نیوزی لینڈ کے مشہور بلے باز کین ولیمسن کا بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان
کین ولیمسن نے انگلینڈ کے خلاف جاری تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے دوران ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔ (فوٹو: اے ایف پی)
نیوزی لینڈ کے مایہ ناز بلے باز کین ولیمسن نے انگلینڈ کے خلاف جاری تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے دوران فوری طور پر بین الاقوامی کرکٹ (ہر فارمیٹ) سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے، جس کے ساتھ ہی 2010 میں شروع ہونے والے ان کے 16 سالہ بین الاقوامی کیریئر کا اختتام ہو گیا۔
ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق 35 سالہ ولیمسن نے لارڈز میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں نیوزی لینڈ کی شکست کے دوران صفر اور 18 رنز سکور کیے تھے، جس کے بعد انہوں نے اوول اور ٹرینٹ برج میں ہونے والے باقی دو ٹیسٹ میچز میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
جون 2024 سے وہ نیوزی لینڈ کرکٹ کے مرکزی معاہدے کا حصہ نہیں تھے اور اپنے کیریئر کے آخری مرحلے میں ٹی20 فرنچائز کرکٹ کی مصروفیات کے باعث صرف منتخب بین الاقوامی سیریز کھیل رہے تھے۔
نیوزی لینڈ کرکٹ کی جانب سے جاری بیان میں کین ولیمسن نے کہا، ’میں کافی عرصے سے اس بارے میں سوچ رہا تھا، لیکن گزشتہ چند دنوں میں یہ بات واضح ہو گئی کہ اب یہی صحیح وقت ہے۔’
’بین الاقوامی کرکٹ کے لیے میرے اندر ہمیشہ مضبوط جذبہ اور بھوک رہی ہے، اور مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں نے نیوزی لینڈ کے لیے ہر میچ میں اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کی۔ اگر میں اس معیار سے کم پر کھیلتا تو یہ درست نہ ہوتا، اس لیے میں خود اپنی شرائط پر یہ فیصلہ کرنے کو خوش نصیبی سمجھتا ہوں۔‘
’میں اس احساس کے ساتھ جا رہا ہوں کہ یہ ٹیم ایک روشن مستقبل کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اس سکواڈ میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور کچھ خاص حاصل کرنے کا عزم بھی۔ یہ وہ ٹیم ہے جس سے مجھے بے حد محبت ہے، اور میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ اتنے طویل عرصے تک اس کا حصہ رہا۔ یہ ٹیم ہمیشہ میرے دل کے قریب رہے گی۔‘

ولیمسن نے اپنے کیریئر کا اختتام نیوزی لینڈ کے سب سے کامیاب ٹیسٹ بلے باز کے طور پر کیا۔ انہوں نے 110 ٹیسٹ میچوں میں 54.06 کی اوسط سے 9515 رنز سکور کیے۔ ان کے کیریئر کا سب سے یادگار لمحہ 2021 میں آیا، جب انہوں نے نیوزی لینڈ کی قیادت کرتے ہوئے انڈیا کو شکست دے کر افتتاحی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا ٹائٹل جتوایا۔
انہوں نے 175 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں 7256 رنز بنائے، جو نیوزی لینڈ کی جانب سے چوتھا بڑا مجموعہ ہے، جبکہ 93 ٹی20 انٹرنیشنل میچوں میں 2575 رنز کے ساتھ وہ اس فارمیٹ میں نیوزی لینڈ کے دوسرے سب سے کامیاب بلے باز ہیں۔
بطور کپتان ولیمسن نے 40 ٹیسٹ میچوں میں نیوزی لینڈ کی قیادت کی، جن میں 22 فتوحات، 10 شکست اور 8 میچ برابر رہے۔ انہوں نے 91 ون ڈے میچوں میں کپتانی کی، جن میں 46 فتوحات، 40 شکستیں اور ایک میچ ٹائی ہوا، جبکہ 75 ٹی ٹوئنٹی میچوں میں ان کی قیادت میں نیوزی لینڈ نے 39 میچ جیتے، 34 ہارے اور ایک میچ ٹائی رہا۔
ان کی قیادت میں نیوزی لینڈ نے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ جیتنے کے علاوہ 2016 کے ٹی20 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل، 2019 کے ون ڈے ورلڈ کپ کے فائنل، 2021 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فائنل، جبکہ 2022 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور 2023 کے ون ڈے ورلڈ کپ کے سیمی فائنلز تک رسائی حاصل کی۔

نیوزی لینڈ کے ہیڈ کوچ روب والٹر نے کہا کہ ’جس کسی کو بھی کین ولیمسن کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا، وہ جانتا ہے کہ وہ نہایت غیر معمولی کھلاڑی اور انسان ہیں۔ اگرچہ ہمارا ساتھ مختصر عرصے کا رہا، لیکن انہیں قریب سے کھیلتے اور ٹیم و کرکٹ کے بارے میں ان کے خیالات سنتے دیکھنا میرے لیے اعزاز کی بات تھی۔‘
’ان کے اعداد و شمار اور بیٹنگ صلاحیتیں خود ان کی عظمت کا ثبوت ہیں، لیکن بلیک کیپس اور عالمی کرکٹ کے لیے ان کی اہمیت ہی ان کی اصل میراث ہوگی۔ ٹیم کے کلچر اور معیار کو بہتر بنانے میں ان کا کردار ہمیشہ اس ٹیم کی شناخت کا حصہ رہے گا۔‘
’کین نے ہمیشہ ٹیم کو اپنی ذات پر ترجیح دی۔ اگرچہ ہمیں ان کے جانے کا افسوس ہے، لیکن ہمیں خوشی ہے کہ وہ اپنے فیصلے سے مطمئن اور پُرسکون ہیں۔ وہ ایک غیر معمولی کھلاڑی، بہترین ساتھی، شاندار قائد اور کرکٹ کے عظیم سفیر رہے ہیں۔‘
ولیمسن پہلے ہی اپنے بعد از کرکٹ کیریئر کی جانب پیش قدمی شروع کر چکے تھے۔ گزشتہ سال اکتوبر میں وہ آئی پی ایل فرنچائز لکھنؤ سپر جائنٹس کے سٹریٹجک مشیر مقرر ہوئے تھے۔