Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بجٹ 2026-2027: روزگار کے 20 لاکھ نئے مواقع پیدا کرنے کا اعلان

پاکستان کی وفاقی حکومت آئندہ مالی سال 2026-27 کا بجٹ آج پارلیمنٹ میں پیش کرنے جا رہی ہے۔ نئے مالی سال کے بجٹ کا مجموعی حجم 17 ہزار 500 ارب روپے سے زیادہ تجویز کیا گیا ہے، جس میں ایک طرف ٹیکس وصولیوں کے بڑے اہداف مقرر کیے گئے ہیں تو دوسری طرف تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کی بھی تجویز شامل ہے۔
قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرنے سے قبل وفاقی کابینہ سے اس کی منظوری لی گئی۔ وزیرِاعظم کی زیرِصدارت کابینہ کا یہ اہم اجلاس دوپہر اڑھائی بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں شروع ہوا جس میں نئے مالی سال کی بجٹ تجاویز کی باقاعدہ منظوری دی گئی۔
قومی اسمبلی کے اس اہم اجلاس میں وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب بجٹ پیش کریں گے اور اپنی بجٹ تقریر میں حکومت کی معاشی ترجیحات کا روڈ میپ سامنے رکھیں گے۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے جو معاشی اہداف طے کیے ہیں، ان کے مطابق ملکی معاشی شرح نمو (جی ڈی پی) کا ہدف چار فیصد رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ مہنگائی کی شرح کو 8.2 فیصد تک محدود رکھنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
شعبہ وار ترقی کی بات کی جائے تو زرعی شعبے کی ترقی کا ہدف 3.8 فیصد، صنعتی شعبے کی ترقی کا ہدف چار فیصد جبکہ بڑی صنعتوں کی ترقی کا ہدف 4.5 فیصد اور خدمات کے شعبے کا ہدف 4.2 فیصد کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
قومی اقتصادی کونسل نے ان معاشی اہداف کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت نئے مالی سال میں ملک بھر میں روزگار کے 20 لاکھ نئے مواقع پیدا کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ 
اس منصوبے کے تحت خدمات کے شعبے میں 11 لاکھ، صنعتی شعبہ میں پانچ لاکھ اور زرعی شعبے میں چار لاکھ نئی ملازمتیں پیدا کی جائیں گی۔
دوسری جانب بجٹ میں ریونیو کے اہداف بھی بہت بڑے رکھے گئے ہیں جن کے تحت آئندہ مالی سال کے لیے ٹیکس ریونیو کا ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے مقرر کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ نان ٹیکس ریونیو کا ہدف دو ہزار 767 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔
حکومت کا پیٹرولیم لیوی سے بھی 1727 ارب روپے وصول کرنے کا منصوبہ ہے۔ تاہم، حکومت کی آمدن کا ایک بہت بڑا حصہ ماضی کے قرضوں پر سود کی ادائیگی کی نذر ہو جائے گا جس کے لیے 7 ہزار 824 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، جبکہ دفاعی اخراجات تقریباً تین ہزار ارب روپے رکھنے کی تجویز زیر غور ہے۔ 

حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے ملکی معاشی شرح نمو (جی ڈی پی) کا ہدف چار فیصد رکھنے کا ہدف مقرر کیا ہے (فائل فوٹو: قومی اسمبلی ایکس اکائونٹ)

تجارتی محاذ پر برآمدات کا ہدف 32.8 ارب ڈالر اور درآمدات 70 ارب ڈالر تک رہنے کا تخمینہ ہے، جس کے باعث آئندہ مالی سال تجارتی خسارہ 37 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کا خدشہ ہے۔
علاوہ ازیں، قومی اقتصادی کونسل نے 3669 ارب روپے کا قومی ترقیاتی پلان منظور کیا ہے، جس میں وفاقی پی ایس ڈی پی کا حجم ایک ہزار ارب روپے مقرر کیے جانے کا امکان ہے جبکہ صوبائی ترقیاتی منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 2218 ارب روپے مختص ہوں گے۔
تاہم وفاق اور صوبے ترقیاتی بجٹ میں 1046 ارب روپے کی بچت کریں گے، جس کے تحت پنجاب کے ترقیاتی بجٹ میں 701 ارب روپے، سندھ کے بجٹ میں 110 ارب روپے اور خیبرپختونخوا کے ترقیاتی فنڈز میں 109 ارب روپے کی کمی کی منظوری دی گئی ہے۔ 
مزید برآں، یہ فیصلہ بھی سامنے آیا ہے کہ وزارتِ دفاع اور داخلہ کے شعبوں کے علاوہ کسی اور شعبے میں کوئی نیا ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا جائے گا۔
عوام اور بالخصوص تنخواہ دار طبقے کے لیے بجٹ میں ایک ریلیف پیکیج پر غور جاری ہے، جس کے تحت ملازمین کو تقریباً 50 ارب روپے کا ٹیکس ریلیف دینے کی تجویز ہے جبکہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں معمولی اضافے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اب تک سامنے آنے والی تجاویز کے مطابق انکم ٹیکس سلیبز کی تعداد 6 سے بڑھا کر 8 کی جا رہی ہے، جس سے ماہانہ ایک لاکھ 83 ہزار روپے سے زائد آمدن والوں کو ریلیف ملنے کا امکان ہے اور اس سے تقریباً چار لاکھ ملازمین مستفید ہوں گے۔

قومی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کی بھی تجویز شامل ہے (فوٹو: پرو پاکستانی)

نئی تجاویز کے تحت دو لاکھ 67 ہزار روپے ماہانہ آمدن پر ٹیکس کی شرح 25 فیصد سے کم ہو کر 20 فیصد ہوسکتی ہے۔ تاہم، ماہانہ چار لاکھ 67 ہزار روپے آمدن پر 29 فیصد اور پانچ لاکھ 83 ہزار روپے تک آمدن پر 32 فیصد ٹیکس عائد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ پانچ لاکھ 83 ہزار روپے سے زائد آمدن پر 35 فیصد کا زیادہ سے زیادہ ٹیکس برقرار رہنے کا امکان ہے، البتہ سالانہ ایک کروڑ روپے سے زائد آمدن پر عائد سرچارج کو ختم کیے جانے کی تجویز دی گئی ہے۔
علاوہ ازیں، وفاقی بجٹ میں سولر پینلز، سٹیشنری اشیا اور سٹاک مارکیٹ پر عائد ٹیکسوں میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح 25 فیصد تک بڑھائے جانے جب کہ ہائبرڈ گاڑیوں پر موجودہ ٹیکس شرح برقرار رکھے جانے کا امکان ہے۔

شیئر: