ویت نام میں سیاحوں کی کشتی اُلٹنے سے 15 انڈین سیاح ہلاک، 21 افراد کو زندہ بچا لیا گیا
ہفتہ 11 جولائی 2026 18:32
جنوبی ویت نام میں سنیچر کو سیاحوں کی ایک سپیڈ بوٹ جزیرے کی سیر سے واپسی کے دوران اُلٹ گئی، جس کے نتیجے میں انڈیا کے 15 سیاح ہلاک ہو گئے جبکہ 21 افراد کو زندہ بچا لیا گیا۔
امریکہ خبر رساں ایجنسی اے پی نے ویت نام کے سرکاری میڈیا کے حوالے سے بتایا کہ ’سپیڈ بوٹ میں 32 انڈین سیاح اور عملے کے چار ارکان سوار تھے۔‘
یہ حادثہ ویت نام کے سب سے بڑے جزیرے ’فو کووک‘ کے قریب واقع ہو مائے رات نگوائی جزیرے سے قریباً 400 میٹر کے فاصلے پر پیش آیا۔
عینی شاہدین کے مطابق حادثے کے بعد وہاں قریب ہی موجود کشتیوں نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کردیں اور کئی مسافروں کو پانی سے زندہ نکال لیا گیا۔
بعد ازاں سرحدی گارڈز، بحریہ، کوسٹ گارڈ اور دیگر امدادی اداروں کے اہلکار بھی موقعے پر پہنچ گئے، تاہم متعدد افراد کشتی کے اندر پھنس گئے جس کے باعث ریسکیو آپریشن میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
حکام نے بتایا کہ ’مرنے والے تمام 15 افراد کی نعشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔‘
ویت نام کے ٹی وی پر نشر ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سمندر میں تیز ہواؤں اور بلند لہروں کے درمیان ریسکیو اور دیگر اداروں کی امدادی کارروائیاں جاری تھیں۔
ریسکیو اہلکار پانی میں پھنسے افراد کو بچانے کی کوشش کرتے رہے اور اس دوران بچ جانے والے سیاحوں کو ساحل تک پہنچایا گیا، جہاں انہیں ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔
ویت نام کے وزیراعظم لے منہ ہنگ نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے فوری تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی ہے۔
انہوں نے متعلقہ حکام کو علاقے اور دیگر ساحلی مقامات پر حفاظتی انتظامات کا ازسرِنو جائزہ لینے کا بھی حکم دیا۔
انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے بتایا کہ ’متاثرہ سیاح ایک نجی موبائل فون کمپنی کے ملازمین تھے جو سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے ویت نام آئے تھے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’انڈین سفارت خانے کا عملہ حادثے کی جگہ پر موجود ہے اور متاثرہ افراد کو ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔‘
یاد رہے کہ خلیجِ تھائی لینڈ میں واقع ’فو کووک‘ جزیرہ ویت نام کے مشہور سیاحتی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔
سفید ریت والے ساحل اور شفاف پانی کی وجہ سے ہر سال لاکھوں ملکی اور غیرملکی سیاح اس کی جانب رُخ کرتے ہیں۔
