Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اینڈی برنہم نے برطانیہ کے وزیراعظم کا عہدہ سنبھال لیا، ملک کو مسائل سے نکالنے کے لیے 10 سالہ قومی منصوبے کا اعلان

اینڈی برنہم بعد ازاں ’10 ڈاؤننگ سٹریٹ‘ پہنچے جہاں حامیوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا (فوٹو: گیٹی)
برطانیہ کے نئے وزیر اعظم اینڈی برنہم نے پیر کو اپنا منصب سنبھال لیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ ملک کے لیے ایک 10 سالہ قومی منصوبہ پیش کریں گے، جس کا مقصد مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجاتِ زندگی کے بحران سے نمٹنا، معیشت کو مضبوط بنانا اور سڑکوں پر بے گھر افراد کے سونے کا خاتمہ کرنا ہوگا۔
خبر رساں ایجسنی ’اے ایف پی‘ کے مطابق 56 سالہ اینڈی برنہم اپنی اہلیہ میری فرانس وان ہیل کے ہمراہ بکنگھم پیلس پہنچے، جہاں انہوں نے بادشاہ چارلس سوم سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بعد انہیں باضابطہ طور پر حکومت سازی کی دعوت دی گئی۔ یہ پیش رفت سابق وزیر اعظم کیئر سٹارمر کے استعفے کے بعد سامنے آئی ہے۔
اینڈی برنہم بعد ازاں ’10 ڈاؤننگ سٹریٹ‘ پہنچے جہاں حامیوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ انہوں نے اپنی مختصر تقریر میں کہا کہ ’سنہ 2016 کے آغاز سے اب تک میں برطانیہ کا ساتواں وزیر اعظم ہوں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’برطانیہ کو دنیا کے سامنے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ دوبارہ استحکام حاصل کر سکتا ہے۔‘
ان کے بقول وہ ملک کو ایک نیا سیاسی ماڈل دیں گے اور نئی معیشت کی بنیاد رکھیں گے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ’میں جلد ہی برطانیہ کے لیے ایک نیا 10 سالہ منصوبہ پیش کروں گا‘، تاہم انہوں نے اس کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
انہوں نے قلیل مدتی ترجیحات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’حکومت فوری طور پر عوام کو مہنگائی کے دباؤ سے کچھ ریلیف فراہم کرے گی تاکہ لوگوں کو سانس لینے کی کچھ گنجائش مل سکے۔‘
اینڈی برنہم نے یہ بھی اعلان کیا کہ ان کی پہلی ترجیح سڑکوں پر بے گھر افراد کے سونے کے خاتمے کے لیے اقدامات کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ’گریٹر مانچسٹر کے میئر ہونے کے ناطے سے بھی میں نے اس مسئلے کے حل کی کوشش کی تھی، تاہم اس وقت مکمل کامیابی حاصل نہیں ہو سکی تھی۔‘
انہوں نے مزید اعلان کیا کہ ’حکومت سرکاری خریداری کے ذریعے صنعتی شعبے کو دوبارہ مضبوط بنانے اور زیادہ عوامی رہائشی مکانات تعمیر کرنے کی پالیسی پر عمل کرے گی۔‘
خارجہ پالیسی کے حوالے سے اینڈی برنہم نے کہا کہ وزیر اعظم بننے کے بعد ان کی پہلی فون کالز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کو ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ ’میں زیلنسکی کو یقین دلاؤں گا کہ میں سو فیصد آپ کے ساتھ ہوں۔‘
دوسری جانب مستعفی ہونے والے وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے ’ڈاؤننگ سٹریٹ‘ سے اپنی الوداعی تقریر میں کہا کہ ’مجھے یقین ہے کہ دو سال پہلے کے مقابلے میں آج برطانیہ زیادہ مضبوط اور زیادہ منصفانہ ملک ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’میں خوش دلی، مسکراہٹ اور اپنی حکومت کی کامیابیوں پر فخر کے ساتھ رخصت ہو رہا ہوں۔‘
اینڈی برنہم کو وزارت عظمیٰ سنبھالتے ہی متعدد چیلنجز کا سامنا ہوگا، جن میں سست رفتار معیشت، حکومتی قرضوں کی بلند لاگت، فلاحی اخراجات میں اضافہ، اور چھوٹی کشتیوں کے ذریعے برطانیہ پہنچنے والے غیر قانونی تارکین وطن کا مسئلہ شامل ہے جس کے باعث اصلاحات پسند جماعت ریفارم یو کے کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔

کنگ آف دی نارتھ‘ کے نام سے مشہور اینڈی برنہم کو لیبر پارٹی نے کیئر سٹارمر کے استعفے کے بعد قیادت سونپی ہے (فوٹو: گیٹی)

اس کے علاوہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث توانائی کی غیر یقینی قیمتیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امریکہ کے ساتھ تعلقات میں اتار چڑھاؤ بھی ان کی حکومت کے لیے اہم چیلنج تصور کیے جا رہے ہیں۔
اتوار کو شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں اینڈی برنہم نے کہا کہ وہ گزشتہ ایک دہائی کے سیاسی عدم استحکام کا خاتمہ کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’جو کچھ ہم اب تک کرتے آئے ہیں، وہ مؤثر ثابت نہیں ہوا۔ میں معاملات کو مختلف انداز میں چلانے کی کوشش کروں گا۔‘
اب سیاسی توجہ ان کی کابینہ کی تشکیل پر مرکوز ہے، خاص طور پر اس بات پر کہ وہ وزیر خزانہ ریچل ریوز کی جگہ کس شخصیت کو نامزد کرتے ہیں۔
مانچسٹر کے سابق میئر اور ’کنگ آف دی نارتھ‘ کے نام سے مشہور اینڈی برنہم کو لیبر پارٹی نے کیئر سٹارمر کے استعفے کے بعد قیادت سونپی ہے۔ پارٹی ارکان کا خیال ہے کہ وہ نائجل فراج کی امیگریشن مخالف جماعت ریفارم یو کے کا مؤثر مقابلہ کرنے کی بہترین صلاحیت رکھتے ہیں۔
اینڈی برنہم سنہ 2001 سے 2017 تک رکن پارلیمان رہے اور ٹونی بلیئر اور گورڈن براؤن کی حکومتوں میں وزیر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں انہوں نے خود کو عوامی رہنما کے طور پر منوایا، جہاں انہوں نے سادہ طرزِ سیاست کو جدید سوشل میڈیا مہم کے ساتھ جوڑا۔
ادھر یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے اینڈی برنہم کو وزیر اعظم بننے پر مبارکباد دی ہے جبکہ جرمن چانسلر فریڈرش مرز نے انہیں دونوں ممالک کے گہرے تعلقات کے اظہار کے لیے برلن آنے کی دعوت دی۔

شیئر: