سڑکوں کی دھلائی، سخت سکیورٹی اور پہلی ایئرایمبولنس سروس کا افتتاح، بلاول بھٹو کے دورہ کوئٹہ میں کیا خاص ہوا؟
جمعہ 15 مئی 2026 18:33
زین الدین احمد، اردو نیوز، کوئٹہ
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جمعہ کو کوئٹہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے صوبے میں صحت کے شعبے سے متعلق گیارہ منصوبوں کا افتتاح کیا۔ ان منصوبوں میں بلوچستان کی پہلی سرکاری ایئر ایمبولینس سروس، بینظیر ایمبولینس سروس اور جدید ٹراما سینٹر شامل ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری جعمے کی دوپہر کو کوئٹہ پہنچے جہاں ایئرپورٹ پر وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، صوبائی وزرا، اراکین اسمبلی اور پارٹی رہنماؤں نے ان کا استقبال کیا۔ پیپلز پارٹی کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات شازیہ مری بھی دورے میں پارٹی چیئرمین کے ساتھ تھیں جن کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کے دوران روا رکھے گئے رویے پر بلاول بھٹو زرداری تنقید اور سوشل میڈیا میں زیر بحث ہیں۔
دورے کے موقع پر سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے۔ ایئرپورٹ سے لے کر وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ اور سپنی روڈ پر ٹراما سینٹر تک سڑکوں کو ٹریفک کے لیے بند رکھا گیا جبکہ سینکڑوں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے۔ بلاول بھٹو کی سکیورٹی پر مامور ذاتی اور سرکاری ٹیمیں دو روز قبل ہی کوئٹہ پہنچ چکی تھیں اور اہم مقامات کی نگرانی انہی کے سپرد تھی۔
تقریب کے شرکا کی خصوصی فہرستیں پہلے سے مرتب کی گئی تھیں جن میں ناموں کی تصدیق کے بعد ہی شرکاء اور میڈیا کے نمائندوں کو داخلے کی اجازت دی گئی۔
سڑکوں کی بندش کی وجہ سےشہر میں ٹریفک کی روانی متاثر اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
بلاول بھٹو زرداری کی آمد سے قبل کوئٹہ میں زرغون روڈ، سپنی روڈ سمیت مختلف سڑکوں کو پانی سےدھویا گیا جس کی شہریوں نے ویڈیوز بناکر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر شیئر کیا کہ انہوں نے پہلی بار کوئٹہ میں سڑکوں کو پانی سے دھلتے ہوئے دیکھا۔
بلاول بھٹو نے وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ میں ہونے والی افتتاحی تقریب میں شرکت کی جہاں انہوں نے بلوچستان میں صحت کے شعبوں سے متعلق گیارہ منصوبوں کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے بلوچستان کے مختلف اضلاع سے آنے والے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں سے خطاب کیا۔
انہوں نے بلوچستان میں امن وامان اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق ایک اجلاس کی صدارت بھی کی جس میں انہیں وزیراعلیٰ، صوبائی وزراء، چیف سیکریٹری بلوچستان اور آئی جی پولیس نے بریفنگ دی۔
انہوں نے کوئٹہ کے نواحی علاقے ازاں سپنی روڈ پر قائم جدید ٹراما ایمرجنسی اینڈ رسپانس انسٹیٹیوٹ کا دورہ کر کے اس کا افتتاح کیا اور مختلف شعبوں کا جائزہ بھی لیا۔
تقریب سے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ دو سال کے کم عرصے میں وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی حکومت نے صحت کے شعبے میں جتنا کام کیا ہے اس سے وہ متاثر ہوئے ہیں انہوں نے امید سے بڑھ کر کام کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ معیاری اور مفت علاج ہر شہری کا حق ہے اور یہ پیپلز پارٹی کی ترجیح ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں صحت کے نظام کی بہتری کے لیے سندھ حکومت نے بھی تعاون کیا جبکہ اب سندھ حکومت بلوچستان کے ڈیجیٹل اور اے آئی پر مبنی شفاف بھرتی نظام سے استفادہ کرے گی۔
بلاول بھٹو نے اپنی تقریر میں سرفراز بگٹی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ پانچ سالہ مدت پوری اور ترقیاتی منصوبے مکمل کرینگے۔
اس طرح بظاہر یہ بات اس تاثر کو رد کرنا ہوسکتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت سرفراز بگٹی کی قیادت میں بلوچستان میں قائم پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت سے خوش نہیں یا یہ تاثر کہ انہیں ن لیگ کے ساتھ اڑھائی سالہ شراکت اقتدار کے معاہدے کے تحت عہدہ سے ہٹایا جارہا ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین کی جانب سے جن منصوبوں کا افتتاح کیا گیا ان میں سب سے نمایاں بلوچستان کی پہلی سرکاری ایئر ایمبولینس سروس ہے جس کا مقصد کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بلوچستان کے دور دراز اضلاع سے مریضوں کو فوری طور پر کوئٹہ یا کراچی منتقل کرنا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی خاص بات یہ ہے کہ نیا جہاز خریدنے کے بجائے سرکاری فضائی بیڑے میں موجود ایک طیارے کو اپ گریڈ کر کے ایئر ایمبولینس میں تبدیل کیا گیا جس سے اخراجات میں نمایاں بچت ہوئی۔ یہ طیارہ وینٹی لیٹر، آکسیجن سسٹم، مانیٹرنگ مشینوں اور نوزائیدہ بچوں کے لیے انکیوبیٹر سمیت جدید طبی سہولیات سے لیس ہے اور دو بستروں پر مشتمل ہے۔
سیکریٹری صحت بلوچستان مجیب پانیزئی نے اردو نیوز کو بتایا کہ کسی بڑے واقعہ یا ہنگامی حالات میں یہ سروس مفت فراہم کی جائے گی جبکہ عام شہری بھی رعایتی نرخوں پر اپنے مریضوں کو دوسرے اضلاع سے کوئٹہ یا کراچی منتقل کر سکیں گے۔ ان کے مطابق یہ چھوٹا سیسنا طیارہ ماضی میں پولیس کے زیر استعمال تھا جسے اب ایئرایمبولنس میں تبدیل کیا گیا ہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب رہا تو نئے طیارے خرید کر شامل کیے جائیں گے۔
اسی طرح بینظیر ایمبولینس سروس کا آغاز بھی کیا گیا جس کے تحت صوبے کے 10 اضلاع میں کنٹرول مراکز اور جدید ایمبولینسز فراہم کی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق یہ سروس خاص طور پر حاملہ خواتین، حادثات کے زخمیوں اور تشویشناک مریضوں کو بروقت ہسپتال پہنچانے کے لیے شروع کی گئی ہے جبکہ سو سے زائد عملے کو لاہور کی ریسکیو 1122 اکیڈمی میں خصوصی تربیت دی گئی ہے۔
بلاول بھٹو نے کوئٹہ کے علاقے سپنی روڈ پر 150 بستروں پر مشتمل جدید ٹراما سینٹر کا بھی افتتاح کیا، جہاں حادثات، دھماکوں اور دیگر ہنگامی حالات میں فوری علاج کی سہولیات دستیاب ہوں گی۔ اس مرکز میں آئی سی یو، آپریشن تھیٹرز اور جدید تشخیصی سہولیات قائم کی گئی ہیں۔
دیگر منصوبوں میں کوئٹہ کے علاقے نواں کلی میں قائم 50 بستروں پر مشتمل باچا خان میموریل ہسپتال، 164 بنیادی صحت مراکز کی بحالی، سرکاری ملازمین کے لیے ہیلتھ انشورنس پروگرام، حفاظتی ٹیکہ جات کا نظام، صوبے کے دور دراز اضلاع میں چائلڈ لائف ایمرجنسی سروسز کی توسیع، ہیلتھ ڈیجیٹلائزیشن یونٹ، پیپلز ویلفیئر پروگرام اور ڈرگ ریزسٹنٹ ٹی بی مراکز کا قیام شامل ہیں۔