حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں، جامعہ کشمیر کے وائس چانسلر اور رجسٹرار سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ’ڈاکٹر لون کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے۔‘ 
ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ’ڈاکٹر واجد عزیز لون پر کسی قسم کا کوئی الزام نہیں اور ان کی مبینہ حراست سے معلم برادری میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔‘
اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر واجد عزیز لون کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبر شوکت نواز میر کے بہنوئی ہیں جبکہ ان کے خاندان کے مطابق انہیں پانچ اور چھ جون کی درمیانی رات کو کچھ نقاب پوش مسلح افراد اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

شیئر: