Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’خطے کی سب سے تباہ کن آگ‘، سپین کے جنوبی علاقے میں جنگل کی آگ سے 12 افراد ہلاک

عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق یورپ دنیا کے اوسط درجہ حرارت سے دوگنی رفتار سے گرم ہو رہا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
سپین کے جنوبی صوبے المیریا میں جنگلاتی آگ کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک ہو گئے۔ ایمرجنسی ایجنسی آف اندلسیا کے مطابق 150 فائر فائٹرز آگ بجھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وزارتِ صحت اور ایمرجنسیز کے وزیر انتونیو سانز نے اس آگ کو ’ہمارے خطے کی اب تک کی سب سے تباہ کن آگ‘ قرار دیا اور اسے ’بڑا المیہ‘ کہا۔
اس سے قبل جنگل کی آگ سے چھ ہلاکتوں کی اطلاع دی گئی تھی۔ اندلسیا کے رہنما خوانما مورینو نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہمارے دل کی گہرائیوں سے تعزیت ان چھ افراد کے خاندانوں کے ساتھ ہے جنہوں نے لاس گایاردوس میں اپنی جانیں گنوائیں، اور ہماری ہمدردی ان تمام بلدیات کے ساتھ ہے جو آگ سے متاثر ہوئی ہیں۔‘
لاس گایاردوس صوبہ المیریا کا ایک قصبہ ہے، جو سپین کے جنوبی خطے اندلسیا میں واقع ہے۔ یہ آگ اس وقت لگی جب اس ہفتے کے اوائل میں جنوبی فرانس میں ایک جنگل کی آگ نے قابو سے باہر ہو کر سپین کی سرحد کے قریب دو درجن قصبوں اور دیہات سے 10 ہزار سے زائد افراد کو نکالنے پر مجبور کیا۔
مئی اور جون میں مغربی یورپ میں ابتدائی گرمی کی لہروں نے وسیع علاقوں کو خشک کر دیا ہے، جس سے اس سال جنگل میں لگنے والی آگ کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق یورپ دنیا کے اوسط درجہ حرارت سے دوگنی رفتار سے گرم ہو رہا ہے، جس سے طویل گرمی کی لہروں کے امکانات مزید بڑھ گئے ہیں۔

 

شیئر: