یہ سنہ 1932 کی بات ہے جب ریاست چترال کے حکمراں مہتر شجاع الملک فریضۂ حج کی ادائیگی کے لیے برٹش انڈیا سے بحری جہاز میں سعودی عرب روانہ ہوئے۔
بحری سفر میں بطور ’خادم الحجاج‘ ایک سعودی نوجوان محمد علی بن صالح بھی مہتر چترال اور ہندوستان کے برطانوی ریاستوں کے شاہی مہمانوں کے ساتھ موجود تھے۔
حج کے سفر کے دوران مذکورہ نوجوان مہتر چترال کے ساتھ رہے اور فریضۂ حج کی ادائیگی کے بعد انہی کے ساتھ انڈیا آ گئے۔
مزید پڑھیں
-
’گاؤں کی لڑکیاں آل راؤنڈر‘، چترال کی پہلی خاتون کرکٹرNode ID: 893088
سفرِ حج کے دورن چترال کے حکمراں اس سعودی نوجوان کی خدمت، رہنمائی اور صلاحیتوں سے بہت زیادہ متاثر ہوئے۔ یہی انہیں اپنے ساتھ لانے کہ وجہ بنی۔
چترال میں مہتر شجاع الملک نے اس سعودی نوجوان کی شادی کرائی۔ اس کے بعد وہ یہاں ایسے بسے کہ پھر انہیں آبائی وطن واپس جانے کا خیال ہی نہیں آیا۔ چترال میں محمد علی بن صالح کی اولاد بھی ہوئی۔
اس علاقے میں وہ ’عرب بابا‘ کے نام سے مشہور ہوئے اور چترال میں مٹھائیوں کی پہلی دکان کھولنے کا سہرا بھی انہیں کے سر ہے۔
محمد علی بن صالح المعروف عرب بابا کے واحد بقید حیات بیٹے صباح الدین المعروف قاسم کہتے ہیں کہ ان کے والد بتایا کرتے تھے کہ جب مہتر کے ساتھ وہ چترال آئے، اس وقت ان کی عمر بمشکل 20 سے 22 برس تھی۔
قاسم کے مطابق ’اس وقت سعودی عرب معاشی طور پر اتنا ترقی یافتہ نہیں تھا۔ ان دنوں سعودی باشندے بحری جہازوں پر ملازمت کرتے تھے اور حجاج کے ساتھ خدام کے طور پر رہتے تھے۔ وہ انڈیا اور دیگر علاقوں سے کچھ تجارتی سامان وغیرہ بھی لے جاتے تھے۔‘
’میرے والد بھی بحری جہاز پر کام کرتے تھے اور حج کے سیزن میں بطور خادم الحجاج کام کرتے تھے۔‘

صباح الدین کے مطابق ان کے والد بتایا کرتے تھے کہ حیدر آباد دکن کے شاہی خاندان کے فرد اس سال حج کے لیے آئے تھے۔ انہوں نے مکہ اور مدینہ میں دو ہزار روپے کا جبکہ مہتر چترال نے 500 روپے کا کھانا بھی زائرین کو کھلایا تھا۔
عرب بابا کے ایک پوتے نورالدین نے اردو نیوز کو بتایا کہ مہتر شجاع الملک ان کے دادا کو اپنے ساتھ چترال لائے اور محل میں رکھا۔
عرب بابا کا سعودی عرب میں آبائی علاقہ
نور الدین نے اردو نیوز کو بتایا کہ ان کے دادا کا گھر مکہ مکرمہ میں حرم شریف کے قریب تھا۔ بعد میں حرم شریف کی توسیع کے دوران ان کے گھر بھی اس کے اندر آ گئے۔ حکومت نے وہاں کے رہائشیوں کو العزیزیہ کے علاقے میں آباد کیا۔
نورالدین نے بتایا کہ ان کے والد نے 1987 میں سفر حج کے دوران اپنے خاندان کے افراد سے ملنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے۔
عرب بابا کی چترال میں شادی کی کہانی
مہتر چترال نے عرب بابا کی یہاں مقامی خاندان میں شادی کرا دی اور وہ چترال ٹاؤن کے علاقے گولدور میں آباد ہوئے۔
ان کی شادی جس خاندان میں ہوئی، ان سے عشق و محبت کی ایک مشہور داستاں بھی وابستہ ہے۔ اس داستاں کا حوالہ چترال کی لوک کہانیوں اور لوک گیتوں کا حصہ بھی بن چکا ہے۔
جس شخص کی بیٹی سے عرب بابا کی شادی ہوئی، ان کا تعلق نگر (گلگت) سے تھا۔ نام ہمایوں شاہ تھا۔
ہمایوں شاہ چترال میں متعین برٹش انڈیا کے انگریز حکام کے ساتھ بطور ملازم منسلک تھے۔
انہیں چترال کی اس وقت کی ایک نامور شخصیت اساقال عبد اللطیف کی بیٹی سے محبت ہو گئی تھی۔

چترال کے نامور محقق، مصنف اور دانشور پروفیسر ممتاز حسین کے مطابق اساقال عبد اللطیف بدخشاں کے امراء میں سے تھے جو وہاں کے انقلابات کے بعد چترال آ کر آباد ہو گئے تھے۔
پروفیسر ممتاز حسین کے مطابق’یہاں پر انہیں چترال کے گولدور محلے میں جائیداد دی گئی۔ عبداللطیف خوش شکل، خوش لباس اور مجلسی آدمی تھے۔ شطرنج کے کھیل میں انہیں مہارت حاصل تھی۔ اس وجہ سے مہتران کے ہاں ان کی قدر و منزلت تھی اور انہیں ’لال‘ کا درجہ حاصل تھا۔
لال معزز خاندانوں کے بااثر افراد کو کہتے تھے جو مہتر کی مجلسِ مشاورت (محرکہ) میں بیٹھنے کے اہل ہوتے تھے۔‘
چونکہ اساقال عبداللطیف اس وقت کے حکمراں خاندان کے بہت قریبی فرد تھے اور ان کے دربار میں انہیں نمایاں مقام حاصل تھا، اس لیے ان کی بیٹی سے ان کی شادی نہیں ہو سکتی تھی۔
مصنف اور شاعر گل نواز خاکی کی کتاب ’سورنک‘ کے مطابق اپنی محبت کو پانے کے لیے ہمایوں شاہ نے اساقال کی بیٹی کو بھگا کر شادی کا فیصلہ کیا۔ وہ اپنی محبوبہ کو لے کر گلگت کی طرف جا رہے تھے تو ریاستی حکام نے اپر چترال کے علاقے زئیت میں ان کو پکڑ لیا اور واپس چترال لے آئے۔
’ریاستی حکام کی حراست میں ان پر بہت زیادہ تشدد کیا گیا تاہم جب انگریزوں کو ان کی گرفتاری کا پتہ چلا تو انہوں نے مداخلت کرکے ان کو چھڑا لیا۔‘
بعد میں انگریزوں نے ان کی شادی ان کے محبوبہ سے ہی کرا دی۔
ان کی محبت کی کہانی لوک داستاں بن گئی۔ ان کی بیٹی سے بعد میں مہتر چترال نے عرب بابا کی شادی کرائی۔

عرب بابا کی اولاد
اس شادی سے عرب بابا کی تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہوئیں۔ ان کی ایک بیٹی اور دو بیٹے فوت ہو چکے ہیں جبکہ ایک بیٹا صباح الدین المعروف قاسم اور ایک بیٹی اب بھی بقید حیات ہیں۔
عرب بابا کا بیٹا جس نے پاکستان کے لیے جنگیں لڑیں
محد علی بن صالح کے پوتے نور الدین نے اردو نیوز کو بتایا کہ میرے والد اور عرب بابا کے منجھلے بیٹے محمد نصیر الدین نے پاکستانی فوج میں خدمات انجام دیں۔ ’میرے والد پاکستانی فوج میں رہے اور 1965 اور 1971 کی جنگوں میں بھی حصہ لیا۔ فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد وہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن میں بطور ڈرائیور بھرتی ہوئے۔‘
نورالدین نے بتایا کہ ان کے دادا مہتر چترال شجاع الملک سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے۔ مہتر بھی ان کا خیال رکھتے تھے اور ان کا وظیفہ بھی مقرر کیا تھا۔
’جب 1936 میں مہتر شجاع الملک کا انتقال ہوا تو میرے دادا دلبرداشتہ ہوئے اور چترال چھوڑ کر واپس انڈیا چلے گئے۔ وہ انڈیا میں تقریباً تین چار سال گزار کر مٹھائی بنانے کا کام سیکھ کر واپس چترال آئے اور انہوں نے اس ضلعے میں مٹھائی کی پہلی دکان کھولی۔‘
ایک سوال پر نورالدین نے بتایا کہ ’میرے دادا کے بھائی قیامِ پاکستان سے قبل ایک مرتبہ چترال آئے تھے لیکن اس دوران میرے دادا انڈیا میں تھے۔‘
عرب بابا کا حج
نور الدین نے بتایا کہ ان کے دادا 1987 میں حج کے لیے گئے۔ اس دوران مکہ میں ایک دکان دار سے ان کی ملاقات ہوئی جو کہ ان کے خاندان کے افراد کو جانتے تھے۔
نورالدین کے مطابق اس دکان دار نے کہا کہ وہ ایک آدھ دن بعد آئیں تو وہ ان کے خاندان کے افراد سے ان کی ملاقات کرا دے گا۔

’تاہم دادا نے انتظار نہیں کیا اور خاندان سے ملے بغیر واپس آ گئے۔ اس وقت وہ دکان کا پتہ لے آئے تھے۔ بعد میں وہ ایڈریس بھی کہیں کھو جانے کی وجہ سے خاندان سے رابطے کی امیدیں بھی دم توڑ گئیں۔‘
نور الدین کے مطابق ان کی چچی بتایا کرتی ہیں کہ بعد میں ایک اور عرب شہری چترال آ گئے تھے اور وہ مسجد میں ٹھہرے ہوئے تھے جہاں سے ان کے دادا انہیں اپنے گھر لے آئے۔ ’وہ عرب باشندے بیمار تھے اور اس بیماری کی وجہ سے فوت ہو گئے۔ ان کی قبر چترال میں موجود ہے۔‘
ایک سوال کے جواب میں نورالدین نے بتایا کہ جنرل ضیاءالحق کے زمانے میں جب ان کے والد پی آئی اے کے ڈرائیور تھے تو پاکستان میں سعودی سفارت خانے سے کچھ لوگ چترال آئے ۔’ایئرپورٹ پر کسی نے سعودی سفارت کار کو والد کا بتایا کہ سعودی شہری کا بیٹا ہے۔‘
’اس سفارت کار نے والد سے کہا کہ وہ چترال سے اس وقت کے سینیٹر شہزادہ برہان الدین، علماء اور ڈی سی سے اپنے سعودی نژاد ہونے کی تصدیقی اسناد لے کر اسلام آباد ایمبیسی آ جائیں۔ کچھ عرصے بعد والد صاحب مذکورہ دستاویزات لے کر سعود ایمبیسی گئے تو مذکورہ سفارت کار کا تبادلہ ہو چکا تھا۔ یوں سعودی عرب میں اپنے خاندان کے افراد کو ڈھونڈنے کی ان کی کاوشیں کامیاب نہ ہوسکیں۔‘












