Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آسٹریلیا نے بی ایل کے کے تین رہنماؤں پر دہشت گردی میں ملوث ہونے پر مالی پابندیاں لگا دیں

آسٹریلیا نے بلوچ لبریشن آرمی(بی ایل اے) اور اس کے تین رہنماؤں پر دہشت گرد حملوں میں ملوث ہونے اور ان کی حمایت کرنے کے الزام میں مالی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
آسٹریلیا کی وزیر خارجہ پینی وونگ  کی جانب سے بدھ کو سرکاری ویب سائٹ پر جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ بی ایل اے کی جانب سے پاکستان میں عام شہریوں، سکیورٹی فورسز، بنیادی ڈھانچے، غیر ملکی شہریوں اور پاکستانی ریاست پر حملوں کے باعث کیا گیا ہے۔ 
آسٹریلوی حکومت کے مطابق یہ پابندیاں دہشت گردوں کے مالی ذرائع کو روکنے میں مددگار ثابت ہوں گی تاکہ ان کے لیے کارروائیوں کی فنڈنگ، بھرتی اور نقصان دہ نظریات کے پھیلاؤ کو مشکل بنایا جا سکے۔
آسٹریلیا نے کہا ہے کہ اس کا دہشت گردی اور پرتشدد انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کا عزم مضبوط ہے اور  وہ اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ان نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے کام کرتا رہے گا جو اس کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ 
آسٹریلوی حکومت نے بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب بلوچ، حمل ریحان بلوچ اور جئیند بلوچ کو بھی کنسولیڈیٹڈ لسٹ میں شامل کیا ہے۔ یہ آسٹریلیا کی پابندیوں کی مرکزی فہرست ہے  جس میں ان افراد اور اداروں کے نام شامل ہوتے ہیں جن پر مالی پابندیاں، سفری پابندیاں، اسلحہ کی پابندیاں یا بحری پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
آسٹریلوی قانون کے مطابق بی ایل اے اور اس سے وابستہ تین افراد سے مالی معاونت اب جرم ہوگی اور اس کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانہ اور دس سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
 بشیر زیب کالعدم بلوچ بلوچ لبریشن آرمی کے موجودہ سربراہ ہیں۔ وہ اسلم بلوچ کے بعد اس علیحدگی پسند مسلح تنظیم کے سربراہ بنے ہیں۔ ماضی میں وہ اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن (آزاد )کے چیئرمین رہ چکے ہیں۔ ان کا تعلق نوشکی سے ہے اور بلوچستان حکومت نے ان کے سر کی بھاری قیمت مقرر کر رکھی ہے۔
امریکی تھنک ٹینک جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق  حمل ریحان بی ایل اے کے خودکش دھڑے مجید بریگیڈ کے آپریشنل چیف ہیں اور خودکش حملوں کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد کے لیے ذمہ دار ہیں۔ جبکہ جئیند بلوچ تنظیم کے ترجمان اور فیلڈ کمانڈر کے طور پر جانے جاتے ہیں اور میڈیا و پروپیگنڈا حکمتِ عملی سنبھالتے ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی ملک نے بی ایل اے پر پابندی لگائی ہو۔ برطانیہ نے 2006 میں اسے دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا جبکہ امریکہ نے 2019 میں بی ایل اے اور 2025 میں اس کے خودکش دھڑے مجید بریگیڈ کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔
بلوچ لبریشن آرمی گزشتہ دو دہائیوں سے بلوچستان میں مسلح کارروائیاں کر رہی ہے۔ 2018 کے بعد اس کے خودکش دھڑے مجید بریگیڈ نے حملوں میں تیزی لائی۔ رواں سال 31 جنوری کو بی ایل اے نے بلوچستان کے بارہ سے زائد شہروں میں بیک وقت حملے کیے تھے جن میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔
گزشتہ سال بولان میں جعفر ایکسپریس مسافر ٹرین کو ہائی جیک کرنے کے واقعے میں بھی تیس سے زائد افراد جان سے گئے تھے۔ بی ایل اے بلوچستان میں سکیورٹی فورسز، معدنیات کی کانوں، اہم سرکاری تنصیبات ، چینی باشندوں ، کراچی ایئرپورٹ اور گوادر پورٹ پر حملوں سمیت سینکڑوں بڑے اور مہلک حملوں میں ملوث رہی ہے اور ان کے حملوں میں سینکڑوں افراد مارے جاچکے ہیں۔
پاکستان نے بی ایل اے کو 2006 میں کالعدم قرار دیا تھا ۔فروری 2026 میں اسلام آباد نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا تھا کہ بی ایل اے کو عالمی سطح پر دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے۔
جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق بی ایل اے اپنی فنڈنگ کے لیے بیرون ملک مقیم میں مقیم بلوچ ڈائسپورا پر بھی انحصار کرتا ہے۔ یہ فنڈز حوالہ اور ہنڈی جیسے غیر رسمی نیٹ ورکس کے ذریعے منتقل کیے جاتے ہیں ۔ 
پاکستانی حکومت کا دعویٰ ہے کہ  مقامی سطح پر بھتہ خوری، اغواء برائے تاوان جیسے غیر قانونی ذرائع سے آمدن کے علاوہ بی ایل اے کو بھارتی خفیہ اداروں سے مالی اور تکنیکی مدد ملتی ہے تاہم بھارت اس کی تردید کرتا رہا ہے۔

شیئر: