انڈیا میں سوشل میڈیا پر حال ہی میں شیروں کی کئی ویڈیوز وائرل ہوئی ہیں جن میں ایک موٹر بائیک سوار پر حملہ اور دوسرا 12 سال کے بچے کو گیرنار کی سیڑھیوں سے اُٹھا کر جنگل میں لے جانے کا واقعہ شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق ابھی لڑکا اور اس کا خاندان قریباً 50 سیڑھیاں ہی چڑھے تھے کہ قریبی جنگل سے ایک شیر نکلا اور اُس نے لڑکے پر حملہ کر دیا۔ لڑکے نے اپنے چچا کا ہاتھ تھام رکھا تھا۔
اس سے پہلے کہ لڑکا کوئی چیخ پکار کرتا شیر اُسے گھسیٹ کر جنگل میں لے گیا۔ یہ گذشتہ 46 روز میں ریاست میں انسانوں پر شیر کا نواں حملہ تھا۔
مزید پڑھیں
-
امیتابھ بچن سیاست میں: جب سٹارڈم نے ووٹ بینک کو مات دیNode ID: 895708
-
پونے کے لوہ گڑھ قلعے میں قتل:’وائرل پوسٹ اور شدید گرمی میں ہُڈی‘Node ID: 905754
گذشتہ چند برسوں کے دوران انڈیا کی مغربی ریاست گجرات کے گیر اور اس سے متصل علاقوں میں ایشیائی شیروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، لیکن اسی کے ساتھ ایک تشویش ناک رُجحان بھی نظر آیا ہے۔
ان میں انسانوں پر شیروں کے حملوں میں اضافہ، بعض شیروں کا بار بار آبادیوں کا رُخ کرنا، اور شیر کے بچوں کی بڑھتی ہوئی اموات شامل ہیں اور اس رُجحان نے جنگلی حیات کے ماہرین کو نئی فکر میں مبتلا کر دیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ گجرات حکومت نے حال ہی میں انڈین وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ کی مدد سے انسان اور شیر کے درمیان بڑھتے ہوئے اس تصادم کی وجوہات جاننے کے لیے خصوصی سائنسی تحقیق شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دی ہندو کی ایک رپورٹ کے مطابق وائلڈ لائف کے اہلکاروں نے جولائی میں تصادم کے شدید اضافے کے بعد 31 شیروں کو پکڑا اور انہیں قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔
ان میں سے سات شیروں کو انسانوں پر مہلک حملوں کے بعد ’آدم خور‘ قرار دیا گیا ہے اور انہیں مستقل پنجرے میں رکھنے کا فیصلہ کیا گيا ہے۔
اگرچہ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انسان پر حملہ کرنے والا ہر شیر ’آدم خور‘ نہیں ہوتا، لیکن حالیہ مہینوں میں گیر کے جنگلوں کے اطراف انسانوں پر شیروں کے حملوں کے بڑھتے ہوئے واقعات نے عوام میں خوف پیدا کر دیا ہے۔
اس سے قبل روزنامہ ’دی دکن ہیرلڈ‘ کے مطابق مئی اور جُون کے اوائل میں شیر کے آٹھ بچے لُقمہ اَجل بن گئے۔ وزیر جنگلات ارجن موڈھواڈیا نے وبائی امراض کے بجائے شدید گرمی کو ان کی موت کی وجہ قرار دیا۔
متعدد واقعات میں شیروں یا شیرنیوں کو کھیتوں، مویشیوں کے باڑوں اور دیہات کے قریب دیکھا گیا ہے جبکہ بعض حملوں میں انسانی جانیں بھی ضائع ہوئیں۔

اسی پس منظر میں ریاستی حکومت نے وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کو شیروں کی نقل و حرکت، رویّوں اور انسانی آبادیوں کی طرف اُن کے بڑھتے قدم کا سائنسی مطالعہ کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔
ٹائمز آف انڈیا کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ماہرین اس بات کا جائزہ لیں گے کہ آیا خوراک کی دستیابی، رہائش گاہوں میں تبدیلی، شیروں کی بڑھتی ہوئی تعداد یا انسانی سرگرمیوں میں اضافہ اس رُجحان کی بنیادی وجوہات ہیں۔
گجرات میں شیروں کی تعداد تحفظِ جنگلی حیات کی سَمت میں ایک بڑی کامیابی سمجھی جاتی ہے۔ 2025 کی مردم شماری کے مطابق ریاست میں ایشیائی شیروں کی تعداد 891 تک پہنچ چکی ہے۔
اِن میں قریباً نصف سے زیادہ محفوظ جنگلات سے باہر انسانی بستیوں کے قریب رہتے ہیں۔ یہی پھیلاؤ اب ایک نئے چیلنج میں تبدیل ہو رہا ہے کیونکہ انسان اور شیر پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے کے قریب آگئے ہیں۔
دوسری طرف شیروں کے بچوں کی اموات نے بھی ماہرین کو پریشان کر رکھا ہے۔ اس حوالے سے گجرات اسمبلی میں سرکاری اعداد و شمار بھی پیش کیے گئے۔
ان اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2024 سے جنوری 2026 کے درمیان مجموعی طور پر 322 ایشیائی شیروں کی موت ہوئی جن میں 156 شیر کے بچے بھی شامل تھے۔

ان اموات میں 64 غیر فطری تھیں جن میں 22 شیر کے بچے بھی شامل تھے۔ اگرچہ قدرتی اموات جنگلی حیات کا حصہ سمجھی جاتی ہیں لیکن اتنی بڑی تعداد میں شیر کے بچوں کی ہلاکتوں نے ان کے اسباب پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ماہرین کے مطابق شیر کے بچوں کی موت کی کئی ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ان میں بیماری، غذائی قلت، بالغ نر شیروں کی جانب سے بچوں کو مار دینا، قدرتی مقابلہ، یا انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والا دباؤ شامل ہیں۔
حالیہ مہینوں کے دوران گِیر کے جنگلات میں ٹِک سے پھیلنے والی ایک متعدی بیماری نے بھی متعدد شیروں کو متاثر کیا۔
اگرچہ 12 شیر علاج کے بعد صحت یاب ہو کر دوبارہ جنگل میں چھوڑ دیے گئے لیکن اس وبائی کیفیت میں کئی شیروں کی جان بھی چلی گئی، جس سے بیماریوں کے خطرات دوبارہ نمایاں ہو گئے۔
جنگلی حیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جب کسی ایک علاقے میں کسی نایاب جانور کی پوری آبادی مرتکز ہو تو بیماری، قدرتی آفات یا وبائیں پوری نسل کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ کئی برسوں سے ماہرین گیر کے علاوہ کسی دوسرے محفوظ مقام پر بھی ایشیائی شیروں کی ایک مستقل آبادی قائم کرنے کی وکالت کرتے رہے ہیں تاکہ کسی بڑی آفت کی صورت میں پوری نسل کو خطرہ لاحق نہ ہو۔













