سوات دھماکہ: سلامتی کونسل کی پاکستان میں ’بزدلانہ‘ دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت
کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی (فائل فوٹو: اے ایف پی)
نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں ایک پولیس سٹیشن کے باہر ہونے والے خودکش حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے دہشت گردی کی ایک ’شرمناک اور بزدلانہ‘ کارروائی قرار دیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سوات کی تحصیل کبل میں دو اگست کو ہونے والے اس خونریز خودکش دھماکے میں کم از کم 16 افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں زیادہ تر عام شہری شامل تھے جبکہ درجنوں افراد شدید زخمی ہوئے۔
کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
سلامتی کونسل کے تمام 15 رکن ممالک کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس بیان میں متاثرہ خاندانوں، پاکستانی عوام اور حکومت کے ساتھ دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا گیا ہے جبکہ زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کی دعا کی گئی ہے۔
خیبر پختونخوا میں حالیہ برسوں کے دوران سکیورٹی فورسز اور پولیس تنصیبات پر ٹی ٹی پی کے بڑھتے ہوئے حملوں کے کے سلسلے کی یہ تازہ ترین کڑی ہے۔
پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں عسکریت پسندی کی اس تازہ لہر پر عالمی برادری مسلسل تشویش اور مذمت کا اظہار کرتی رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اپنے بیان میں اس عزم کو دہرایا کہ ’دہشت گردی اپنے تمام روپ اور مظاہر میں بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے شدید ترین خطرات میں سے ایک ہے۔
کونسل کا کہنا تھا کہ ایسے تمام افعال مجرمانہ اور بلاجواز ہیں، قطع نظر اس کے کہ ان کے پیچھے کیا محرکات ہیں، اور یہ کہاں، کب اور کس نے کیے ہیں۔‘
سلامتی کونسل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس حملے کے منصوبہ سازوں، مالی معاونت کرنے والوں اور پشت پناہی کرنے والے تمام عناصر کو قانون کے کٹھہرے میں لا کر انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔
اس سلسلے میں 15 رکنی کونسل نے دنیا کے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان کے ساتھ فعال تعاون کریں۔