Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے کی امریکی تجویز پر جواب آج متوقع ہے: امریکی وزیرخارجہ

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ کو جمعہ کے روز ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے دی گئی امریکی تجویز پر جواب موصول ہونے کی توقع ہے۔
عرب نیوز کے مطابق مارکو روبیو نے جمعہ کو روم میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم دیکھیں گے کہ جواب میں کیا شامل ہے۔ امید ہے کہ یہ ایسا جواب ہوگا جو ہمیں سنجیدہ مذاکرات کے عمل کی طرف لے جائے گا۔‘
امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ’ہمیں آج کچھ نہ کچھ معلوم ہو جانا چاہیے۔ مجھے امید ہے کہ یہ ایک سنجیدہ پیشکش ہوگی۔ واقعی مجھے یہی امید ہے۔‘
ان کے یہ بیانات اٹلی اور ویٹی کن کے دورے کے دوسرے دن سامنے آئے، جسے ایران میں امریکہ-اسرائیل جنگ کے حوالے سے گزشتہ ہفتوں میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد تعلقات بہتر بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان عارضی جنگ بندی معاہدہ پر جمعہ کو مزید دباؤ اس وقت آیا جب متحدہ عرب ٓمارات نے ایک میزائل اور ڈرون حملے پر ردعمل دیا، چند گھنٹوں بعد جب امریکہ نے کہا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں اپنے تین بحری جہازوں پر حملے ناکام بنا دیے اور ایرانی فوجی تنصیبات پر جوابی کارروائی کی۔
روبیو نے کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک ادارہ قائم کرنے کی مبینہ منصوبہ بندی ’ناقابلِ قبول‘ ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تہران نے امریکی بحری جہازوں پر حملہ کیا تو ’انہیں تباہ کر دیا جائے گا۔‘
روم اور ویٹی کن کے دورے کے اختتام پر صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے روبیو نے ایران جنگ اور امریکی صدر کی جانب سے پوپ لیو پر تنقید کے حوالے سے پیدا ہونے والے اختلافات پر بھی بات کی۔
جب ان سے ایک شپنگ ڈیٹا کمپنی کی رپورٹ کے بارے میں پوچھا گیا، جس میں کہا گیا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی نگرانی اور ٹیکس وصولی کے لیے ایک سرکاری ادارہ قائم کیا ہے، تو انہوں نے جواب دیا کہ ’کیا دنیا یہ قبول کرے گی کہ اب ایران ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ کو کنٹرول کرے؟‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’دنیا اس کے بارے میں کیا کرنے کے لیے تیار ہے؟‘
انہوں نے تہران کو خطے میں امریکی بحری اثاثوں پر حملوں سے بھی خبردار کیا۔
امریکہ نے کہا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں اپنے تین بحری جہازوں پر حملے ناکام بنائے۔
روبیو نے کہا کہ ’سرخ لکیر واضح ہے۔ اگر وہ امریکیوں کو دھمکائیں گے تو انہیں تباہ کر دیا جائے گا۔‘
ان کے بیان کا لہجہ صدر ٹرمپ کے مؤقف سے مختلف تھا، جنہوں نے امریکی بحریہ کے ڈسٹرائرز پر حملوں کو ’معمولی بات‘ قرار دیا تھا۔

شیئر: