سعودی عرب: ایک ہفتے میں 10 ہزار 827 غیرقانونی تارکین کو واپس بھیجا گیا
اقامہ، لیبر اور بارڈر قانون کی 14 ہزار 440 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں ( فوٹو: اے ایف پی)
سعودی عرب میں ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور بارڈر قانون کی مزید 14 ہزار 440 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں، جبکہ 10 ہزار 827 غیرقانونی تارکین کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔
ایس پی اے کے مطابق’ 30 جولائی سے 5 اگست 2026 کے درمیان مجموعی طور پر 7 ہزار 90 افراد کو اقامہ قانون، 3 ہزار 932 کو غیر قانونی سرحد عبور کرنے کی کوشش اور 3 ہزار 418 کو لیبر لا کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا۔‘
’غیر قانونی طور پر مملکت میں داخل ہونے کی کوشش پر ایک ہزار 593 افراد کو گرفتار کیا گیا، ان میں 59 فیصد ایتھوپین، 40 فیصد یمنی اور ایک فیصد دیگر ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
علاوہ ازیں 32 ایسے افراد کو بھی پکڑا گیا ہے، جو سرحد پار کر کے مملکت سے ہمسایہ ملکوں میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
سفر، رہائش، روزگار اور پناہ دینے کی کوششوں میں ملوث 25 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
واضح رہے سعودی عرب میں غیرقانونی تارکین وطن کو سفری، رہائشی یا ملازمت کی سہولت فراہم کرنا قانوناً جرم ہے اور اس کے لیے مختلف سخت سزائیں مقرر ہیں۔

سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے’ جو بھی شخص غیر قانونی تارکین کو سعودی عرب میں داخل ہونے کی سہولت فراہم کرے گا، اسے 15 برس قید اور 10 لاکھ ریال تک جرمانے کے ساتھ گاڑی اور جائداد کی ضبطی کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘
مکہ اور ریاض میں ٹول فری نمبر 911 جبکہ مملکت کے دیگر علاقوں میں 999 یا 996 پر مشتبہ خلاف ورزیوں کی اطلاع دی جا سکتی ہے۔
