Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جنگلی حیات سے دوستی کی مثال، چترالی بچے نے نایاب زخمی پرندہ کیسے بچایا؟

مرغ زریں جنگلات میں اپنا آشیانہ بناتا ہے (فوٹو: محکمہ جنگلی حیات، چترال)
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چترال کے ایک دور افتادہ گاؤں میں سکول کے ایک طالب علم نے جنگلی حیات سے دوستی کی مثال قائم کی ہے جو ماحولیاتی شعور کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
چترال کے علاقے شیشی کوہ سے تعلق رکھنے والے طالب علم سیف اللہ نے برف سے ڈھکے جنگل میں زخمی حالت میں ملنے والے نایاب پرندے مرغِ زرّیں (Pheasant) کو بروقت ریسکیو کر کے اس کی جان بچا لی۔
مقامی افراد کے مطابق سیف اللہ کو برف سے ڈھکے جنگل میں زخمی پرندہ دکھائی دیا تو اس نے جنگلی حیات سے دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے احتیاط کے ساتھ جنگلی پرندے کو قابو کیا اور اسے برف سے نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ 
محکمہ وائلڈ لائف لوئر چترال کے رینج آفیسر شفیق احمد نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’سکول کے بچے نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے نایاب پرندے کو نہ صرف برف سے ریسکیو کیا بلکہ فوری طور پر وائلڈ لائف کی ٹیم کو بھی آگاہ کیا۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’محکمہ جنگلی حیات کے اہل کاروں نے اطلاع ملتے ہی مرغ زریں کو دروش ویٹرنری ہسپتال منتقل کیا جہاں پرندے کو طبی امداد فراہم کی گئی ۔‘

پرندے کی مکمل صحت یابی کے بعد اسے جنگل میں چھوڑ دیا جائے گا (فوٹو: محکمہ جنگلی حیات)

رینج آفیسر شفیق احمد کے مطابق موسمِ سرما میں برف باری کے بعد جنگلی حیات پہاڑوں سے نیچے آ جاتی ہے۔ مرغ زریں بھی خوراک کی تلاش میں آبادی کے قریب آیا  تھا تاہم وہ پاؤں پر زخم کی وجہ سے چلنے پھرنے سے قاصر تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ ’بچے نے حاضر دماغی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرندے کو فوری ریسکیو کیا ورنہ پرندے کی جان بھی جا سکتی تھی۔‘
’مرغ زریں کی حالت اس وقت خطرے سے باہر ہے تاہم اسے کچھ روز کے لیے زیرنگرانی رکھا گیا ہے۔ پرندے کی مکمل صحت یابی کے بعد اسے جنگل میں چھوڑ دیا جائے گا۔‘
سیف اللہ کے اس اقدام کو ڈی ایف او وائلڈ لائف نے بھی سراہا اور بچے کو جلد خصوصی انعام دینے کا اعلان کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’طالب علم نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر جنگلی پرندے کی جان بچائی جو ایک ذمہ دار اور باشعور شہری ہونے کا ثبوت ہے۔‘
دوسری جانب چترال کے شہریوں کی جانب سے سیف اللہ کے لیے نقد انعامات کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ حکومت سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ قیمتی پرندے کی جان بچانے پر بچے کے لیے انعام کا اعلان کیا جائے۔   
مرغ زریں کہاں پائے جاتے ہیں؟
مونال فیزنٹ یا مرغ زریں ایک جنگلی پرندہ ہے جو اپنے دلفریب رنگوں اور سر پر تاج کی وجہ سے منفرد حیثیت رکھتا ہے۔

چترال کے شہریوں کی جانب سے سیف اللہ کے لیے نقد انعامات کا اعلان کیا گیا ہے (فائل فوٹو: ورلڈ فیزنٹ ایسوسی ایشن)

یہ نایاب پرندہ دیودار کے جنگلات میں اپنا آشیانہ بناتا ہے اور یہ پودوں کی جڑیں، شاخیں، بیچ اور کیڑے مکوڑے کھاتا ہے۔ 
مرغ زریں پاکستان میں گلگت بلتستان، چترال، سوات، کشمیر اور اسلام آباد کے عقب میں واقع مارگلہ کی پہاڑیوں میں پائے جاتے ہیں۔
محکمہ وائلڈ لائف کے مطابق غیرقانونی شکار، جنگلات کی کٹائی اور بے ہنگم آبادی کی وجہ سے مرغ زریں کی نسل کو خطرات کا سامنا ہے۔

شیئر: