سعودی فیشن لیبل ھندام اور آرٹس العلا کے مدرستہ الدیرہ کے درمیان ایک نئی شراکت داری قائم ہوئی ہے جو محدود ایڈیشن کی کلیکشن سے مملکت کے قدیم ورثے کو نئے ڈیزائن میں ڈھال رہے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق العلا کی سات ہزار سالہ انسانی تاریخ اور وہاں کے شاندار قدرتی مناظر سے متاثر یہ کلیکشن روایتی دستکاری کے ساتھ جدید فیشن کو ملا رہی ہے۔
سعودی کری ایٹیو محمد خوجہ کے ڈیزائن کردہ اور مدرسہ الدیرہ کے آرٹس ہب کے 26 سے زائد ماہر دستکاروں کی جانب سے تخلیق کی گئی یہ کلیکشن عبایا اور شرٹس کی ورائٹی فراہم کرتی ہے۔
مزید پڑھیں
-
’روشن دریافتیں‘: العلا نمائش میں سلطنت دادان کی قدیم میراث اجاگرNode ID: 903238
ہر پِیس العلا کی شناخت کو ظاہر کرتا ہے جو تاریخ میں تہذیب کا گہوارا رہی ہے۔ ان میں قدیم پتھروں پر نقش و نگار سے متاثر موٹف لگائے گئے ہیں جنہیں ریجن میں ڈھونڈا جا سکتا ہے۔
ان میں جبل عکمہ کا حوالہ بھی ملتا ہے جو دادانی اور لحیانی متن کا ایک کھلا آرکائیو ہے اور اس کا تعلق قبل مسیح کے پہلے ہزار سال سے ہے۔
ان تاریخی عناصر کو مقامی پودوں اور جانوروں جیسے مورنگا کے پودے اور عربی اوریکس کی تصویروں کے ساتھ جوڑا گیا ہے جس سے ثقافتی اور قدرتی ورثہ پہناوے کی شکل اختیار کر گیا ہے۔
مدرسہ الدیرہ العلا الجدیدہ آرٹس ڈسٹرکٹ میں واقع ہے جو اس پروجیکٹ میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ جگہ کبھی خطے کا پہلا لڑکیوں کا سکول ہوا کرتی تھی جو اب آرٹس اور ڈیزائن سینٹر بن چکا ہے جو روایتی فن پاروں کو محفوظ کرنے اور ان کے ارتقاء کے لیے مختص ہے۔

رائل کمیشن فار العلا کے ڈائریکٹر آف آرٹس اور کری ایٹیو انڈسٹریز حماد الحمیدان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’العلا تخلیق اور الہام کا ذریعہ رہا ہے۔ اس کلیکشن سے اس کے وراثتی مقامات اور قدرتی نظاروں کو نئی زندگی مل گئی ہے۔‘
یہ پروجیکٹ خوجہ اور العلا کی جاری شراکت کا حصہ ہے۔ اس سے قبل 2019 میں انہوں نے العلا سے متاثر ایک کلیکشن پیش کی تھی جسے سعودی عرب کے نیشنل میوزیم میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا تھا۔
ڈیزائنر سمجھتے ہیں کہ حالیہ شراکت داری اس رابطے کو مزید گہرا کر دے گی۔
خوجہ کہتے ہیں کہ ’میں ہمیشہ سے العلا سے بہت اچھی طرح متاثر ہوا ہوں۔ یہ ایسی جگہ ہے جہاں تاریخ زندہ رہتی ہے اور گہرے طور پر موجود رہتی ہے۔ اس کلیکشن کا مقصد یہ ہے کہ ورثہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے ہم شیشے کے پیچھے محفوظ کرتے ہیں بلکہ یہ وہ چیز ہے جو وقت کے ساتھ بڑھتی ہے، جسے ہم پہنتے ہیں اور آگے لے کر چلتے ہیں۔‘












