Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سندھ طاس معاہدے پر اسلام آباد میں سیمینار، ’پاکستان اپنے حصے پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا‘

سیمینار میں حکومتی شخصیات کے علاوہ آبی ماہرین اور غیرملکی مبصرین بھی شریک ہیں (فوٹو: حکومت پاکستان)
پاکستان کے حکام نے کہا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے پر انڈیا کی کسی قدغن کو تسلیم نہیں کرتے اور پاکستان کسی صورت اپنے حصے پر سمجھوتہ نہیں کرتے گا۔
منگل کو دارالحکومت اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں منعقد ہونے والے ’سندھ طاس معاہدہ، امن اور علاقائی استحکام کا اہم ذریعہ‘ کے موضوع پر اظہار خیال کیا جا رہا ہے۔
اس کے افتتاحی سیشن سے وفاقی وزیر اطلاعات افتتاحی سیشن سے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک معاہدے پر نہیں بلکہ 24 کروڑ عوام کی زندگی کی شہ رگ پر بات کر رہے ہیں۔
سیمینار میں وفاقی وزرا، سیاسی رہنما، ملکی و غیرملکی ماہرین اور دوسرے حکام شریک ہیں جو سندھ طاس معاہدے کی اہمیت، انڈیا کی جانب سے معاہدے کو معطل کرنے کے دعوے، آبی وسائل کے تحفظ اور علاقائی تعاون کے بارے میں اظہار خیال کر رہے ہیں۔ 
عطا تارڑ کے مطابق ’آج ہم صرف ایک معاہدے نہیں بلکہ ملک کے 24 کروڑ لوگوں کی شہ رگ پر بات کر رہے ہیں، وادی سندھ کی تہذیب  ہی ہماری اصل شناخت ہے اور ہم اس عظیم تہذیب کے وارث ہیں، پانی پاکستان کے لیے قدرت کا تحفہ ہی نہیں بلکہ زندگی کا مسئلہ بھی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ دریائے سندھ ہزاروں برس سے دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک کی آبیاری کرتا آیا ہے اور دو ممالک نے کئی دہائیاں قبل ایک غیرمعمولی فیصلہ کیا تھا۔
اس موقعے پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے ماحولیات مصدق ملک کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے حصے کے پانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے افتتاحی سیشن سے خطاب کیا (فوٹو: حکومت پاکستان)

ان کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ انڈیا پانی پر کنٹرول حاصل کر کے اس کو بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہتا ہے۔ وہ اپنی مرضی کے مطابق پانی کو کنٹرول نہیں کر سکتا۔
ان کے مطابق ’اگر سندھ طاس معاہدے پر عمل نہیں ہوتا تو دنیا کا کوئی بھی معاہدہ توڑا جا سکے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پانی کی عدم دستیابی سے پاکستان ہی نہیں بلکہ بنگلہ دیش کے لوگ بھی متاثر ہو رہے ہیں، پاکستان معاہدے پر عمل اور اپنے پانی کی حفاظت کرنا اچھی طرح جانتا ہے۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر انڈس اندس واٹر ٹریٹی سيد مہر على شاه نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ صرف ایک دستاویز نہیں بلکہ 24 کروڑ پاکستانیوں کی زندگی کا معاملہ ہے۔ اس سے ہماری زراعت، خوراک اور معیشت جڑی ہوئی ہے۔
ان کے مطابق یہ معاہدہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور امن کے لیے ہے اور معاہدے میں مسائل کے حل کا طریقہ کار موجود ہے۔

سینمار میں حکومتی حکام اور ماہرین شریک ہیں (فوٹو: پی ٹی وی)

انہوں نے کہا کہ معاہدے میں مجموعی طور پر 12 شقیں ہیں اور فریقین کو دریاؤں کے بہاؤ سے متعلق معلومات فراہم کرنا لازمی ہے۔
 ان کے مطابق اگر معاہدے میں یہ بھی ہے کہ اگر کسی وجہ سے مسائل حل نہیں ہوتے تو پھر معاملہ ثالث کے پاس جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ثالثی عدالت واضح کر چکی ہے کہ انڈیا معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کر سکتا۔
سیمینار اس وقت جاری ہے اور مختلف ماہرین اس میں اپنے خیالات کا اظہا کر رہے ہیں۔
خیال رہے 1960 میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہونے والا سندھ طاس معاہدہ پچھلے برس اس وقت اچانک شہ سرخیوں میں آیا تھا جب انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں ہونے والی ایک دہشت گردی کا الزام پاکستان پر لگایا گیا اور معاہدہ معطل کرنے کی دھمکی دی گئی تھی، اس کے بعد دونوں ممالک نے اپریل میں ایک دوسرے پر حملے بھی کیے تھے۔
اس کے بعد انڈین حکومت نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے اور پاکستان کا پانی روکنے کا اعلان کیا تھا۔

شیئر: