نریندر مودی ابوظبی پہنچ گئے، آبنائے ہُرمز کو ’کھلا رکھنے اور محفوظ بنانے‘ کا مطالبہ
انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے متحدہ عرب امارات کے دورے کے دوران آبنائے ہُرمز کو ’کھلا رکھنے اور محفوظ بنانے‘ کا مطالبہ کیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق انڈین وزیراعظم پانچ ممالک کے دورے کے پہلے مرحلے میں جمعے کو متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی پہنچے۔
متحدہ عرب امارات کی فضائی حدود میں داخل ہونے پر انڈین وزیراعظم نریندر مودی کے جہاز کو اماراتی فوجی طیاروں نے اپنے حصار میں لے لیا۔
بعدازاں انہیں ’گارڈ آف آنر‘ پیش کیا گیا اور نیدرلینڈز روانگی سے قبل انہوں نے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات بھی کی۔
اماراتی صدر سے گفتگو میں نریندر مودی نے کہا کہ ’میں اپنے دوسرے گھر آیا ہوں، جو کہ 45 لاکھ انڈین شہریوں کا گھر بھی ہے۔‘ انہوں نے اماراتی فضائیہ کی جانب سے استقبال کو اپنے لیے ایک ’اعزاز‘ قرار دیا۔
آبنائے ہُرمز کے ذریعے خلیجی ممالک کے ایندھن کی ترسیل کے راستوں میں رکاوٹوں نے تیل اور گیس کی منڈیوں کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔
اس سے انڈیا جیسے توانائی درآمد کرنے والے ممالک پر دباؤ بڑھ رہا ہے، اور وہ (انڈیا) جمعے کو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کرنے پر مجبور ہو گیا۔
انڈین وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کی گئی ایک ویڈیو میں نریندر مودی کا کہنا تھا کہ ’آبنائے ہُرمز کو کھلا رکھنا اور محفوظ بنانا ہماری اولین ترجیح ہے، اور اس معاملے میں بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ضروری ہے۔‘
ابوظبی نیشنل آئل کمپنی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’اس دورے کے دوران انڈیا میں متحدہ عرب امارات کے خام تیل کے ذخیرے کی صلاحیت کو 30 ملین بیرل تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔‘
’اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ پر انڈیا کے سٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو کے حصے کے طور پر خام تیل کو ذخیرہ کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔‘
واضح رہے کہ انڈیا، دنیا میں تیل کا تیسرا سب سے بڑا خریدار ہے، انڈیا عام طور پر اپنی ضرورت کا نصف خام تیل آبنائے ہُرمز کے ذریعے حاصل کرتا ہے، تاہم اس اہم آبی گزرگاہ کو ایران نے 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے بند کر رکھا ہے۔
انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعے کو ’ایکس‘ پر ایک بیان میں کہا کہ ’اس دورے سے انڈیا کی توانائی کی سکیورٹی میں اضافہ ہوا ہے۔‘
نریندر مودی پانچ ملکی دورے کے دوران سویڈن، ناروے اور اٹلی بھی جائیں گے، ان کا یہ دورہ انڈیا کی اقتصادی اور سٹریٹجک شراکت داری کو متنوع بنانے کی وسیع تر کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔
اس دورے کا بنیادی مقصد ٹیکنالوجی، گرین انرجی، سیمی کنڈکٹرز، مصنوعی ذہانت اور دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا ہے، جس سے انڈیا خود کو مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی کے ایک بڑے مرکز کے طور پر پیش کر رہا ہے۔