مسجد اقصی اور دیگر مقدس مقامات پر اسرائیلی خلاف ورزیاں، سعودی عرب سمیت آٹھ مسلم ملکوں کی مذمت
جمعرات 23 اپریل 2026 21:45
وزرائے خارجہ نے اسے دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ناقابل قبول قرار دیا۔( فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب اور پاکستان سمیت آٹھ عرب و اسلامی ملکوں کے وزرائے خارجہ نے اسرائیلی قابض فورسز کی جانب سے القدس کے اسلامی اور عیسائی مقدس مقامات کی بار بار خلاف ورزیوں کی سخت مذمت کی ہے۔
ایس پی اے کے مطابق سعودی عرب، پاکستان، مصر، ترکیہ، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر اور جمہوریہ انڈونیشیا کے وررائے خارجہ نے مسجد الاقصی میں اسرائیلی آباد کاروں اور انتہا پسند وزرا کی جانب سے، اسرائیلی پولیس کے حصار میں مسلسل دراندازیوں اور مقدس مقامات کے احاطوں میں اسرائیلی پرچم لہرانے کے اقدامات کی مذمت کی۔
وزارئے خارجہ نے ان اشتعال انگیز اقدامات کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ناقابل قبول قرار دیا۔
مشترکہ بیان میں القدس اور وہاں کے اسلامی و عیسائی مقدس مقامات کی موجودہ تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو سختی سے مسترد کرنے اور اس کے تحفظ کی ضرورت پر زور اور اردن کی تاریخی سرپرستی کے خصوصی کردار کو تسلیم کیا گیا۔
وزرائے خارجہ نے کہا کہ’ مسجد الاقصی کا مکمل رقبہ مقدس و مبارک مقام ہے، جس کا مجموعی رقبہ 144 دونم ہے، یہ مقام مکمل طور پر مسلمانوں کی عبادت کے لیے مخصوص ہے۔ القدس کا وقف ادارہ جو اردن کی وزارت اسلامی امور و مقدسات کے زیر انتظام ہے، وہ ادارہ مسجد الاقصی کے جملہ انتظامات اور وہاں داخلے کے امور کا نگران و مجاز ہے۔‘
مشترکہ بیان میں غیرقانونی آباد کاری کی سرگرمیوں کی بھی مذمت کی گئی، جس میں اسرائیل کی جانب سے 30 سے زائد نئی بستیوں کے قیام کا فیصلہ شامل ہے، جو بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور 2024 میں بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی مشاورتی رائے کی صریح خلاف ورزی ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد بالخصوص حالیہ حملے جن میں فلسطینی سکولوں اور بچوں کو نشانہ بنایا گیا، کی مذمت کی۔ ان حملوں کے ذمہ داران کے احتساب کا مطالبہ کیا گیا۔
وزرا خارجہ نے مزید کہا کہ ’یہ اقدامات فلسطینی ریاست کی عملداری اور دوریاستی حل کے نفاذ پر براہِ راست و منظم حملہ ہیں، جو کشیدگی کو ہوا دیتے، امن کی کوششوں کو کمزور کرتے اور کشیدگی میں کمی و استحکام کی بحالی کے لیے جاری اقدامات میں رکاوٹ کا باعث بنتے ہیں۔‘
بین الاقوامی برادری پر زور دیا گیا کہ ’وہ اپنی قانونی و اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرے۔ اسرائیل کو مقبوضہ مغربی کنارے میں ’خطرناک کشیدگی‘ بڑھانے سے روے اور اس کی غیرقانونی کارروائیاں ختم کرنے پر مجبور کرے۔‘
بین الاقوامی برادری، اسرائیل کی جانب سے جاری خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے واضح اور فیصلہ کن اقدامات کرے، ایک جامع و منصفانہ امن کے حصول کے لیے دوریاستی حل کی بنیاد پر سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تمام علاقائی و بین الاقوامی کوششوں کو تیز کیا جائے۔
