Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اککو یادو: 40 سے زائد ریپ کا ملزم جسے 200 خواتین نے عدالت میں ہلاک کر دیا

تقریباً دو دہائی بعد نیٹ فلکس کی دستاویزی سیریز ’انڈین پریڈیٹر: مرڈر ان اے کورٹ روم‘ نے اس بھولی ہوئی داستان کو دوبارہ زندہ کردیا۔ (فوٹو: فیس بک)
14  اگست 2004 کے اخبار نے پورے مہاراشٹر ہلا کر رکھ دیا۔ اخبار کی شہ سرخیاں چیخ چیخ کر کہہ رہی تھیں کہ کس طرح ناگپور کی کچی آبادی کستوربا نگر کی خواتین نے چھری چاقو، پتھر اور مرچ کے پاؤڈر سے لیس ہو کر کورٹ روم نمبر 7 پر حملہ کیا اور اپنے سروں پر مسلط ایک شخص کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
اس سے ایک روز قبل 13 اگست کو انڈیا کی مغربی ریاست مہاراشٹر کے معروف شہر ناگپور کی کستوربا نگر بستی میں عجیب خاموشی تھی۔ ٹین کی جھونپڑیوں کے دروازے اور کھڑکیاں بند تھیں، گلیاں سنسان تھیں اور آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے۔
مقامی اخبارات کی رپورٹس کے مطابق مقامی سماجی کارکن آشو سکسینہ گھر گھر جا کر خواتین کو باہر آنے اور بات کرنے پر آمادہ کررہی تھیں۔  گاہے گاہے کسی کسی گھر کے اندر سے سسکیوں کی آواز آتی اور پھر خاموشی چھا جاتی۔
اس روز بستی کی خواتین نے ایسا قدم اٹھایا تھا جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ یہ کسی فلمی کہانی کی طرح تھا اور اس پر بعد میں ایک ویب سیریز بھی بنی۔
دوپہر کا وقت تھا، فضا میں حبس تھا پھر قریب تین بجے ایک انہونی ہو گئی۔ 13 اگست 2004 کو ناگپور کی ضلعی عدالت کے ایک کمرے میں 200 سے زیادہ خواتین کے ایک ہجوم نے  32 سالہ بھرت کالی چرن یادو عرف اککو یادو کو پیٹ پیٹ کر صرف 15 منٹ میں ہلاک کردیا۔
اس کے چہرے پر مرچی کے پاؤڈر پھینکے گئے۔ اس کو پتھر سے نشانہ بنایا گيا۔
مقامی خواتین کے مطابق اککو یادو برسوں سے بستی کے لیے دہشت کی علامت تھا۔ انسانی حقوق کی تنظیم کامن ویلتھ ہیومن رائٹس انیشی ایٹو کی تحقیق کے مطابق اککو یادو کے جسم پر پوسٹ مارٹم کے دوران 73 زخم پائے گئے۔

ایک رپورٹ کے مطابق جب کوئی لڑکی پولیس میں ریپ کی شکایت درج کرتی تو پولیس اس لڑکی کو ہی بدکردار کہہ کر بھگا دیتی۔ (فوٹو: نیٹ فلیکس)

لیکن یہ صرف دن دیہاڑے ہونے والے محض ایک قتل کی کہانی نہیں تھی۔ اس کے پس پشت برسوں سے جاری خوف و ہراس، جنسی تشدد اور پولیس اور ریاستی نظام سے مایوسی پوشیدہ تھی۔
اککو یادو نے معمولی جرائم سے ابتدا کی لیکن جرائم کی دنیا میں داخل ہوتے ہی اس کی ملاقات دوسرے جرائم پیشہ لوگوں سے ہوئی اور وقت کے ساتھ چوری، ڈکیتی اور دیگر سنگین مقدمات میں اس کا نام آنے لگا۔ اس نے اپنا ایک گروہ بنا لیا اور اس کے پہلے سب سے خطرناک جرائم میں 1991 میں ایک گینگ ریپ شامل ہے۔ اس وقت اس کی عمر محض 20 سال تھی۔
کہتے ہیں کہ اس نے اپنی مجرمانہ زندگی کے دوران کم از کم تین افراد کو قتل کیا، بہت سے لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اغوا کیا، گھروں میں ڈکیتیاں ڈالیں اور 40 سے زیادہ خواتین اور لڑکیوں کا ریپ کیا۔
دی گارڈین اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق جب کوئی لڑکی پولیس میں ریپ کی شکایت درج کرتی تو پولیس اس لڑکی کو ہی بدکردار کہہ کر بھگا دیتی۔ 
اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ پولیس کو رشوت دیتا، ان کے لیے شراب کا انتظام کرتا اور وہ کھلے عام جرم کا ارتکاب کرتا رہا۔ پولیس نے کئی سالوں تک اککو کو نہ صرف روکنے سے انکار کیا بلکہ اس کا ساتھ دیا۔
اککو اور اس کے ساتھیوں نے ان کی مزاحمت کرنے والوں کو خبردار کرنے کے لیے 10 سال سے کم عمر کی بچیوں کا بھی ریپ کیا۔

اس قتل نے ایک بنیادی سوال اٹھایا کہ جب قانون کسی بستی کو تحفظ دینے میں ناکام ہوجاتا ہے تو لوگ قانون اپنے ہاتھ میں لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ (فوٹو: نیٹ فلیکس)

انسانی حقوق کی تحقیق کے مطابق اس کی موت کے وقت اس کے خلاف دو درجن سے زیادہ فوجداری مقدمات درج تھے اور وہ کئی مرتبہ گرفتار ہوچکا تھا۔
بستی کی خواتین کا الزام تھا کہ وہ ان کے گھروں میں گھس کر انہیں ہراساں کرتا ہے اور بعض مواقع پر اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ ان کا اجتما‏عی ریپ کرتا تھا۔ ایک سماجی کارکن نے ایسی حاملہ خاتون کا واقعہ بھی بیان کیا جسے مبینہ طور پر اککو اور اس کے ساتھیوں نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔
علاقے میں اس کا خوف اتنا تھا کہ بہت سی خواتین پولیس کے پاس جانے سے بھی گریز کرتی تھیں۔ دی گارڈین کی ایک رپورٹ کے مطابق دلت سماج سے آنے والی اوشا نارائنی بھی تھی جس پر اس کے قتل کا الزام تھا لیکن اوشا کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت عدالت کے احاطے میں موجود نہیں تھی۔
اککو یادو نے اس پر تیزاب پھینکنے اور اس کا ریپ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ اس نے اس کی مخالفت کی اور بچ گئی کیونکہ اس کے وکیل بہنوئی اس کے ساتھ کھڑے تھے۔
اوشا نے کہا کہ ’وہ صرف غریب لوگوں کا ریپ کرتا جن کے بارے میں اس کا خیال تھا کہ وہ جا کر اس کی شکایت نہیں کریں گے، یا اگر وہ کریں گے تو ان کی بات نہیں سنی جائے گی۔ لیکن اس نے مجھے دھمکی دے کر بہت بڑی غلطی کی ہے۔ لوگوں کو لگتا تھا کہ اگر مجھ پر حملہ ہوا تو کوئی بھی عورت محفوظ نہیں رہے گی۔‘
پھر اگست کے اوائل میں رفتہ رفتہ خاموشی ٹوٹنے لگی۔ بستی کے لوگوں نے پولیس کو اجتماعی شکایت دی کہ اککو انہیں ہراساں کرتا ہے اور علاقے سے باہر رہنے کی پابندی کے باوجود وہ وہاں آتا ہے اور آکر لوگوں کو دھمکاتا ہے۔ پولیس نے اسے گرفتار کرلیا، مگر جب یہ خبر پھیلی کہ عدالت سے اسے ضمانت مل سکتی ہے تو پھر خواتین کا غصہ پھٹ پڑا۔

2014 میں اککو کے قتل کے مقدمے میں نامزد 18 افراد کو عدالت نے بری کردیا۔ (فوٹو: نیٹ فلیکس)

13  اگست کو اککو کو ضلع عدالت لایا گیا۔ عدالت کے باہر ہجوم جمع تھا۔ پولیس نے خطرہ محسوس کیا، مگر حفاظتی انتظامات ناکافی ثابت ہوئے۔ ہجوم عدالت کے کمرے تک پہنچ گیا اور پولیس و عدالتی عملہ اپنی جان بچانے کے لیے وہاں سے بھاگ گیا۔
چند ہی لمحوں میں اککو یادو کو چھرے چاقو سے نشانہ بنایا گیا اور عدالت کا کمرہ خون سے بھر گیا۔
تاہم اس واقعے کے بارے میں آج بھی سوال موجود ہے کہ حملہ آوروں میں خواتین کی اصل تعداد کتنی تھی۔ پولیس ریکارڈ اور بعد کے میڈیا بیانات میں فرق پایا جاتا ہے۔
بعض لوگوں نے یہ نظریہ بھی پیش کیا کہ کسی حریف گروہ نے خواتین کے ہجوم کو پردے کے طور پر استعمال کیا، لیکن کئی خواتین نے خود واقعے میں شرکت کی ذمہ داری قبول کی۔
اس قتل نے ایک بنیادی سوال اٹھایا کہ جب قانون کسی بستی کو تحفظ دینے میں ناکام ہوجاتا ہے تو لوگ قانون اپنے ہاتھ میں لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
ہائی کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج نے تو خواتین کو مبارکباد بھی دی۔ جسٹس بھاؤ واہنے نے کہا کہ ’ان حالات میں ان کے پاس اککو کو ختم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا تھا۔ خواتین نے بار بار پولیس سے اپنی حفاظت کی درخواست کی لیکن پولیس ان کی حفاظت کرنے میں ناکام رہی۔‘
2014 میں اککو کے قتل کے مقدمے میں نامزد 18 افراد کو عدالت نے بری کردیا۔ استغاثہ ملزمان کے خلاف قابلِ اعتماد ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا، گواہوں کے بیانات میں تضادات تھے اور تفتیش میں بھی کئی خامیاں سامنے آئیں۔
عدالت کے فیصلے کا مطلب ہجوم کے ہاتھو قتل کو جائز قرار دینا نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ استغاثہ مخصوص ملزمان کا جرم ثابت نہیں کرسکا۔
تقریباً دو دہائی بعد نیٹ فلکس کی دستاویزی سیریز ’انڈین پریڈیٹر: مرڈر ان اے کورٹ روم‘ نے اس بھولی ہوئی داستان کو دوبارہ زندہ کردیا۔ سیریز بنانے والی ٹیم کو کستوربا نگر کی خواتین کا اعتماد حاصل کرنے میں کئی ماہ لگے۔ بہت سی خواتین آج بھی اپنے ماضی کے بارے میں بات کرنے سے خوف زدہ ہیں۔
کستوربا نگر کی خواتین نے قانون توڑا، لیکن ان کی کہانی یہ سوال ضرور چھوڑ گئی کہ اگر قانون وقت پر کمزوروں کے ساتھ کھڑا ہوجائے تو کیا کبھی کسی کو عدالت کے کمرے میں خود انصاف کرنے کی ضرورت محسوس ہوگی؟

شیئر: