’پینٹنگ نے زندہ رکھا‘، پانچ سال قید کے بعد امریکہ پہنچنے والے باغی کیوبن آرٹسٹ الکانتارا کون ہیں؟
’پینٹنگ نے زندہ رکھا‘، پانچ سال قید کے بعد امریکہ پہنچنے والے باغی کیوبن آرٹسٹ الکانتارا کون ہیں؟
اتوار 19 جولائی 2026 11:49
واشنگٹن نے ہوانا پر زور دیا ہے کہ 700 سے زائد سیاسی قید رہا کیے جائیں (فوٹو: اے ایف پی)
کیوبا کے حکومت مخالفت آرٹسٹ لوئس مینوئل اوٹیرا الکانتارا پانچ سال کی قید کاٹنے کے بعد جلاوطنی اختیار کرتے ہوئے امریکہ پہنچ گئے ہیں جبکہ واشنگٹن نے ہوانا پر زور دیا ہے کہ 700 سے زائد سیاسی قیدی رہا کیے جائیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے 'ضمیر کا قیدی' قرار دیے جانے والے الکانتارا کو 2022 میں قومی علامات کی توہین، توہینِ عدالت اور امنِ عامہ میں خلل ڈالنے کے الزامات کے تحت پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
ہوانا سے مختصر پرواز کے بعد وہ میامی پہنچے، جس کو کیوبا سے جلاوطنی اختیار کر کے جانے والوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔
لوئس مینوئل ایک خود ساختہ پرفارمنس آرٹسٹ، مجسمہ ساز اور مصور ہیں۔ انہوں نے 2020 میں فنکاروں اور دانشوروں کی 'سان اسیڈرو' احتجاجی تحریک کے رہنما کے طور پر شہرت حاصل کی۔
ان کو جولائی 2021 میں اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب وہ عوامی مظاہروں میں شرکت کے لیے اپنے گھر سے نکل رہے تھے۔
میامی پہنچنے پر کیوبا سے تعلق رکھنے والی ایک اعلیٰ شخصیت کے مزار پر حاضری دی جہاں کیوبن برادری کے افراد ان کے استقبال کے لیے جمع تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک آزاد مک کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے، اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ ہماری کوششوں کا نتیجہ ہے۔ میری خواہش ہے کہ میں کام کروں ہر وہ لمحہ جو ہم ضائع کرتے ہیں وہ آمریت کو تقویت دیتا ہے۔
دوسری جانب واشنگٹن نے الکانتارا کی آمد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہوانا نے ان کو اس لیے قید کیا کیونکہ انہوں نے ایک آزاد کیوبا کا خواب دیکھنے کی جرات کی۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک بیان میں کہا کہ ’الکانتارا کا واحد جرم یہ تھا کہ انہوں نے خاموش رہنے سے انکار کیا اور اپنے فن کے ذریعے ان بنیادی آزادیوں کا مطالبہ کیا جن سے عام کیوبن لوگ قریباً سات دہائیوں سے محروم ہیں۔‘
لوئس مینوئل اوٹیرا الکانتارا کو 2021 میں کیوبا میں حراست میں لیا گیا تھا (فوٹو: روئٹرز)
الکانتارا کیوبا کے صفِ اول کے باغی رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں، جنہیں 2024 میں آرٹ کے ذریعے آمریت کے خلاف مزاحمت پر نارویجن رافتو ہیومن رائٹس پرائز سے نوازا گیا۔
ان کے قریبی دوستوں کا کہنا ہے کہ انہیں کیوبا کی ایک انتہائی سخت سیکیورٹی والی جیل میں رکھا گیا تھا اور ان کی رہائی کی شرط یہ تھی کہ وہ کبھی واپس نہیں آئیں گے۔ کیوبا کی حکومت ان پر واشنگٹن کے ایما پر ملک کو غیر مستحکم کرنے کا الزام لگاتی رہی ہے۔
ان کے دوستوں نے فیس بک پر لکھا کہ وہ اپنے چوری شدہ وقت کو دوبارہ حاصل کرنا اور کیوبا کی آزادی کے لیے کام جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
کچھ عرصہ پیشتر جیل سے ایک دوست کو فون پر لکھوائے گئے مضمون جو نیویارک ٹائمز میں شائع ہوا، میں ان کا کہنا تھا کہ مجھے پینٹنگ کی اجازت ہے اور اسی چیز نے مجھے زندہ رکھا ہوا ہے اگر میں آرٹ تخلیق نہ کر سکوں تو مر جاؤں گا۔
’یہی وجہ ہے کہ گارڈز مجھے یہ کرنے دیتے ہیں تاکہ میں کہیں شہید نہ بن جاؤں۔‘