Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’ بیت اللہ کے دیدار کی خوشی‘ جو عازمین اپنوں کے ساتھ بانٹنا چاہتے ہیں dont published

سعودی خبر رساں ایجنسی کے کیمروں نے ایسے مناظر محفوظ کیے ہیں ( فوٹو: ایس پی اے)
مسجد الحرام کے صحنوں میں موبائل فون محض رابطے کا ذریعہ نہیں ہوتے بلکہ روحانی لمحات میں انسانی پل بن جاتے ہیں جو مکہ کے قلب سے دنیا بھر میں اپنے خاندانوں تک عازمین حج کے جذبات کو صوتی پیغامات کے ذریعے ان تک پہنچتے ہیں ۔
ایس پی اے کے مطابق ایسے میں آنسو دعاوں کے ساتھ  مل جاتے ہیں اور دنیا کی مختف بولیاں ایک جگہ موجود ہوتی ہیں۔
سعودی خبر رساں ایجنسی کے کیمروں نے ایسے مناظر محفوظ کیے جن میں مختلف قومیتوں کے عازمین طواف کعبہ یا مسجد الحرام میں اپنی پہلی نماز ادا کرنے کے بعد اپنے اہل خانہ سے وہ پر مسرت لمحات اور احساسات شیئر کرتے ہیں۔
الگ الگ بولیاں اور الفاظ مگر جذبات یکساں، جو بیت اللہ کے دیدار کی خوشی کے عکاس ہیں۔ بعض عازمین خوشی کے آنسووں کے ساتھ گھر والوں کو اپنے احساسات سے آگاہ کرتے ہیں تو بعض مسجد الحرام میں بلند ہوتی ہوئی تکبیرات یا آذان سنا کر انہیں اس روحانی سفر میں شریک کرتے ہیں۔

جبکہ بعض عازمین ان دعاوں کا اعادہ کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جو وہ اپنے عزیزوں کے لیے کررہے ہوتے ہیں۔
مسجد الحرام کے صحنوں میں صوتی پیغامات ریکارڈ کرتے ہوئے کئی حجاج کے چہروں پر گہرے جذبات کے آثار نمایاں تھے، اپنی مقامی زبانوں اور مختلف لہجوں میں اپنے خاندانوں کے لیے دعائیں اور محبت بھرے پیغامات بھیج رہے تھے۔

ایک ایسا فطری منظر جو روئے زمین کے مقدس ترین مقام پر پہنچنے کی خوشی کی عکاسی کرتا ہے۔
فاصلے کے باوجود عازمین اور ان کے خاندانوں کے درمیان جذباتی تعلق کی گہرائی کو مجسم کرتا ہے۔

یہ مناظر حج کے تجربے کے ایک جذباتی پہلو کی عکاسی کرتے ہیں، مسجد الحرام میں گزارے ہوئے لمحات زندگی بھر کی یادوں میں بدل جاتے ہیں جنہیں عازمین اپنوں کے ساتھ بانٹنا چاہتے ہیں۔

شیئر: