امریکی فوج نے گذشتہ ہفتے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے دو فوجیوں کی شناخت ظاہر کر دی ہے۔
امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق امریکہ کے محکمۂ جنگ پینٹاگون نے پیر کو ایک بیان میں مرنے والے دونوں فوجیوں کے بارے میں آگاہ کیا۔
’حملے کے دوران بیس کا دفاع کرتے ہوئے ہلاک ہونے والے 25 برس کے فرسٹ لیفٹیننٹ ٹائلر جیمز فیہن ایوا بیچ، ہوائی کے رہائشی تھے۔‘
پینٹاگون نے مزید بتایا کہ ’اردن میں ہی ہلاک ہونے والی ازابیلا گونزالیز کی عمر 19 سال تھی اور ان کا تعلق کیرولٹن، ٹیکساس سے تھا۔‘
ان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ داعش کے خلاف امریکی مشن کی حمایت کر رہی تھیں، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اُن کی ہلاکت کس طرح ہوئی۔
سنیچر کو امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے بتایا تھا کہ اُردن میں ایران کے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کے خلاف دفاع کرتے ہوئے دو امریکی اہلکار مارے گئے۔
امریکی فوج کے مطابق ایران کے ساتھ جاری جنگ میں اب تک مرنے والے امریکی فوجیوں کی مجموعی تعداد 17 ہو چکی ہے۔
یہ ہلاکتیں اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ جدید جنگوں میں امریکی فوجیوں کو لازمی طور پر ایران کی سرزمین پر موجود ہونے کی ضرورت نہیں۔
ڈرونز، میزائلوں اور جنگی طیاروں کے باعث خطے کے دیگر ممالک میں تعینات امریکی اہلکاروں کی جانوں کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
ہزاروں امریکی فوجی مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک میں تعینات ہیں، جس کی وجہ سے امن مذاکرات کی ناکامی کے بعد لڑائی دوبارہ شروع ہونے پر ایران کی جانب سے ان ممالک میں امریکہ کے اڈوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’یہ جنگ ایران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روکنے کے لیے ضروری ہے۔‘