سکیورٹی پروٹوکول کی خلاف ورزی کا قصوروار میں ہوں، شاہین نہیں، سکندر رضا
منگل 31 مارچ 2026 9:32
سوشل ڈیسک -اردو نیوز
لاہورقلندرز نے سکیورٹی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے پر شاہین آفریدی پر 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔ (فوٹو: پی سی بی)
زمبابوے کے آل راؤنڈر سکندر رضا نے شاہین شاہ آفریدی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان پر عائد الزامات درست نہیں، اور اس معاملے کی اصل ذمہ داری ان پر خود عائد ہوتی ہے۔
ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق پنجاب پولیس کی جانب سے پاکستان سپر لیگ کے چیف ایگزیکٹو سلمان نصیر کو لکھے گئے ایک خط میں الزام لگایا گیا تھا کہ رضا اور شاہین نے ہفتے کی رات غیر متعلقہ افراد کو "زبردستی" رضا کے کمرے تک لے جانے میں مدد کی۔
رضا نے پولیس کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ’شاہین نے کسی پر کوئی زور نہیں ڈالا۔ میرے قریبی دوست اور اہلِ خانہ آئے تھے، اور میری درخواست پر شاہین نے انہیں اوپر میرے کمرے تک آنے میں مدد کی۔ اگر یہ ایس او پیز تھے کہ مہمانوں کو کمروں میں آنے کی اجازت نہیں، تو مجھے اس کا علم نہیں تھا، اور کسی حد تک شاہین کو بھی نہیں تھا۔ اس معاملے میں قصوروار میں ہوں، شاہین نہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنے دوستوں کو بزنس سینٹر میں ملنے کے بجائے کمرے میں ملنا چاہتے تھے،’ہم تقریباً 40 منٹ تک اوپر بیٹھے رہے۔‘
اتوار کو پولیس کا خط سوشل میڈیا پر لیک ہوا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ لاہور قلندرز کے کھلاڑیوں نے سکیورٹی پروٹوکول کی خلاف ورزی کی۔ خط کے مطابق، پی سی بی کے سکیورٹی اور اینٹی کرپشن مینیجرز اور سلمان نصیر کی جانب سے اجازت نہ ملنے کے باوجود، مہمانوں کو کمرے تک لے جایا گیا۔ خط میں یہ بھی کہا گیا کہ ملاقات تقریباً تین گھنٹے جاری رہی، جبکہ رضا نے ملاقات کی مدت 40 منٹ بتائی ہے۔
ای ایس پی این کرک انفو کی جانب سے سلمان نصیر سے رابطے کی کوشش تاحال کامیاب نہیں ہو سکی۔
لاہور قلندرز کے ذرائع نے واقعے کی بنیادی تفصیلات کی تصدیق کی ہے، تاہم انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ کسی کو زبردستی اندر لے جایا گیا۔
رضا نے مزید کہا ’ہم 19 سال سے دوست ہیں۔ میری فیملی بھی مجھ سے ملنے آتی ہے۔ میرے رشتہ دار یہاں رہتے ہیں اور مجھے سال بھر ان سے ملنے کا موقع نہیں ملتا۔ شاہین صرف میری درخواست پر نیچے گئے تھے۔ ہم نے پی سی بی کے چند افراد سے بھی درخواست کی تھی، باقی معاملے کا جائزہ لیا جائے گا۔ یہ میرا فیصلہ تھا، شاہین کا نہیں۔ میں خود لفٹ میں ان کے ساتھ تھا، اس لیے میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ کسی کو زبردستی نہیں لایا گیا۔‘
دوسری جانب لاہور قلندرز کے اعلامیے کے مطابق فرنچائز نے سکیورٹی کی خلاف ورزی پر ایکشن لیا اور ٹیم کے کپتان شاہین آفریدی پر 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ فیصلے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو آگاہ کردیا ہے۔
بیان کے مطابق فرنچائز نے معاملے کی اندرونی طور پر مکمل تحقیقات کی، ہوٹل میں واقعہ پیش آیا تھا اسے بڑھا چڑھا کر اور حقائق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔
لاہور قلندرز کے مطابق معاملہ کسی دانستہ خلاف ورزی کے بجائے ایک غلط فہمی کا نتیجہ تھا، یہ کارروائی احتساب اور ڈسپلن کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے، لاہور قلندرز سکیورٹی پروٹوکولز کا احترام کرتی ہے۔
