Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

طائف، قدیم حج راستے کے ساتھ تاریخی مہمان نوازی کا مرکز

عباسی دور میں المعشی ڈسٹرکٹ سے بھی حجاج کے کارروان گزرتے تھے۔(فوٹو: ایس پی اے)
طائف کمشنری نے مکہ کو جانے والے عازمینِ حج کی سہولتوں اور آرام کے لیے تاریخی طور پر سب سے اہم خدمات سرانجام دی ہیں۔
اس کی ایک وجہ طائف کی مخصوص لوکیشن ہے جو مکہ کے مقدس شہر کا مشرقی گیٹ وے ہے۔
طائف، مختلف سمتوں سے عازمینِ حج کو لانے والے کارروانوں کی کلیدی گزر گاہ ہوا کرتا تھا۔
اس کے آس پاس کے قدیم علاقے اور امتیازی نشانات آج بھی حج کی یادوں اور صدیوں سے حجاجِ کرام کی خدمت سے گہرا لگاؤ اور وابستگی رکھتے ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق محقق اور تاریخ دان خالد الحمیدی نے طائف اور اس کے آس پاس واقع بنائی گئی خصوصی آرام گاہوں کی تاریخ پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے بتایا کہ’ عازمینِ حج کی میزبانی کی سب سے نمایاں سائٹ ’رکبان شبرہ‘ ہے، جہاں تاریخی طور پر جنوب مشرقی ایشیا سے آنے والے عازمینِ حج کا استقبال کیا جاتا تھا۔‘
الحمیدی نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ’ کمشنری کے جنوبی حصے میں الیمانیہ ڈسٹرکٹ، یمن سے آنے والے عازمینِ حج کے استقبال کا اہم پڑاؤ تھا جس سے حج کے قدیم راستوں کی وسعت اور گہرے سماجی روابط کی عکاسی ہوتی ہے۔ خاص طور پر طائف کے لوگوں کی عازمینِ حج کے لیے مشہور و معروف میزبانی قابلِ ذکر ہے۔‘
عباسی دور میں المعشی ڈسٹرکٹ سے بھی حجاج کے کارروان گزرا کرتے تھے۔

تاریخی واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مقام، مکہ جانے والے کارروانوں کے گزرنے اور پڑاؤ کے دوران خود کر مرتب و منظم کرنے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔
اس سے اسلامی تاریخ کے مختلف ادوار میں حج کے راستوں کے تمام تر انتظامات میں طائف کے کردرا اور اس کی سٹرٹیجک اہمیت خاص طور پر اجاگر ہوتی ہے۔

شیئر: