Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بندر انڈین عدالت کے اندر سے نوٹوں سے بھرا بیگ لے اڑا، ’معاملہ لیگل ہے‘

تھوڑی دیر بعد بندر نے نوٹ نیچے پھینکنا شروع کیے تو لوگ پکڑنے کے لیے لپکے (فوٹوز: انڈین میڈیا)
انڈیا میں ایک بندر عدالت کے احاطے کے اندر موجود ایک شخص کے ہاتھ سے وہ بیگ لے اڑا جس کے اندر دو لاکھ روپے تھے۔
انڈین ایکسپریس کے مطابق واقعہ ریاست اترپردیش کے ضلع بلند شہر کے جوڈیشل کمپلیکس کے اندر پیش آیا جس پر افراتفری پھیل گئی اور لوگ اس کو پکڑنے کی کوشش کرتے رہے تاہم وہ بیگ لیے ایک سے دوسرے درخت پر چھلانگیں لگاتا رہا۔
انڈین میڈیا کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ رنویندر لودھی نام کے وکیل کے پاس زمین کی رجسٹری کا ایک کیس تھا، جس پر عدالت نے کاغذی کارروائی مکمل کرنے اور فیس جمع کرانے کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔
اسی وجہ سے رنویندر لودھی تمام کاغذات اور فیس کے پیسے لے کر وکیل عامر کے پاس جا رہا تھا تاہم ابھی وہ چیمبر سے کچھ دور تھا کہ کہیں سے ایک بندر نمودار ہوا اور جھپٹ کر ہاتھ میں پکڑا بیگ چھین لیا اور کچھ قدم کے فاصلے پر جا کر کھڑا ہوا گیا۔
اس شخص کے شور مچانے پر جہاں لوگ متوجہ ہوئے وہیں بندر بھی بدک گیا اور بھاگ کر ایک درخت پر چڑھ گیا، ایک دو افراد نے درخت پر چڑھنے کی کوشش کی تو وہ ٹہنیوں جھولتا ہوا دوسرے درخت پر چلا گیا۔
اس دوران عدالتی احاطے میں موجود پولیس اہلکار بھی موقع پر پہنچے اور کسی طرح بندر کو عدالتی احاطے سے باہر نہ نکلنے کی کوشش کرتے رہے اس لیے گیٹ کو بند کر دیا گیا اور ایمرجنسی نمبر پر کالز کی گئیں۔
ان چیزوں کو دیکھتے ہوئے بندر چھت پر چڑھ گیا اور جب اس کے پیچھے گئے تو اس نے ایک بار پھر درخت پر چھلانگ لگا دی۔
اس پر بیگ کے مالک کے ساتھ ساتھ دوسرے لوگ بھی پریشان تھے کہ کہیں وہ بیگ لے کر آنکھوں سے اوجھل نہ ہو جائے۔
تاہم اس کے چند سیکنڈ بعد بندر ایک شاخ پر سکون بیٹھ گیا اور لوگوں کو دیکھنا شروع ہوا جو ایک دوسرے کو مشورے دے رہے تھے کہ یہ کرنا چاہیے، وہ کرنا چاہیے۔
پھر اچانک اس نے بیگ کو کھولا اور پانچ، پانچ سو کے نوٹوں پر مشتمل رقم تھوڑی تھوڑی کر کے نیچے پھینکنے لگا اور لوگ نیچے آتے نوٹوں کی طرف بھاگے۔
 کچھ لوگوں نے اس کی ویڈیو بھی بنائی جو اپ لوڈ ہوتے ہی انٹرنیٹ پر پھیلتی چلی گئی اور اس پر دلچسپ تبصرے بھی ہو رہے ہیں۔
کچھ صارف نے اس کو نیٹ فلکس شو ’معاملہ لیگل ہے‘ سے جوڑتے ہوئے دلچسپ کمنٹس کیے۔
ایک صارف نے لکھا کہ مجھے یقین ہے کہ بندر بالی وڈ کی فلمیں دیکھتا ہو گا اور اسے یہ آئیڈیا وہیں سے ملا ہو گا۔
ایک صارف کے مطابق ’ایسا کچھ لوگوں کے پاس بھی ہوتا ہے کہ ان کے پاس پیسہ آ جاتا ہے مگر خرچ کرنے کا طریقہ نہیں آتا۔‘

شیئر: