Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جازان: آم کی پیداوار میں اضافہ، زمینداروں کے لیے فوڈ پروسیسنگ میں نئی مواقع

جازان کے باغات میں موسم گرما کے آغاز پر ہی لذیذ اور رسیلے آم لٹکے نظر آتے ہیں اور ایک ایسا منظر پیش کرتے ہیں جو اس خطے کے زرعی شعبے کی ترقی کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ علاقہ مملکت میں آم پیدا کرنے والے نمایاں علاقوں میں شامل ہو چکا ہے جس کی وجہ موزوں آب و ہوا، مختلف اقسام، اور اعلیٰ معیار کی پیداوار ہے۔
ماحولیات، پانی اور زراعت کی وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق اس ریجن میں دس لاکھ سے زیادہ آم کے درخت موجود ہیں اور سالانہ پیداوار تقریباً 65 ہزار ٹن تک پہنچتی ہے۔ جس کے بعد یہ پیداوار مقامی زرعی معیشت کا ایک اہم حصہ بن گئی ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اس بڑھتی ہوئی پیداوار کے ساتھ اب توجہ فصل کی کٹائی کے بعد کے مراحل پر دی جا رہی ہے تاکہ معاشی قدر میں مزید اضافہ کیا جا سکے، خاص طور پر فوڈ پروسیسنگ صنعتوں میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کے پیش نظر، جہاں آم سے مختلف مصنوعات جیسے جوس، خشک آم اور جام بنائے جا سکتے ہیں۔
زرعی شعبے کے ماہرین کا ماننا ہے کہ پروسیسنگ صنعتوں کو وسعت دینے سے مصنوعات کی مارکیٹنگ کی مدت بڑھائی جا سکتی ہے، زیادہ پیداوار کے دوران مارکیٹ میں توازن قائم رکھا جا سکتا ہے اور کسانوں کی آمدنی کو مستحکم بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
جازان میں آم کی پیداوار میں مسلسل اضافہ اور اس کی مختلف اقسام کی دستیابی اور دیگر گرم علاقوں کے پھلوں کی بڑھتی ہوئی پیداوار کے پیش نظر ایسے مواقع پیدا ہو رہے ہیں کہ اسے ایک موسمی پھل سے نکال کر ایک مربوط غذائی صنعتی نظام کا فعال حصہ بنایا جا سکے۔ اس سے اس کی معاشی اہمیت میں اضافہ ہوگا اور علاقے کے زرعی شعبے میں تنوع کو بھی فروغ ملے گا۔

شیئر: