Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فلکیاتی سیاحت کا فروغ: رائل کمیشن بورڈ نے ’منارہ العلا‘ کے ڈیزائن کی منظوری دے دی

رائل کمیشن فار العلا کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے فلکیاتی دریافت اور پائیدار سیاحت کے ایک بڑے منصوبے کے ڈیزائن منارہ العلا کی منظوری دی ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی کے مطابق منارہ العلا ایک عالمی معیار کی جدید رصدگاہ ہوگی جس کا وزیٹر اور ریسرچ سینٹر قدیم شہر سے شمال کی جانب 70 کلومیٹر دور قائم کیا جائے گا۔
یہ مرکز ایک ثقاقتی اور سائنسی سنگِ میل کی حیثیت کا حامل ہوگا جہاں سے ستاروں کا مشاہدہ اور نگرانی ممکن ہوگی۔
منارہ العلا کا ڈیزائن اس خطے کی قدرتی ارضیات سے متاثر ہے جس میں مستقبل کے فن تعمیر کے عناصر شامل ہیں، اس کے بیرونی حصے کے لیے مقامی سینڈ سٹون استعمال کیا جائے گا۔
ڈیزائن کی بدولت العلا کے قدرتی اور ثقافتی ماحول اور فلکیات سے جڑے اس تاریخی ورثے کا عکاس ہے، یہاں ایک جدید فلکیاتی رصدگاہ، عالمی معیار کا تحقیقی مرکز، طاقت ور دوربینیں، مشاہداتی پلیٹ فارمز، نمائشیں اور انٹرایکٹیو تجربات شامل ہوں گے۔

اس مقام کا انتخاب روشنی کی آلودگی کی کم ترین سطح کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ یہ مقام صاف اور شفاف آسمان والے علاقے حرۃ عویرد اور الغرامیل کے درمیان واقع ہے۔
یہ پروجیکٹ، سعودی خلائی ایجنسی، کنگ عبدالعزیز سٹی فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور سٹی انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ شراکت میں کام کرے گا تاکہ منارہ العلا کو سائنسی ترقی کے مرکز کے طور پر پیش کیا جائے۔
یہ منصوبہ تحقیق و ترقی کے اقدامات کو اپنی جانب متوجہ کرے گا جبکہ ستاروں کے مشاہدے کے تجربات اور فلکی سیاحت کو بھی فروغ دیا جائے گا۔

منارہ العلا میں چار میٹر قطر کی ایک مرکزی طاقتور دوربین کے ساتھ دو میٹر قطر کی دو اضافی دوربینیں بھی نصب کی جائیں گی ۔ جس سے اس کا شمار دنیا کی بڑی رصد گاہوں میں ہوگا۔
جدید تعمیری خصوصیات کی حامل یہ رصد گاہ قدرتی ماحول سے ہم آہنگ ہوگی اور آسمان کے واضح مشاہدے کے ساتھ ارد گرد کے قدرتی مناظر کے دلکش نظارے بھی ممکن ہوں گے۔

 

شیئر: