Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا میں شیروں کے بڑھتے حملے: 31 شیر قرنطینہ میں اور 7 آدم خور قرار

انسانوں پر شیروں کے حملوں اور شیر کے بچوں کی اموات نے ماہرین جنگلی حیات کو نئی فکر میں مبتلا کر دیا ہے (فائل فوٹو: وِکی میڈیا)
انڈیا میں سوشل میڈیا پر حال ہی میں شیروں کی کئی ویڈیوز وائرل ہوئی ہیں جن میں ایک موٹر بائیک سوار پر حملہ اور دوسرا 12 سال کے بچے کو گیرنار کی سیڑھیوں سے اُٹھا کر جنگل میں لے جانے کا واقعہ شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق ابھی لڑکا اور اس کا خاندان قریباً 50 سیڑھیاں ہی چڑھے تھے کہ قریبی جنگل سے ایک شیر نکلا اور اُس نے لڑکے پر حملہ کر دیا۔ لڑکے نے اپنے چچا کا ہاتھ تھام رکھا تھا۔ 
اس سے پہلے کہ لڑکا کوئی چیخ پکار کرتا شیر اُسے گھسیٹ کر جنگل میں لے گیا۔ یہ گذشتہ 46 روز میں ریاست میں انسانوں پر شیر کا نواں حملہ تھا۔
گذشتہ چند برسوں کے دوران انڈیا کی مغربی ریاست گجرات کے گیر اور اس سے متصل علاقوں میں ایشیائی شیروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، لیکن اسی کے ساتھ ایک تشویش ناک رُجحان بھی نظر آیا ہے۔
ان میں انسانوں پر شیروں کے حملوں میں اضافہ، بعض شیروں کا بار بار آبادیوں کا رُخ کرنا، اور شیر کے بچوں کی بڑھتی ہوئی اموات شامل ہیں اور اس رُجحان نے جنگلی حیات کے ماہرین کو نئی فکر میں مبتلا کر دیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ گجرات حکومت نے حال ہی میں انڈین وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ کی مدد سے انسان اور شیر کے درمیان بڑھتے ہوئے اس تصادم کی وجوہات جاننے کے لیے خصوصی سائنسی تحقیق شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دی ہندو کی ایک رپورٹ کے مطابق وائلڈ لائف کے اہلکاروں نے جولائی میں تصادم کے شدید اضافے کے بعد 31 شیروں کو پکڑا اور انہیں قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔
ان میں سے سات شیروں کو انسانوں پر مہلک حملوں کے بعد ’آدم خور‘ قرار دیا گیا ہے اور انہیں مستقل پنجرے میں رکھنے کا فیصلہ کیا گيا ہے۔
اگرچہ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انسان پر حملہ کرنے والا ہر شیر ’آدم خور‘ نہیں ہوتا، لیکن حالیہ مہینوں میں گیر کے جنگلوں کے اطراف انسانوں پر شیروں کے حملوں کے بڑھتے ہوئے واقعات نے عوام میں خوف پیدا کر دیا ہے۔
اس سے قبل روزنامہ ’دی دکن ہیرلڈ‘ کے مطابق مئی اور جُون کے اوائل میں شیر کے آٹھ بچے لُقمہ اَجل بن گئے۔ وزیر جنگلات ارجن موڈھواڈیا نے وبائی امراض کے بجائے شدید گرمی کو ان کی موت کی وجہ قرار دیا۔
متعدد واقعات میں شیروں یا شیرنیوں کو کھیتوں، مویشیوں کے باڑوں اور دیہات کے قریب دیکھا گیا ہے جبکہ بعض حملوں میں انسانی جانیں بھی ضائع ہوئیں۔ 

انسانوں کے ساتھ تصادم میں اضافے کے بعد 31 شیروں کو پکڑ کر قرنطینہ میں رکھا گیا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

اسی پس منظر میں ریاستی حکومت نے وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کو شیروں کی نقل و حرکت، رویّوں اور انسانی آبادیوں کی طرف اُن کے بڑھتے قدم کا سائنسی مطالعہ کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔
ٹائمز آف انڈیا کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ماہرین اس بات کا جائزہ لیں گے کہ آیا خوراک کی دستیابی، رہائش گاہوں میں تبدیلی، شیروں کی بڑھتی ہوئی تعداد یا انسانی سرگرمیوں میں اضافہ اس رُجحان کی بنیادی وجوہات ہیں۔
گجرات میں شیروں کی تعداد تحفظِ جنگلی حیات کی سَمت میں ایک بڑی کامیابی سمجھی جاتی ہے۔ 2025 کی مردم شماری کے مطابق ریاست میں ایشیائی شیروں کی تعداد 891 تک پہنچ چکی ہے۔
اِن میں قریباً نصف سے زیادہ محفوظ جنگلات سے باہر انسانی بستیوں کے قریب رہتے ہیں۔ یہی پھیلاؤ اب ایک نئے چیلنج میں تبدیل ہو رہا ہے کیونکہ انسان اور شیر پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے کے قریب آگئے ہیں۔
دوسری طرف شیروں کے بچوں کی اموات نے بھی ماہرین کو پریشان کر رکھا ہے۔ اس حوالے سے گجرات اسمبلی میں سرکاری اعداد و شمار بھی پیش کیے گئے۔
ان اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2024 سے جنوری 2026 کے درمیان مجموعی طور پر 322 ایشیائی شیروں کی موت ہوئی جن میں 156 شیر کے بچے بھی شامل تھے۔

محکمہ وائلڈ لائف نے سات شیروں کو انسانوں پر مہلک حملوں کے بعد ’آدم خور‘ قرار دے دیا (فائل فوٹو: اے پی)

ان اموات میں 64 غیر فطری تھیں جن میں 22 شیر کے بچے بھی شامل تھے۔ اگرچہ قدرتی اموات جنگلی حیات کا حصہ سمجھی جاتی ہیں لیکن اتنی بڑی تعداد میں شیر کے بچوں کی ہلاکتوں نے ان کے اسباب پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ماہرین کے مطابق شیر کے بچوں کی موت کی کئی ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ان میں بیماری، غذائی قلت، بالغ نر شیروں کی جانب سے بچوں کو مار دینا، قدرتی مقابلہ، یا انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والا دباؤ شامل ہیں۔
حالیہ مہینوں کے دوران گِیر کے جنگلات میں ٹِک سے پھیلنے والی ایک متعدی بیماری نے بھی متعدد شیروں کو متاثر کیا۔
اگرچہ 12 شیر علاج کے بعد صحت یاب ہو کر دوبارہ جنگل میں چھوڑ دیے گئے لیکن اس وبائی کیفیت میں کئی شیروں کی جان بھی چلی گئی، جس سے بیماریوں کے خطرات دوبارہ نمایاں ہو گئے۔
جنگلی حیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جب کسی ایک علاقے میں کسی نایاب جانور کی پوری آبادی مرتکز ہو تو بیماری، قدرتی آفات یا وبائیں پوری نسل کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ 
یہی وجہ ہے کہ کئی برسوں سے ماہرین گیر کے علاوہ کسی دوسرے محفوظ مقام پر بھی ایشیائی شیروں کی ایک مستقل آبادی قائم کرنے کی وکالت کرتے رہے ہیں تاکہ کسی بڑی آفت کی صورت میں پوری نسل کو خطرہ لاحق نہ ہو۔

جنوری 2024 سے جنوری 2026 کے درمیان انڈیا میں مجموعی طور پر 322 ایشیائی شیروں کی موت ہوئی (فائل فوٹو: اے ایف پی)

حال ہی میں سوشل میڈیا پر بھی انسانوں پر شیروں کے حملوں کی ویڈیوز نے شدید بحث چھیڑ دی۔ ایک وائرل ویڈیو میں ضلع بھاونگر کے قریب ایک شخص پر شیرنی کے حملے نے لوگوں کو ہلا کر رکھ دیا۔
کچھ صارفین نے جنگلات پر انسانی قبضے کو اس بحران کی اصل وجہ قرار دیا جبکہ بعض نے مطالبہ کیا کہ جنگلی جانوروں اور انسانوں کے درمیان محفوظ فاصلہ برقرار رکھنے کے لیے نئی پالیسی بنائی جائے۔
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ’آدم خور شیر‘ کی اصطلاح انتہائی احتیاط سے استعمال ہونی چاہیے۔ بیشتر واقعات میں شیر انسان کو باقاعدہ شکار کے طور پر نہیں دیکھتے۔
بعض اوقات شیر اچانک آمنا سامنا ہونے، اپنے بچوں کے دفاع یا خطرہ محسوس ہونے کی وجہ سے حملہ کرتا ہے۔ اس لیے ہر حملہ آدم خوری کی علامت نہیں سمجھا جا سکتا۔
گجرات نے گذشتہ چند دہائیوں کے دوران ایشیائی شیروں کے تحفظ میں دنیا بھر کے لیے ایک مثال قائم کی ہے لیکن اب کامیابی کا اگلا مرحلہ صرف شیروں کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ انسان اور شیر کے درمیان پائیدار بقائے باہمی کو یقینی بنانا ہے۔
اگر حملوں میں اضافہ، بیماریوں کا پھیلاؤ اور شیر کے بچوں کی اموات بروقت نہ روکی گئیں تو یہ انہیں بچانے کی یہ کامیاب مہم نئے امتحانات سے دوچار ہو سکتی ہے۔ 
اسی لیے وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کی مجوزہ تحقیق کو نہ صرف گجرات بلکہ دنیا میں نایاب ایشیائی شیروں کے مستقبل کے لیے بھی انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

شیئر: