مسجد اقصی کے صحنوں میں اسرائیلی وزیر کا دھاوا، سعودی عرب کی مذمت
بیان میں کہا گیا ایسے اقدامات مسلم دنیا میں مذہبی کشیدگی کو ہوا دیتے ہیں۔( فوٹو: اے ایف پی )
سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے منگل کو اسرائیلی وزیر کی جانب سے مسجد الاقصیٰ کے صحنوں میں دھاوے کی سخت مذمت کی اور اسے اسرائیلی فورسز کی پروٹییکشن میں کیے جانے والا ’اشتعال انگیز‘ عمل قرار دیا۔
ایس پی اے کے مطابق وزارت نے ایک بیان میں مملکت نے اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قانون کی مسلسل خلاف ورزیوں کو مسترد کیا اور خبردار کیا کہ ایسے اقدامات مسلم دنیا میں مذہبی کشیدگی کو ہوا دیتے ہیں۔
ریاض نے اسلام کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک، مسجد الاقصیٰ کی تاریخی اور قانونی حیثیت کا احترام کرنے کی ضرورت کو دہرایا۔
بین الاقوامی برادری پر زور دیا گیا کہ’ وہ فلسطینیوں کے خلاف ہونے والی خلاف ورزیوں کو روکنے اور مقبوضہ علاقوں میں مذہبی و تاریخی مقامات کے تحفظ کی ذمہ داری قبول کرے۔‘
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مسلسل اور سنگین خلاف ورزیوں کے لیے جوابدہی بھی زور دیا گیا۔
یاد رہے کہ اسرائیلی وزیر قومی سلامتی نے سکیورٹی اہلکاروں کے ہمراہ گزشتہ روز مسجد اقصی کے صحنوں کا دورہ کیا تھا۔
اسرائیل حکام کی جانب سے گزشتہ 38 دنوں سے مسلمانوں کو مسجد میں داخلے سے روکا جا رہا ہے۔
مسجد الاقصی اور ارد گرد کا پورا رقبہ جو 144 دونم ہے صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے، بیت المقدس اورمسجد الاقصی کے امور اور انتظامات کی ذمہ دار اردن کی وزارت اوقاف ہے، جس کے پاس کمپاونڈ کی نگرانی اور رسائی کو منظم کرنے کا قانونی اختیار ہے۔
