Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کورونا وائرس کے بعد ہنٹا وائرس: نئی وبا سے عام افراد کے متاثر ہونے کا کتنا خدشہ ہے؟

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ ’عوام میں مہلک ہنٹا وائرس پھیلنے کا خطرہ بہت کم ہے‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ لگژری کروز ہونڈیئس کے ذریعے عوام میں مہلک ہنٹا وائرس پھیلنے کا خطرہ بہت کم ہے، کیونکہ یہ صرف انتہائی قریبی رابطے سے پھیلتا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ایم وی ہونڈیئس کروز پر وبا کے پھیلنے اور پھر سپین کے جزیرے ٹینیرائف کی جانب اس کے بڑھنے سے بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر پیدا ہوئی ہے۔
اس وبا کے ذریعے اب تک جہاز کے تین مسافروں کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، عالمی ادارۂ صحت نے جمعرات کو بتایا تھا کہ ہنٹا وائرس کے مجموعی طور پر پانچ تصدیق شدہ جبکہ تین مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت کے ترجمان کرسچیئن لِنڈمیئر نے جمعے کو جنیوا میں نیوز بریفنگ کے دوران بتایا کہ یہ ایک خطرناک وائرس ہے لیکن صرف اس شخص کے لیے جو واقعی متاثرہ ہو جبکہ عام آبادی کے لیے اس کا خطرہ بہت کم ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہاں تک کہ ایسے افراد جو ایم وی ہونڈیئس پر ایک متاثرہ شخص کے ساتھ ایک ہی کیبن میں رہ چکے ہیں، وہ بعض معاملات میں متاثر نہیں ہوئے۔
ترجمان ڈبلیو ایچ او نے واضح کیا کہ یہ کوئی نیا کووِڈ (کورونا وائرس) نہیں ہے۔۔۔ اور یہ وائرس کسی طرح بھی اس رفتار سے نہیں پھیل رہا جس طرح کورونا وائرس پھیلا تھا۔
’یہ خسرے کے قریب کوئی بیماری نہیں ہے، انہوں نے اصرار کرتے ہوئے کہا کہ ہنٹا وائرس عام طور پر کھانسی یا زُکام کی طرح انسانوں میں سانس کے ذریعے نہیں پھیلتا۔‘
انہوں نے کہا کہ مسافر بردار بحری جہاز (کروزشپ) کے مریضوں سے رابطے میں آنے والے ہر فرد کا سراغ لگایا جا رہا ہے اور طیاروں اور جہازوں کی نشستوں کی فہرستیں دیکھی جا رہی ہیں۔‘

ترجمان عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ’ہنٹا وائرس اس رفتار سے نہیں پھیل رہا جس طرح کورونا پھیلا تھا‘ (فائل فوٹو: اے ایف پی)

’اس کے علاوہ مسافروں اور جہاز کے عملے کی نقل و حرکت کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ وہ کہاں کہاں گئے اور کون سے افراد کے ساتھ قریبی رابطے میں رہے۔‘
ماہرین کہتے ہیں کہ ہنٹا وائرس بنیادی طور پر چوہوں میں پایا جاتا ہے، لیکن یہ انسانوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے اور فلو جیسی علامات، پھیپھڑوں کے سنڈروم اور سانس کی تکلیف کا سبب بن سکتا ہے۔
واضح رہے کہ کروز ہونڈیئس یکم اپریل کو ارجنٹائن سے کیپ وردے کی طرف جا رہا تھا اور اب یہ سپین کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ جہاز راستے میں کئی دُوردراز کے جزائر پر بھی رُکا۔
جو افراد ہنٹا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں اُن کا برطانیہ، جرمنی، ہالینڈ، سوئٹزرلینڈ اور جنوبی افریقہ میں علاج کیا جا رہا ہے۔
ڈبلیو ایچ اور کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایک ڈچ فلائٹ اٹینڈنٹ جو مبینہ طور پر لگژری کروز میں موجود ایک بیمار مسافر کے قریبی رابطے میں آئی تھی اور وہ مسافر خاتون بعد میں ہلاک ہو گئی تھی، تاہم اُس فلائٹ اٹینڈنٹ کا وائرس ٹیسٹ منفی آیا۔

شیئر: