Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا میں جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرنے کے لیے احتجاج، ’یہ جدوجہد کا آغاز ہے‘

مظاہرین کی قیادت انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کی (فوٹو: کے این ایس)
انڈیا کے زیرانتظام جموں و کشمیر کا ریاست کا درجہ بحال کرنے کے مطالبے پر پیر کو انڈیا کے دارلحکومت نئی دہلی میں سینکڑوں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی ’روئٹرز‘ کے مطابق مظاہرین کی قیادت انڈیا کے زیرانتظام جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کی جنہوں نے کہا کہ ’ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے جدوجہد کا یہ محض آغاز ہے۔‘
وزیراعلٰی عمر عبداللہ کے مطابق احتجاج کے دوران مظاہرین نے ریاستی درجہ بحال کرنے کے حق میں نعرے لگائے اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، تاہم دہلی پولیس نے انہیں احتجاجی مظاہرہ کرنے سے روک دیا۔
وزیراعلٰی عمر عبداللہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں احتجاج کی تصاویر اور ویڈیوز بھی شیئر کیں۔
انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’یہ ہماری ریاستی حیثیت، ہمارے حقوق، ہماری عزت اور ہم سے چھینی گئی ہر چیز کی بحالی کی جدوجہد کا صرف آغاز ہے۔‘
یاد رہے کہ اگست 2019 میں وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے انڈیا کے زیرانتظام جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرتے ہوئے آرٹیکل 370 کو منسوخ کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ریاست کو وفاق کے زیر انتظام دو علیحدہ علاقوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا، جن میں جموں و کشمیر اور لداخ شامل ہیں۔
انڈین حکومت کا مؤقف ہے کہ مناسب وقت پر جموں و کشمیر کو دوبارہ ریاست کا درجہ دے دیا جائے گا، تاہم اس حوالے سے اب تک کوئی حتمی تاریخ یا ٹائم لائن نہیں دی گئی۔
عمر عبداللہ اور ان کی جماعت جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس (جے کے این سی) مسلسل مطالبہ کر رہی ہے کہ انڈین حکومت اپنے وعدے کے مطابق جلد از جلد جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال کرے۔
دوسری جانب حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنماؤں نے اس احتجاج کو عمر عبداللہ حکومت کی مبینہ انتظامی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ جموں و کشمیر کا تنازع پاکستان اور انڈیا کے درمیان کئی دہائیوں سے موجود ہے۔ دونوں ممالک پورے خطے پر اپنا دعویٰ رکھتے ہیں جبکہ اس وقت دونوں اپنے اپنے زیر انتظام حصوں کا انتظام چلا رہے ہیں۔ انڈیا طویل عرصے سے پاکستان پر مقبوضہ کشمیر میں سرگرم علیحدگی پسندوں کی حمایت کا الزام عائد کرتا رہا ہے، جبکہ پاکستان ان الزامات کی مسلسل تردید کرتا آیا ہے۔

شیئر: