سندھ میں کھجور کی فصل مزدوروں کے لیے ’آگ کا کھیل‘ کیسے بنی؟
سندھ میں کھجور کی فصل مزدوروں کے لیے ’آگ کا کھیل‘ کیسے بنی؟
جمعہ 14 اگست 2026 7:18
کھجور کے باغات میں کام کرنے والے مزدور دن کی شدید ترین گرمی سے بچنے کے لیے تقریباً رات دو بجے کام شروع کرنے پہنچ جاتے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
محمد ادریس شدید گرمی میں آگ پر کھولتے ہوئے کڑاہے سے کھجوریں نکال رہے ہیں۔ پاکستان کے جنوبی صوبے سندھ میں کھجور کی فصل سے وابستہ مزدوروں کا کہنا ہے کہ ہر گزرتے سال کے ساتھ ان کا کام مشکل ہوتا جا رہا ہے بلکہ گرمی بھی بڑھتی جا رہی ہے۔
کھجوروں کا موسم جولائی سے شروع ہوتا ہے، جب سندھ میں درجۂ حرارت معمول کے مطابق 40 سے 45 ڈگری سیلسیس کے درمیان پہنچ جاتا ہے۔
مزدور سورج طلوع ہونے سے قبل اپنا کام شروع کر دیتے ہیں اور دن کو مختصر شفٹوں میں تقسیم کرتے ہیں، لیکن کچھ ہی دیر میں شدید گرمی کے اثرات نمایاں ہونے لگتے ہیں۔
ان کی سخت روزمرہ محنت میں کھجور کے ان درختوں سے پھل توڑنا اور انہیں اُبالنا شامل ہے جو ضلع خیرپور میں دور دور تک پھیلے ہوئے ہیں۔ خیرپور ملک کی نصف سے زیادہ کھجور پیدا کرتا ہے اور ہزاروں کسانوں اور موسمی مزدوروں کا روزگار اسی فصل سے وابستہ ہے۔
محمد ادریس ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے کھجور کی فصل پر کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب گرمی ’ناقابلِ برداشت‘ ہو چکی ہے۔
کھجور کے مزدور پاکستان میں زراعت سے وابستہ ان متعدد پیشوں میں سے ایک سے منسلک ہیں جو درجۂ حرارت میں اضافے کے باعث پہلے سے زیادہ مشکل اور خطرناک ہوتا جا رہا ہے۔
درجہ حرارت 42 ڈگری سیلسیس تک پہنچنے پر محمد ادریس نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ماضی میں اس قدر شدید گرمی نہیں ہوا کرتی تھی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اب گرمی بہت زیادہ شدید ہوتی ہے اور دن انتہائی گرم ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے ہم بیمار پڑ جاتے ہیں۔‘
کئی مزدوروں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’انہیں اکثر ہیٹ سٹروک، بے ہوشی اور بخار کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘
محمد ادریس نے مزید کہا کہ ’گرمی کی وجہ سے جب ہم بیمار پڑتے ہیں تو علاج کے لیے ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں اور پھر واپس کام پر آ جاتے ہیں۔‘
پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ہیں، حالانکہ عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اس کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔
ملک کو بڑھتی ہوئی تعداد میں شدید گرمی کی لہروں، بے قاعدہ مون سون بارشوں اور تباہ کن سیلابوں کا سامنا رہا ہے۔ ان میں 2022 کے تباہ کن سیلاب بھی شامل ہیں، جنہوں نے ملک کے تقریباً ایک تہائی حصے کو زیر آب کر دیا تھا اور لاکھوں افراد بے گھر ہوئے تھے۔ صوبہ سندھ ان سیلابوں سے خاص طور پر شدید متاثر ہوا تھا۔
گرمی اور فصل کی کٹائی
کھجور کے باغات میں کام کرنے والے مزدور دن کی شدید ترین گرمی سے بچنے کے لیے تقریباً رات دو بجے کام شروع کرنے پہنچ جاتے ہیں۔ اس کے بعد وہ وقفہ کرتے ہیں اور پھر رات گئے تک کام جاری رکھتے ہیں۔
پاکستان دنیا میں کھجور پیدا کرنے والا پانچواں بڑا ملک ہے اور ہر سال 12 کروڑ ڈالر سے زیادہ مالیت کی کھجوریں برآمد کرتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
محمد ادریس نے بتایا کہ ’اس جسمانی طور پر انتہائی مشقت طلب کام سے انہیں روزانہ تقریباً 1200 روپے ملتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہم کھجوریں توڑتے ہیں، انہیں ٹرالیوں پر لاد کر یہاں لاتے ہیں۔ پھر انہیں آگ پر اُبالا جاتا ہے اور اس کے بعد دھوپ میں باہر پھیلا کر خشک کیا جاتا ہے۔‘
صنعت سے وابستہ اندازوں کے مطابق پاکستان دنیا میں کھجور پیدا کرنے والا پانچواں بڑا ملک ہے اور عام طور پر ہر سال 12 کروڑ ڈالر سے زیادہ مالیت کی کھجوریں برآمد کرتا ہے۔
کھجور کے کاشت کار شاہنواز پھلپوٹو جن کے کھجور کے 1500 سے زیادہ درخت ہیں، نے بتایا کہ ’بدلتے ہوئے موسمی حالات کے باعث ہونے والی شدید مون سون بارشوں نے کھجور کی فصل کو متاثر کیا ہے اور مالی نقصان کا سبب بنی ہیں۔‘
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت سب سے بڑا مسئلہ گرمی ہے۔‘ وہ یہ بات اُس وقت کہہ رہے تھے جب اوپر آسمان پر سورج پوری شدت سے چمک رہا تھا۔
انہوں نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’درجہ حرارت ہر سال بڑھ رہا ہے۔ ہم ہر سال موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے ہیں۔‘