Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

براڈ پیک حادثہ: پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی کی لاش مل گئی

پاکستان کے معروف کوہ پیما سہیل سخی کی لاش براڈ پیک پر ایک مقامی رضاکار ٹیم نے تلاش کرلی ہے۔
الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق شگر سے تعلق رکھنے والے مقامی رضاکاروں کی ایک ٹیم نے اپنی مدد آپ کے تحت لاپتا کوہ پیما کی تلاش جاری رکھی ہوئی تھی جس دوران انہیں ایک نامعلوم لاش ملی۔ بعد ازاں اس کی شناخت سہیل سخی کے طور پر ہوئی۔
پاکستانی کوہ پیما نائلہ کیانی نے سوشل پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ الپائن کلب کے مطابق لاش سب سے پہلے شگر کے علاقے ٹیسّر سے تعلق رکھنے والے محمد ندیم، محمد بشیر اور ابوزر نے دیکھی۔ انہوں نے علاقے میں موجود دیگر افراد کو اطلاع دی، جس کے بعد رضاکاروں نے مل کر لاش کو کیمپ ون سے بیس کیمپ منتقل کیا۔ دیگر رضاکاروں کے نام بعد میں جاری کیے جائیں گے۔
الپائن کلب کے مطابق موسم نے اجازت دی تو سہیل سخی کی لاش کوجمعرات کو ہی ہیلی کاپٹر کے ذریعے بیس کیمپ سے منتقل کیا جائے گا۔
الپائن کلب نے مقامی رضاکاروں کی اس کوشش کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی مرضی سے اور کسی کی درخواست کے بغیر تلاش کا عمل شروع کیا اور غمزدہ خاندان کو اپنے پیارے کی آخری رسومات ادا کرنے کا موقع فراہم کیا۔
براڈ پیک پر المناک حادثہ
سہیل سخی ان 10 کوہ پیماؤں میں شامل تھے جو 30 جولائی کو دنیا کی 12ویں بلند ترین چوٹی براڈ پیک پر برفانی تودے کی زد میں آکر لاپتا ہوگئے تھے۔ 8,047 میٹر بلند براڈ پیک پاکستان کے قراقرم کے علاقے میں واقع ہے۔ حادثے کے بعد مہم میں شامل تمام 10 افراد سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔
حادثے کا شکار ہونے والی بین الاقوامی ٹیم کی قیادت معروف نیپالی کوہ پیما نرمل پرجا المعروف نمز ڈائی کر رہے تھے۔ ٹیم میں پاکستان کے سہیل سخی کے علاوہ نیپال، امریکہ، عمان اور چین سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما اور گائیڈز شامل تھے۔
حادثے کے بعد خراب موسم اور دشوار گزار بلند پہاڑی علاقے کے باعث امدادی اور تلاش کا کام انتہائی مشکل رہا۔ پاکستان آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹروں اور زمینی ٹیموں نے بھی سرچ آپریشن میں حصہ لیا، تاہم موسم کی خرابی نے فضائی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالی۔
حادثے کے بعد ابتدائی طور پر متعدد کوہ پیماؤں کی لاشیں ملیں جبکہ باقی لاپتا افراد کی تلاش کئی روز تک جاری رہی۔ سہیل سخی کی لاش اب مقامی رضاکاروں کی مدد سے ملنے کے بعد اس المناک حادثے میں جاں بحق ہونے والے تمام 10 کوہ پیماؤں کی لاشوں کی تلاش مکمل ہونے کی جانب اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
کوہ پیمائی میں سہیل سخی کا نمایاں مقام
ہنزہ سے تعلق رکھنے والے سہیل سخی پاکستان کے تجربہ کار ہائی آلٹیٹیوڈ کوہ پیماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ وہ گزشتہ برسوں میں کے ٹو، نانگا پربت، گیشربرم ون اور گیشربرم ٹو سمیت کئی بلند چوٹیوں کو اضافی آکسیجن کے بغیر سر کر چکے تھے۔
مئی 2026 میں سہیل سخی نے نیپال میں واقع 8,586 میٹر بلند کنچن جنگا بھی سر کی تھی۔ وہ اس مہم میں چوٹی پر رسیاں نصب کرنے والی ٹیم کا حصہ تھے، جو بلند پہاڑوں پر کوہ پیمائی کی ایک اہم اور تکنیکی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے۔
سہیل سخی 2022 میں نائلہ کیانی اور سرباز خان کے ہمراہ کے ٹو کی چوٹی سر کرنے والی ٹیم کا بھی حصہ تھے۔ اسی سال انہوں نے نائلہ کیانی اور دیگر پاکستانی کوہ پیماؤں کے ساتھ گیشربرم ون بھی سر کیا تھا۔
کوہ پیمائی کے علاوہ سہیل سخی مقامی نوجوانوں کو تربیت دینے اور پاکستان کے شمالی علاقوں میں ایڈونچر ٹورازم کے فروغ کے لیے بھی کام کرتے رہے۔ وہ ہنزہ میں’موونف ماؤنٹینز‘ سے وابستہ تھے اور مقامی کوہ پیماؤں کی نئی نسل کی تربیت اور رہنمائی میں کردار ادا کرتے تھے۔
براڈ پیک کا حالیہ حادثہ قراقرم میں حالیہ برسوں کے سب سے المناک کوہ پیمائی حادثات میں شمار کیا جا رہا ہے، جس میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے 10 کوہ پیما اور گائیڈز جان سے گئے۔
سہیل سخی کی لاش کی بازیابی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ان کے ساتھی کوہ پیماؤں اور مقامی رضاکاروں کی تلاش اور بازیابی کی کوششیں کئی روز تک انتہائی دشوار حالات میں جاری رہیں۔

شیئر: