Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بہاولنگر کے 17 سالہ طیب کریم نے پاکستان کی پہلی چاند گاڑی کا نام ’جناح-1‘ کیسے رکھا؟

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر بہاول نگر سے تعلق رکھنے والے بارہویں جماعت کے طالب علم طیب کریم خان کا تجویز کردہ نام ’جناح‘ اب پاکستان کی پہلی چاند گاڑی کی پہچان بن گیا ہے، جو 2029ء میں چاند کے جنوبی قطب پر لینڈ کرے گی۔
جمعرات کو اسلام آباد میں واقع سپارکو ہیڈکوارٹرز میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران پاکستان سپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) نے اس نام کا باضابطہ اعلان کیا۔
اس نام کا فائنل انتخاب اسلام آباد میں سپارکو ہیڈکوارٹرز میں ہونے والی ایک تقریب کے دوران کیا گیا، جس کے لیے ملک بھر سے 4,000 سے زائد تجاویز موصول ہوئی تھیں۔
سپارکو کے مطابق جیوری نے یہ نام بانیِ پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے منتخب کیا ہے، اور یہی ’جناح-1‘روور 2029ء میں چاند کے جنوبی قطب پر لینڈ کرے گا۔
لیکن یہاں ایک اہم سوال یہ ہے کہ آخر اس تاریخی قدم کے لیے عام شہریوں سے نام کیوں مانگے گئے، اور 4,000 سے زائد تجاویز میں سے ایک نام کی فائنل منظوری کا مرحلہ کیسے طے پایا؟
سپارکو کے سیکرٹری بریگیڈیئر (ر) آفتاب احمد خان لغمانی نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’ہماری بنیادی سوچ یہی تھی کہ یہ پورے ملک کا کارنامہ ہے، لہٰذا اس تاریخی قدم میں عام عوام کی شمولیت کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔‘
انہوں نے بتایا کہ سپارکو کی ویب سائٹ اور مختلف ذرائع سے ملک بھر سے 4,000 سے زیادہ نام موصول ہوئے، اور جیوری نے تمام تجاویز کا بغور معائنہ کرنے کے بعد ’جناح-1‘ کے نام کی حتمی منظوری دی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ’جناح‘ نام قائد اعظم محمد علی جناح کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے، جبکہ ’1‘  اس بات کی علامت ہے کہ یہ ملک کی پہلی چاند گاڑی ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں بھیجے جانے والے دیگر قمری روورز کے نام بھی اسی عددی ترتیب سے رکھے جائیں گے۔
بریگیڈیئر (ر) آفتاب احمد خان لغمانی کا مزید کہنا تھا کہ موصول ہونے والی 4,000 سے زائد تجاویز میں سے سات افراد نے ’جناح‘ کا نام پیش کیا تھا۔ ایسے میں اصل چیلنج یہ تھا کہ ان ساتوں میں سے فاتح کا انتخاب کس طرح کیا جائے۔
’اس مسئلے کے حل کے لیے تمام ساتوں شرکاء کو اسلام آباد مدعو کیا گیا، جہاں قرعہ اندازی کے ذریعے نام تجویز کرنے والے ایک نوجوان کو فاتح قرار دیا گیا۔‘
انہوں نے پاکستان کے اس قمری مشن کے بارے میں بتایا کہ یہ چاند گاڑی 2029ء میں چاند کے جنوبی قطب پر لینڈ کرے گی، جہاں مختلف سائنسی بنیادوں پر تجربات اور تحقیقات کی جائیں گی۔

’جناح-1‘ کا نام تجویز کرنے والے فاتح کون ہیں؟

بہاولنگر سے تعلق رکھنے والے بارہویں جماعت کے طالب علم طیب کریم خان وہ نوجوان ہیں، جن کا تجویز کردہ نام ’جناح-1‘ اب اس چاند گاڑی کی پہچان بن چکا ہے جو 2029 میں چاند پر اترے گی۔
17  سال کے طیب کریم خان ان سات شہریوں میں شامل تھے جنہوں نے یہ نام پیش کیا تھا، اور قرعہ اندازی کے مرحلے کے بعد وہی اس مقابلے کے فاتح قرار پائے۔
اس سوال کے جواب میں کہ انہوں نے یہ مخصوص نام کیوں تجویز کیا، طیب کریم نے بتایا کہ پاکستان کے ذکر کے ساتھ ہی قائد اعظم محمد علی جناح کا نام سامنے آتا ہے، اسی لیے ان کی خواہش تھی کہ اس اہم قومی پیش رفت کا کریڈٹ بھی بانیِ پاکستان کے نام رہے۔
اُنہوں نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس کے علاوہ ان کے ذہن میں ’شاہین‘ نام بھی تھا، لیکن تحقیق کرنے پر انہیں معلوم ہوا کہ شاہین کے نام پر پہلے سے ہمارا میزائل موجود ہے، اس لیے یہاں ’جناح‘ کا نام ہی موزوں ترین تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بات پر بے حد فخر محسوس کر رہے ہیں کہ ملک بھر سے ان کا تجویز کردہ نام منتخب ہوا، اور اسی نام سے پاکستان کی پہلی چاند گاڑی چاند کی سطح پر اتارے گی۔
سپارکو میں منقعدہ تقریب  سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سپارکو، محمد یوسف خان کا کہنا تھا کہ  جناح-1 محض ایک نام نہیں بلکہ ایک علامت ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ اپنے پہلے قمری روور کا نام قائداعظم محمد علی جناح کے نام پر رکھ کر ہم دنیا کو ایک مضبوط پیغام دے رہے ہیں کہ پاکستان نئے افق، بالخصوص خلاء کے میدان میں، اپنے ورثے، عزم، محنت اور قیادت کی روایت کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ اس مشن کے دوران  چاند کی سطح کے جغرافیائی خدوخال کا نقشہ تیار کیا جائے گا، اور مستقبل میں قمری تحقیق اور چاند پر انسانوں کی پائیدار موجودگی کے لیے اہم تجربات بھی انجام دیے جائیں گے۔

شیئر: