امریکہ نے 7 ممالک کے لاکھوں تارکین کے ورک پرمٹس ،میں عارضی توسیع کردی
ہفتہ 11 جولائی 2026 19:57
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے سات ممالک کے لاکھوں تارکینِ وطن کے ورک پرمٹ میں عارضی توسیع کر دی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جمعے کو ہیٹی اور دیگر چھ ممالک کے ان لاکھوں تارکینِ وطن کے ورک پرمٹس میں عارضی توسیع کر دی جنہیں ’ٹیمپریری پروٹیکٹڈ سٹیٹس‘ (ٹی پی ایس) حاصل ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق ’یہ توسیع اِن ورک پرمٹس کی میعاد ختم ہونے سے چند گھنٹے قبل کی گئی ہے۔‘
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے ذیلی ادارے یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز (یو ایس سی آئی ایس) کے مطابق ’اس توسیع کے بعد ہیٹی کے شہریوں کے ورک پرمٹ اب 24 جولائی تک مؤثر رہیں گے۔‘
اس سہولت سے فائدہ اٹھانے والے ایتھوپیا، شام، صومالیہ، یمن، جنوبی سوڈان اور میانمار کے تارکین کے ورک پرمٹس ایک ہفتے بعد ختم ہوں گے۔
گذشتہ ماہ امریکی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ ہیٹی اور شام کے شہریوں کے لیے ’ٹیمپریری پروٹیکٹڈ سٹیٹس‘ ختم کر سکتی ہے۔
یہ حیثیت ان افراد کو دی جاتی ہے جو قدرتی آفات، مسلح تنازعات یا دیگر غیر معمولی حالات کے باعث اپنے ملک واپس نہیں جا سکتے، اور اس کے تحت وہ امریکہ میں قانونی طور پر نہ صرف قیام کر سکتے ہیں بلکہ کام بھی کر سکتے ہیں۔
انسانی حقوق کے کارکنوں اور متاثرہ کمیونیٹیز نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکی سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے لاکھوں افراد اپنے ورک پرمٹ اور ملک بدری کے تحفظ سے محروم ہو سکتے ہیں۔
مزدور تنظیموں نے بھی ورک پرمٹس میں توسیع کا مطالبہ کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ان کے خاتمے سے مختلف صنعتوں میں افرادی قوت کی کمی ہو سکتی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے غیر قانونی امیگریشن کے خلاف سخت اقدامات اور ملک بدری کی مہم تیز کر رکھی ہے، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض اقدامات سے آزادیِ اظہار، قانونی تقاضوں اور نسلی امتیاز سے متعلق خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔
یاد رہے کہ سنہ 2024 کی انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی عوام سے غیر قانونی امیگریشن روکنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم صدارت سنبھالنے کے بعد اُن کی انتظامیہ نے قانونی امیگریشن کے عمل کو بھی سخت بنا دیا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے تارکین کے حوالے سے جو اقدامات کیے ہیں اُن میں بعض ویزہ درخواستوں پر نئی اور مہنگی فیسیں عائد کرنا اور درخواست گزاروں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی سخت جانچ کا عمل بھی شامل ہے۔
صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات کا مقصد امریکہ کی داخلی سلامتی کو مضبوط بنانا اور امریکی شہریوں کے لیے روزگار کے مواقعوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
