Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

20 سال بعد بھی لاپتہ: ایک ڈیتھ سرٹیفکیٹ، اور ہزاروں کشمیریوں کے زخم تازہ

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں دو دہائیاں قبل لاپتہ ہونے والے ایک شخص کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے عدالتی فیصلے نے ایک بار پھر ہزاروں لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کے زخم تازہ کر دیے ہیں۔
اس فیصلے نے ان ہزاروں خاندانوں کی یادیں تازہ کر دی ہیں، جو برسوں سے اپنے لاپتہ عزیزوں کی واپسی یا ان کے فیصلے کے منتظر ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق مسلح تنازع کے دوران تقریباً آٹھ ہزار افراد جبری طور پر لاپتہ ہوئے، جن میں سے کئی کا آج تک کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
منظور احمد ڈار کی اہلیہ جانا بیگم بتاتی ہیں کہ 2002 میں ان کے شوہر کو حراست میں لیا گیا، لیکن اس کے بعد وہ کبھی واپس نہیں آئے۔  اے ایف پی کے رپورٹر نے ضلع کپواڑہ میں ایسے قبرستان کا دورہ بھی کیا، جہاں بے شناخت قبروں پر صرف زنگ آلود نمبر درج ہیں۔
مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے پولیس کی جانب سے لائی گئی لاشوں کو دفن کیا، جبکہ کئی خاندان آج بھی اپنے لاپتہ عزیزوں کی قبروں کی تلاش میں وہاں آتے ہیں۔ تفصیل اے ایف پی کی اس ڈیجیٹل رپورٹ میں

شیئر: