Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

قلعہ عبداللہ: 24 سال بعد ماں بیٹی کی ملاقات، وہ صلح جو سردار اور خان نہ کرا سکے  نوجوانوں نے کرا دی

دہائیوں سے جاری اس دشمنی نے دونوں خاندانوں کی زندگیاں بدل کر رکھ دی تھیں (فوٹو: عبدالستار اچکزئی)
24 سال بعد ایک بیٹی اپنی ماں سے ملی، ایک نواسہ زندگی میں پہلی بار اپنی نانی سے اور بھانجا پہلی بار اپنے ماموں سے ملا۔
یہ منظر بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ میں اس روز دیکھا گیا جب دو خاندانوں کے درمیان 24 سال سے جاری خونی دشمنی بالآخر ختم ہوئی۔
اعجاز احمد نے بتایا کہ اس قبائلی دشمنی کی وجہ سے ان کی ماں اپنی والدہ اور بھائیوں سے قریباً 24 سال تک نہیں ملی تھیں۔’میری پیدائش اس دشمنی کے بعد ہوئی تھی اور اب میری عمر 23 سال ہے لیکن اس کے باوجود میں نے کبھی اپنی نانی اور ماموں کو نہیں دیکھا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ تصفیہ نہ ہوتا تو شاید اس کا ماموں اسے یا اس کے والد کو قتل کا بدلہ لینے کے لیے نشانہ بناتا۔ ’پہلے ہم ہر وقت خوف میں رہتے تھے، اب زندگی کو زندگی کی طرح جی سکیں گے۔‘
اس صلح کے پیچھے کہانی بھی دلچسپ اور منفرد ہے۔
پشتون قبائلی معاشرے میں تنازعات اور دیرینہ دشمنیوں کا خاتمہ روایتی طور پر بڑے بزرگوں، سرداروں، نوابوں، خانوں، ملکوں اور علماء کا کام سمجھا جاتا ہے۔ برسوں کے تجربے، رعب اور قبائلی وقار کی بنیاد پر یہی طبقہ جرگے بلاتا، فیصلے کراتا اور فریقین کو صلح پر آمادہ کرتا ہے مگر قلعہ عبداللہ کے اس جرگے نے اس روایتی تصور کو چیلنج کیا کیونکہ صلح کرانے والے نہ سردار تھے، نہ خان بلکہ علاقے کے چند نوجوان تھے۔
اچکزئی غبیزئی قبیلے کی ذیلی شاخ ’اعوان کہول‘ کے دو خاندانوں کے درمیان اس دشمنی کے خاتمے کے لیے قریباً 50 جرگے منعقد ہوئے جن میں علاقے کے نامور خان، سردار، ملک اور قبائلی عمائدین شریک ہوئے مگر ہر بار ناکامی ہی ہاتھ آئی۔
آخرکار وہ مسئلہ جسے حل کرنے میں معاشرے کے بزرگ دو دہائیوں سے زائد عرصے میں کامیاب نہ ہو سکے، علاقے کے چند نوجوانوں نے محض چند ہفتوں میں حل کر دکھایا۔
دہائیوں سے جاری اس دشمنی نے دونوں خاندانوں کی زندگیاں بدل کر رکھ دی تھیں۔
فریقین کے مطابق نہ وہ سکون سے اپنے گھروں میں رہ سکتے تھے، نہ بچوں کو سکول بھیج سکتے تھے اور نہ کسی خوشی غمی میں شریک ہو سکتے تھے۔
یہ کہانی 2002 میں اس وقت شروع ہوئی جب حاجی امان اللہ نامی شخص ایک واقعے میں قتل ہو گئے۔ دونوں فریق آپس میں سگے چچا زاد بھائی تھے اور ان کے گھروں کے درمیان محض ایک دیوار کا فاصلہ تھا۔ مقتول نہ صرف قاتل کا چچا زاد بھائی تھا بلکہ سسر بھی تھا۔ قتل کے بعد قاتل اپنی اہلیہ کو سسرال سے اپنے ساتھ لے گیا اور اس کے بعد 24 سال تک اس خاتون نے اپنی والدہ اور بہن بھائیوں کی شکل تک نہیں دیکھی۔ اس دوران پیدا ہونے والا اس کا بیٹا اب 23 سال کا جوان ہو چکا ہے۔
مصالحت کرانے والوں میں شامل عبدالستار اچکزئی نے اردو نیوز کو بتایا کہ اس تنازع کے حل کے لیے قریباً 48 جرگے منعقد ہوئے جن میں سردار، خان اور بڑے بڑے قبائلی عمائدین نے کوششیں کیں مگر ناکام رہے۔
محمد نعیم جو خود اس دشمنی میں فریق تھے بتاتے ہیں کہ درجنوں چھوٹے معرکوں (جرگوں) کے علاوہ چمن، پشین اور کوئٹہ سمیت گردونواح کے اضلاع سے علماء کرام، قبائلی عمائدین، سردار اور خوانین نے بھی 20 سے زائد بڑے جرگے کیے لیکن ہر بار ناکامی ہی ہاتھ آئی۔
محمد نعیم کے مطابق اس دشمنی کی انہوں نے بھاری قیمت چکائی۔ خاندان علاقہ چھوڑ کر کوئٹہ، گلستان اور کراچی منتقل ہو گیا۔ کاروبار، روزگار اور بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی۔ ہر وقت بچوں کی حفاظت کی فکر لگی رہتی تھی۔ کئی بار بچوں کو سکول سے نکال کر گھر بٹھانا پڑا کیونکہ خدشہ تھا کہ دشمنی میں کہیں وہ نشانہ نہ بن جائیں۔ عید اور تہواروں پر جب وہ علاقے آتے تو کلاشنکوف کے بغیر گھر سے نکلنا محال تھا۔
ان کے بقول اس دشمنی نے ان کے خاندان کے درجنوں افراد کی زندگیوں کو دو دہائیوں سے متاثر کیا۔ ’ہم اپنا علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے، نہ کسی کی خوشی میں شریک ہو سکے نہ غم میں۔ ہم اس زندگی سے تھک چکے تھے۔ قبائلی سطح پر ہونے والی تمام کوششیں ناکام ہونے کے بعد ہم مایوس ہو چکے تھے۔ جب یہ نوجوان ہمارے پاس آئے تو ہمیں امید نہیں تھی لیکن انہوں نے وہ کر دکھایا جو بڑے بزرگ نہ کر سکے۔‘

نوجوانوں نے فیصلہ کیا کہ جب بڑے بزرگ ناکام ہو چکے ہیں تو کیوں نہ نوجوان خود کوشش کریں (فوٹو: عبدالستار اچکزئی)

جب نوجوانوں نے بیڑا اٹھایا
عبدالستار کے مطابق کوئٹہ میں آباد قبیلے کے نوجوانوں نے اپنے مسائل کے حل کے لیے ایک کمیٹی بنا رکھی ہے۔ چند ماہ قبل ایک شادی کی تقریب میں علاقے کے نوجوان جمع تھے کہ بات چیت میں یہ برسوں پرانی دشمنی زیرِ بحث آئی۔
عبدالستار اچکزئی کے بقول نوجوانوں نے فیصلہ کیا کہ جب بڑے بزرگ ناکام ہو چکے ہیں تو کیوں نہ نوجوان خود کوشش کریں۔
وہ بتاتے ہیں کہ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا۔ راستے میں بہت سی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں  خاص طور پر ان بعض لوگوں کی طرف سے جو خود پہلے یہ تنازع حل کرنے میں ناکام رہے تھے۔ ان کا رویہ یہ تھا کہ جب بزرگ ہی ناکام ہوئے تو ’کل کے بچوں‘کی بات کیوں مانی جائے لیکن اس کے باوجود نوجوانوں نے ہمت نہ ہاری۔
ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں نے دونوں خاندانوں کے بزرگوں سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، اعتماد بحال کیا اور غلط فہمیاں دور کرنے کے لیے بارہا مذاکرات کیے۔ ان کوششوں کا نتیجہ حوصلہ افزا رہااور صرف دو ہفتوں کے اندر تنازع کا حل تلاش کر لیا گیا اور دو ماہ کے اندر باقاعدہ جرگہ بلا کر فریقین کی صلح کرا دی گئی۔
اس پوری مہم  میں عبدالستار اچکزئی کے علاوہ وزیر محمد، سعداللہ، حضرت علی، قاہر خان اور حاجی ملک  شامل تھے جن کی عمریں 25 سے 35 سال کے درمیان ہیں۔
عبدالستار کے مطابق تقریب میں علاقے بھر کے بزرگوں، نوجوانوں اور عمائدین کے علاوہ صوبے کے مختلف اضلاع سے دو ہزار سے زائد افراد شریک ہوئے۔ برسوں بعد دونوں خاندان ایک دوسرے سے گلے ملے، معافی مانگی اور نئی زندگی کے آغاز کا عہد کیا۔ اس موقعے پر اس بات کا اظہار کیا گیا کہ اصل کامیابی انتقام میں نہیں بلکہ معافی، برداشت اور امن میں ہے۔
علاقائی رسم و رواج کے مطابق 50 لاکھ روپے دیت مقرر کی گئی۔ اس کے علاوہ قتل میں ملوث فریق کے لیے 10 سال تک علاقے میں داخلے اور قلعہ عبداللہ بازار میں جائیداد کی خریداری پر بھی پابندی عائد کی گئی تاہم 10 سال بعد انہیں علاقے میں واپسی کی اجازت ہو گی۔
48 سالہ محمد نعیم کہتے ہیں کہ اپنی پوری زندگی میں انہوں نے ایسا کوئی جرگہ نہیں دیکھا جو نوجوانوں کی کوششوں سے کامیاب ہوا ہو۔ نوجوانوں نے منفرد مثال قائم کی ہے۔

عبدالستار اچکزئی کہتے ہیں کہ بدقسمتی سے ان کے علاقے میں ہر دوسرا گھر قبائلی دشمنیوں کی لپیٹ میں ہے (فائل فوٹو:عبدالستار اچکزئی)

غبیزئی قبیلے کے قبائلی رہنما جیلانی خان غبیزئی نے بھی نوجوانوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ یہ اصل میں قوم کے بزرگوں کا کام تھا، مگر 25 سے 35 برس کی عمر کے نوجوانوں نے یہ کارنامہ انجام دے دکھایا۔
محمد نعیم بتاتے ہیں کہ کچھ دن قبل جب وہ کام کے سلسلے میں گھر سے نکل رہے تھے تو ان کی معذور بیٹی نے کہا کہ ’کلاشنکوف ساتھ لے جائیں، کہیں کوئی مار نہ دے۔‘یہ سن کر انہیں بہت دکھ اور افسوس ہوا، اور اس کے بعد وہ مسجد گئے اور اللہ سے اس مشکل سے نجات کی دعا کی۔ ان کے مطابق ’آج اللہ نے ہماری دعا قبول کر لی۔‘
عبدالستار اچکزئی کہتے ہیں کہ بدقسمتی سے ان کے علاقے میں ہر دوسرا گھر قبائلی دشمنیوں کی لپیٹ میں ہے۔ کوئی اپنے گھر سے اسلحے کے بغیر نہیں نکل سکتا۔ سال بھر دوسرے شہروں میں محنت مزدوری کرنے والے نوجوان جب عید پر اپنے گھر آتے ہیں تو ہر نوجوان کے کندھے پر کلاشنکوف لٹکی نظر آتی ہے۔ نہ وہ تعلیم مکمل کر پاتے ہیں، نہ روزگار اور کاروبار کی طرف پوری توجہ دے سکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ نئی نسل کو پچاس ساٹھ سال پرانی دشمنیاں وراثت میں مل رہی ہیں۔ بعض کو تو یہ تک معلوم نہیں ہوتا کہ ان کے باپ دادا نے دشمنی کس بات پر شروع کی تھی  جبکہ اس میں درجنوں افراد جان سے جا چکے ہوتے ہیں۔
محمد نعیم کہتے ہیں کہ بزرگ نسلوں نے اپنی نوجوان نسلوں کے لیے جو دشمنیاں چھوڑی ہیں، انہیں ختم کرنا اب انہی کی ذمہ داری ہے تاکہ آنے والی نسلیں امن، سکون اور بہتر ماحول میں پروان چڑھ سکیں۔
قلعہ عبداللہ کو قبائلی  دشمنیوں کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔
ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ منور حسین مگسی کے مطابق یہ ضلع قبائلی دشمنیوں سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شمار ہوتا ہے جہاں اس وقت بھی مختلف قبائل، گروہوں اور خاندانوں کے درمیان 42 دشمنیاں فعال ہیں اور اب تک ان میں سو سے زائد افراد جان سے جا چکے ہیں۔

قلعہ عبداللہ کو قبائلی  دشمنیوں کا مرکز سمجھا جاتا ہے (فائل فوٹو: عبدالستار اچکزئی)

ان کے مطابق سب سے زیادہ جھگڑے زمینوں اور ٹیوب ویل یا زرعی پانی کے تنازعات پر ہوتے ہیں اور ضلع میں زمینوں کی آخری باقاعدہ سیٹلمنٹ 1950 میں ہوئی تھی۔ اتنے پرانے اور غیر واضح ریکارڈ کی وجہ سے تقسیم کے جھگڑے اکثر خونی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کر کے نئی سیٹلمنٹ کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ڈپٹی کمشنر کے بقول افغان سرحد سے قربت کے باعث اسلحے اور منشیات کی سمگلنگ نے بھی علاقے کے سماجی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا ہے۔ قبائلی دشمنیوں کے باعث تعلیمی ادارے اور صحت کے مراکز متاثر ہوئے، لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے اور سوشل میڈیا کو بھی اکثر ان تنازعات میں اشتعال دلانے اور نفرت پھیلانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
ان کے بقول قبائلی معاملات کبھی کبھار سیاسی مقاصد کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں اور اس کا حل عوام میں شعور اور تعلیم کے فروغ میں ہے۔

شیئر: