انڈیا کے نوجوان فاسٹ بولر ثاقب حسین جن کی ولدہ نے بیٹے کے جوتے خریدنے کے لیے اپنے ریورات بیچ ڈالے
ثاقب حسین نے رواں ماہ اپنے ڈیبیو پر سن رائزرز حیدرآباد کی جانب سے راجستھان رائلز کے خلاف خلاف کھیلتے ہوئے 24 رنز کے عوض چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے ان مطابق کے والد انڈیا کی غریب ترین ریاست سے تعلق رکھنے والے ایک مزدور ہیں اور ان کی والدہ نے اپنے بیٹے کی بولنگ کے جُوتے خریدنے کے لیے اپنے زیورات بیچ ڈالے۔
تین میچوں کے بعد ثاقب حسین کی اوسط فی وکٹ 14.16 ہے اور 7.08 کا شاندار اکانومی ہے جو کہ ٹی 20 ٹورنامنٹ میں بہترین سمجھا جاتا ہے۔
ثاقب حسین نے ریاست بہار کے ایک چھوٹے سے شمالی قصبے گوپال گنج کی گلیوں اور کچے میدانوں میں ٹینس بال سے کرکٹ کھیلنے کا آغاز کیا۔
اُن کی والدہ کی جانب سے بیٹے کے جُوتے خریدنےکے لیے اپنے زیورات فروخت کرنے کی خبر انڈیا میں وائرل ہو چکی ہے۔
ثاقب حسین کے والد کا ایک چھوٹا سے کھیت تھا، لیکن گھٹنے کے درد کی وجہ سے وہ گھر چلانے اور 300-200 روپے کی دیہاڑی لگانے کے لیے مزدوری کرنے پر مجبور ہوگئے۔
انڈیا کے سابق فاسٹ بولر عرفان پٹھان نے ثاقب حسین کے ڈیبیو پر کہا کہ یہ اُن کے اہل خانہ کے لیے یقیناً ایک جذباتی لمحہ ہوگا۔
واضح رہے کہ نے ثاقب حسین نے اپنے پہلے میچ کے پہلے ہی اوور میں یشاسوی جیسوال جیسے عمدہ اوپننگ بیٹر کو آؤٹ کیا۔
عرفان پٹھان کہتے ہیں کہ ثاقب حسین فوج میں شمولیت اختیار کرنا چاہتے تھے لیکن اس مرحلے پر انہیں موقع ملنا اور کارکردگی دکھانا یقیناً قابل تعریف ہے۔ان کی سلو گیند خطرناک ہے۔
ثاقب حسین اپنے علاقے میں گوپال گنج کا ربادا کے نام سے مشہور ہیں، ان کے بولنگ ایکشن اور تیز رفتاری کی وجہ سے ان کا موازنہ جنوبی افریقہ کے معروف فاسٹ بولر کاگیسو ربادا سے کیا جا رہا ہے۔
ان کے والد نے انڈین میڈیا کو بتایا کہ جب یہ مصیبت (گھٹنے میں درد) شروع ہوئی تو چونکہ میں گھر میں کمائی کرنے والا اکیلا ہی تھا، لہٰذا مجھے اپنے اہل خانہ کی ضروریات زندگی پوری کرنے کے لیے کچھ اور سوچنا پڑا۔
اسی دوران لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرا بیٹا بہت تیز بولنگ کرتا ہے، اور پھر میں نے ثاقب سے کہا کہ وہ اخراجات کی فکر نہ کریں اور کرکٹ پر توجہ دیں۔
ایک مقامی کوچ نے حسین کی کوچنگ شروع کی اور پھر جلد ہی فاسٹ بولر نے اپنی ریاست کی ٹیم کی جانب سے کھیلنا شروع کردیا۔
ثاقب حسین کو بنگلورو میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے کیمپ میں شمولیت کا موقع ملا، جہاں انہوں نے سید مشتاق علی ٹرافی میں کھیلتے ہوئے آئی پی ایل کی ٹیموں کی توجہ حاصل کی۔
وہ 2024 میں آئی پی ایل کا ٹائٹل جیتنے والی کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے سکواڈ کا حصہ تھے، لیکن مچل سٹارک کی قیادت میں انہیں کھیلنے کا کوئی موقع نہیں ملا۔