Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لاہور: 3 شہریوں کے نام پر ہزاروں گاڑیاں اور لاکھوں کا چالان، پولیس پریشان کیوں؟

پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ای چالان نادہندگان کے خلاف جاری کارروائی کے دوران ایسے متعدد کیسز سامنے آئے ہیں جن میں ایک ہی شخص کے نام پر ہزاروں موٹرسائیکلیں، رکشے اور دیگر گاڑیاں رجسٹرڈ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ ان کیسز کی وجہ سے ایک جانب اگر ای چالان کے بڑے نادہندگان سامنے آئے ہیں تو دوسری طرف حکام کی جانب سے سکیورٹی خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
لاہور کے چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) سید عبدالرحیم شیرازی نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے کیسز کے بعد محکمۂ ایکسائز کو ایک مراسلہ بھیجا جا رہا ہے تاکہ یہ جائزہ لیا جا سکے کہ آخر ایک ہی شہری کے نام پر سینکڑوں یا ہزاروں گاڑیاں کیسے رجسٹر ہو جاتی ہیں۔‘
گزشتہ روز لاہور میں جنرل ہولڈ اپ کے دوران ایک موٹرسائیکل کی جانچ سے معلوم ہوا کہ محمد جمشید نامی شہری کے نام پر 1743 موٹرسائیکلیں، رکشے اور دیگر گاڑیاں رجسٹر ہیں۔
تحقیقات کے مطابق ان گاڑیوں پر مجموعی طور پر 2295 ای چالان جاری ہو چکے تھے جبکہ واجب الادا جرمانوں کی رقم 28 لاکھ 25 ہزار 700 روپے تک پہنچ چکی تھی۔
ترجمان سٹی ٹریفک پولیس عارف علی رانا کے مطابق ٹریفک اہلکاروں نے موٹرسائیکل قبضے میں لے کر پولیس سٹیشن مسلم ٹاؤن منتقل کر دی جبکہ اصل استعمال کنندگان کا سراغ لگانے کے لیے سیف سٹی حکام کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق یہ معاملہ اب صرف ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی یا جرمانوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس سے سکیورٹی کے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔

سی ٹی او لاہور کا کہنا ہے کہ ایسی گاڑیاں اکثر قسطوں یا سود کے کاروبار کے تحت فروخت کی جاتی ہیں (فوٹو: سٹی ٹریفک پولیس سوشل میڈیا)

سی ٹی او سید عبدالرحیم شیرازی نے اردو نیوز کے ساتھ گفتگو میں بتایا کہ ’گاڑی ایک شخص کے نام پر ہوتی ہے اور استعمال کوئی دوسرا کر رہا ہوتا ہے۔ ہم اس مشترکہ یا غیر واضح ملکیت کے رجحان کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم ایکسائز کو یہ مراسلہ لکھ رہے ہیں کہ وہ اپنی اس پالیسی پر نظر ثانی کرے جس کے تحت ایک شخص کے نام پر پانچ سو یا اس سے زیادہ گاڑیاں رجسٹر ہو جاتی ہیں۔‘
اس سے ایک ہفتہ قبل 9 جون 2026 کو ہی باز محمد نامی شہری کا کیس سامنے آیا تھا۔ لاہور ٹریفک پولیس کے مطابق جنرل ہولڈ اپ کے دوران روکی گئی اس موٹرسائیکل کی جانچ سے معلوم ہوا کہ باز محمد کے شناختی کارڈ پر 1526 ای چالان واجب الادا ہیں جن کی مجموعی مالیت 20 لاکھ 88 ہزار 800 روپے بنتی ہے۔ بعد ازاں ریکارڈ کی مزید جانچ سے انکشاف ہوا کہ ان کے نام پر 421 گاڑیاں، رکشے اور موٹرسائیکلیں رجسٹرڈ تھیں۔
یہ معاملہ سامنے آنے کے بعد پولیس نے موٹرسائیکل ضبط کر لی اور تفتیش کا آغاز کر دیا۔
اسی نوعیت کا ایک اور کیس دسمبر 2025 میں سامنے آیا تھا جب گڑھی شاہو کے رہائشی تاجر حاجی صادق خان کو سیف سٹی کی جانب سے لاکھوں روپے مالیت کے ای چالان موصول ہوئے۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ان کے نام پر 500 سے زائد موٹرسائیکلیں رجسٹرڈ ہیں جن پر 2071 چالان جاری کیے جا چکے تھے جبکہ واجب الادا رقم 23 لاکھ 88 ہزار 700 روپے تھی۔
صادق خان موٹرسائیکلیں قسطوں پر فروخت کرنے کا کاروبار کرتے ہیں اور ان کے مطابق متعدد خریداروں نے گاڑیاں خریدنے کے باوجود انہیں اپنے نام منتقل نہیں کروایا جس کے باعث تمام چالان سرکاری ریکارڈ کے مطابق انہی کے نام پر درج ہوتا رہا۔
سی ٹی او لاہور اس حوالے سے بتاتے ہیں کہ ’ایسی گاڑیاں اکثر قسطوں یا سود کے کاروبار کے تحت فروخت کی جاتی ہیں اور بعد میں خریدار ان کی ملکیت اپنے نام منتقل نہیں کرواتے جس سے جرائم کے لیے ان کے استعمال کا خدشہ بھی پیدا ہوتا ہے۔‘

حکام کے مطابق بعض ڈیلرز یا ایجنٹس کے ذریعے ایک ہی شناختی کارڈ پر بڑی تعداد میں گاڑیاں رجسٹر ہو جاتی ہیں (فوٹو: پاک وہیلز)

حاجی صادق خان نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’انہیں جب ان ای چالانز کے بارے میں معلوم ہوا تو انہوں نے اپنے ریکارڈ کی رسیدیں نکالنی شروع کیں۔‘
ان کے مطابق، میں ان تمام چالانز کی ادائیگی نہیں کروں گا۔ ظاہر ہے جن کے نام پر موٹرسائیکلیں ہیں وہی یہ چالان دیں گے لیکن ہمارے پاس ایسے کئی لوگوں کی فہرست ہے جو قسطیں آج بھی ادا کر رہے ہیں اور ہم تب تک گاڑیاں خریدار کے نام پر منتقل نہیں کرتے جب تک قسطیں مکمل نہ ہو جائیں۔‘
ان کے مطابق انہوں نے ایک الگ فہرست بنا کر ان لوگوں سے رابطہ شروع کر دیے ہیں جن کے نام پر موٹرسائیکل فروخت ہوئی ہے۔
وہ بتاتے ہیں کہ ‘یہ ایک مشکل کام ہے لیکن اب کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔‘
ٹریفک اور سیف سٹی حکام کے مطابق اس رجحان کی چند اہم وجوہات ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں اوپن لیٹر پر گاڑیوں کی خرید و فروخت ہے جس میں گاڑی فروخت ہونے کے باوجود سرکاری ریکارڈ میں ملکیت منتقل نہیں کی جاتی۔ اسی طرح حکام کے مطابق بعض ڈیلرز یا ایجنٹس کے ذریعے ایک ہی شناختی کارڈ پر بڑی تعداد میں گاڑیاں رجسٹر ہو جاتی ہیں جبکہ سیف سٹی کا خودکار کیمرہ نظام خلاف ورزی کرنے والی گاڑی کے رجسٹرڈ مالک کے نام پر ہی چالان جاری کرتا ہے۔
حکام کے مطابق عدم ادائیگی کی صورت میں چالان مسلسل جمع ہوتے رہتے ہیں اور اکثر اس وقت سامنے آتے ہیں جب کسی ناکہ بندی یا جنرل ہولڈ اپ کے دوران ریکارڈ چیک کیا جاتا ہے۔
اب تک منظر عام پر آنے والے تین بڑے کیسز میں مجموعی طور پر 2664 گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں ایک ہی فرد کے نام پر رجسٹر ہونے کے بارے میں معلوم  ہوا۔
ان کیسز میں مجموعی طور پر 5892 سے زائد ای چالان سامنے آئے جبکہ واجب الادا جرمانوں کی رقم تقریباً 74 لاکھ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ یہ 3 مختلف شہریوں کے نام پر واجب الادا چالان ہیں۔

یہ معاملہ اب صرف ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی تک محدود نہیں رہا بلکہ سکیورٹی کے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں (فوٹو: ڈیلی ڈان)

سی ٹی او عبدالرحیم شیرازی کے مطابق ایسے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ گاڑیوں کی ملکیت اور رجسٹریشن کے موجودہ نظام کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’گاڑیوں کے اصل استعمال کنندگان اور سرکاری ریکارڈ میں درج مالکان کے درمیان اگر فرق برقرار رہا تو نہ صرف ٹریفک قوانین پر عملدرآمد متاثر ہوگا بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سکیورٹی کے حوالے سے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’سیف سٹی اتھارٹیز کا اپنا قانون ہے جس کے تحت سول کورٹس میں ان کی پراپرٹی اٹیچ ہوجائے گی اور وہ اگر اپنے واجب الادا چالان ادا نہیں کرتے تو عدالت میں ثابت ہوجانے کی صورت میں ان کی پراپرٹی سے یہ چالان ادا کیے جائیں گے۔‘

شیئر: