پنجاب حکومت کا 20 برس سے زیادہ پُرانی گاڑیوں کو ختم کرنے کا منصوبہ کیا ہے؟
منگل 21 جولائی 2026 16:49
پنجاب میں صوبے بھر میں 20 سال سے زیادہ پُرانی گاڑیوں کو مرحلہ وار ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ صوبے کی پہلی نیو انرجی وہیکل پالیسی میں سامنے آیا ہے جس کا حتمی مسودہ کابینہ میں پیش کرنے لیے تیار کر لیا گیا ہے۔
اردو نیوز کو دستیاب اس پالیسی دستاویزات کے مطابق پہلے مخصوص شہری علاقوں اور بعد میں صوبے بھر کی سڑکوں سے 20 سال سے پرانی گاڑیوں کو مرحلہ وار ہٹایا جائے گا۔
اس کے ساتھ ساتھ الیکٹرک گاڑیوں کو ٹیکس میں 95 فیصد تک رعایت دینے، سرکاری گاڑیوں کی خرید مکمل طور پر برقی بنانے اور تین ہزار سے زیادہ چارجنگ سٹیشن قائم کرنے کا منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔
پنجاب میں اگر کسی گاڑی کو رجسٹر ہوئے 20 سال سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے تو آئندہ چند برسوں میں اس کا شہروں کے بعض حصوں میں داخلہ محدود کردیا جائے گا۔
اگر وہ کمرشل گاڑی ہے تو 2031 سے 2035 کے درمیان اسے پورے صوبے میں سڑک سے ہٹانے کی منصوبہ بندی بھی اس مسودے کا حصہ ہے۔
تاہم منصوبہ یہ ہے کہ پہلے گاڑیوں کی عمر جانچنے کا ڈیجیٹل نظام قائم کیا جائے گا، پھر لاہور اور فیصل آباد جیسے شہروں میں محدود علاقوں میں اس پر عمل درآمد شروع ہو گا۔ 20 سال سے پرانی گاڑیوں کے مالکان کو گاڑی سکریپ کرنے اور نئی انرجی وہیکل خریدنے کے لیے مُراعات دی جائیں گی، اور اس کے بعد پابندیوں کا دائرہ بتدریج وسیع ہو گا۔
20 برس پُرانی گاڑی کو کیسے روکا جائے گا؟
مسودے کے مطابق گاڑی کی عمر اس کی رجسٹریشن کی تاریخ سے شمار کی جائے گی۔ 20 سال سے زیادہ پرانی گاڑیوں کے لیے ایک ہی دن میں صوبہ بھر میں پابندی کے بجائے ڈیجیٹل نگرانی، کم اخراج والے علاقوں، سکریپج سکیم اور مرحلہ وار نفاذ کا ماڈل اپنایا جائے گا۔
اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں لاہور اور فیصل آباد میں گاڑیوں کی عمر کی تصدیق کے ڈیجیٹل نظام کے پائلٹ سے شروع ہونا تھا۔
یہ نظام پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور محکمہ ایکسائز کے ریکارڈ کو ٹریفک انفورسمنٹ اور مجوزہ این ای وی ریگولیٹری ادارے کے ڈیش بورڈ سے منسلک کرے گا۔
اگلے مرحلے میں پنجاب موٹر وہیکلز آرڈیننس میں ترامیم تجویز کی گئی ہیں تاکہ کم اخراج والے علاقوں، عمر کی بنیاد پر پابندیوں اور خلاف ورزی پر جرمانوں کو قانونی حیثیت دی جا سکے۔
اسی طرح موٹر سائیکلوں اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے رضاکارانہ سکریپج سکیم شروع کرنے کا منصوبہ بھی پالیسی میں شامل ہے۔
اس کے تحت اپنی پرانی گاڑی ختم کروانے والے مالک کو نئی الیکٹرک گاڑی کی خرید میں رعایت، براہ راست ریبیٹ یا کسی ممکنہ لیز ٹو اون سکیم سے فائدہ دیا جا سکتا ہے۔
پالیسی کے مطابق 2027 میں ڈیجیٹل عمر جانچنے کا نظام تمام اضلاع اور گاڑیوں کی تمام اقسام تک پھیلایا جائے گا۔
سنہ 2028 سے 2030 کے دوران 20 سال سے زیادہ پرانی گاڑیوں پر پہلے کم اخراج والے شہری علاقوں میں پابندیاں شروع ہوں گی، جن کے نفاذ میں کیمروں، سمارٹ نمبر پلیٹس اور ڈیجیٹل رجسٹریشن ریکارڈ کو استعمال کرنے کی تجویز ہے۔
اسی طرح 2031 سے 2035 کے دوران 20 سال سے زیادہ پرانی کمرشل گاڑیوں کو پورے پنجاب میں مرحلہ وار ختم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ نجی کاروں کو بھی 2033 تک اس نظام میں شامل کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
پالیسی کا خاص ہدف صرف پرانی کاریں نہیں بلکہ غیر منظور شدہ چنگ چی طرز کی گاڑیاں، غیر منظم ایل پی جی رکشے، ٹو سٹروک موٹرسائیکلیں اور ڈیزل پر چلنے والی پرانی پبلک اور کمرشل ٹرانسپورٹ بھی ہیں۔
پنجاب کی سڑکوں پر گاڑیاں کتنی ہیں؟
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ستمبر 2024 تک پنجاب میں تمام اقسام کی قریباً 2کروڑ 45 لاکھ 34 ہزار گاڑیاں سڑکوں پر موجود تھیں۔ان میں سب سے بڑا حصہ موٹرسائیکلوں کا ہے جن کی تعداد دو کروڑ پانچ لاکھ سے زیادہ بتائی گئی ہے۔
اس کے مقابلے میں صوبے میں قریباً 22 لاکھ 55 ہزار کاریں، 6 لاکھ 15 ہزار سے زیادہ ڈیلیوری وین اور پک اپ، پانچ لاکھ 78 ہزار ٹیکسیاں، قریباً 98 ہزار بسیں، 84 ہزار ٹرک اور 70 ہزار کے قریب رکشے رجسٹرڈ تھے۔
دوسری طرف الیکٹرک گاڑیوں کا حصہ ابھی نہایت محدود ہے۔ 2024 میں پنجاب میں قریباً 6 ہزار الیکٹرک موٹر سائیکلوں کی نئی رجسٹریشن ہوئی ہے۔
موٹر سائیکل کے علاوہ دوسری اقسام کی صرف 513 الیکٹرک گاڑیاں رجسٹر ہوئیں، تاہم سال 2025 اور 26 مین یہ تعداد بڑھی ہے۔
دستاویز میں سموگ اور فضائی آلودگی کو اس تبدیلی کی بنیادی وجوہات میں شامل کیا گیا ہے۔ پالیسی کے مطابق ٹرانسپورٹ سیکٹر پنجاب کی شہری فضائی آلودگی یا اخراج میں قریباً 39 فیصد حصہ رکھتا ہے۔
اس میں پُرانے ڈیزل ٹرک، بسیں، ٹو سٹروک موٹرسائیکلیں، کم معیار کا ایندھن اور گاڑیوں کی مؤثر فٹنس جانچ نہ ہونے کو بڑے مسائل قرار دیا گیا ہے۔
لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور ملتان میں سموگ کے موسم کے دوران ایئر کوالٹی انڈیکس بعض اوقات ایک ہزار سے بھی اوپر جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔
الیکٹرک گاڑی خریدنے والے کو کیا فائدہ ملے گا؟
پالیسی میں سب سے نمایاں مالی رعایت رجسٹریشن فیس، ٹوکن ٹیکس اور رُوٹ پرمٹ فیس پر دی گئی ہے۔ پالیسی کے نفاذ کے پہلے تین برسوں میں نئی انرجی وہیکل پر ان فیسوں میں 95 فیصد رعایت دینے کی تجویز ہے۔
چوتھے سال سے 2035 تک رعایت 50 فیصد رہ جائے گی۔ مکمل چُھوٹ کے بجائے ابتدائی برسوں میں پانچ فیصد رقم اس لیے برقرار رکھی جائے گی تاکہ گاڑی باضابطہ طور پر رجسٹر ہو اور ٹیکس ریکارڈ میں رہے۔
کم اور متوسط آمدنی والے افراد کے لیے الیکٹرک موٹر سائیکل اور رکشہ خریدنے پر نسبتاً زیادہ سبسڈی اور رعایتی قرضے دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔
اہلیت جانچنے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کے ڈیٹا کو استعمال کرنے کی تجویز ہے۔
تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ صارفین کو موٹرسائیکل، رکشے یا کار پر اصل نقد سبسڈی کتنی ہو گی اس کا واضح جواب مسودے میں موجود نہیں۔
رقم، قیمت کی حد اور اہلیت کے ضابطے بعد میں ریگولیٹری ادارہ یا حکومت طے کرے گی۔ اسی طرح الیکٹرک گاڑیوں کو الگ شناخت والی نمبر پلیٹیں، مخصوص پارکنگ، کم اخراج والے علاقوں میں ترجیحی داخلہ اور بعض مقامات پر کنجیشن چارج سے استثنیٰ بھی دیا جائے گا۔
لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی اور ملتان میں زیادہ رش والے بعض علاقوں کو ابتدا میں این ای وی اونلی زونز بنانے کی تجویز بھی اس پالیسی کا حصہ ہے۔
ان علاقوں میں مرکزی کاروباری اضلاع، سرکاری دفاتر، تاریخی مقامات، ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کے اطراف شامل ہو سکتے ہیں۔
پالیسی کا مجوزہ ماڈل یہ ہے کہ ان زونز کے اندر صرف نئی انرجی گاڑیاں چلیں، جبکہ انہیں مفت پارکنگ، ترجیحی لین اور کنجیشن چارج سے استثنیٰ دیا جائے۔
لاہور کو پوری پالیسی کے لیے ماڈل شہر قرار دیا گیا ہے۔ یہاں کم اخراج والے علاقوں کا نفاذ، سرکاری گاڑیوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کی برق کاری، چارجنگ اور بیٹری سواپنگ سٹیشنوں کی ابتدائی تنصیب اور شہری ڈیٹا کی بنیاد پر ایسا ماڈل تیار کیا جائے گا جو بعد میں دوسرے شہروں میں استعمال ہو سکے۔
پالیسی موجودہ تمام سرکاری گاڑیوں کو فوری طور پر تبدیل کرنے کی بات نہیں کرتی۔ ہدف صرف نئی خریداری اور اپنی مدت پوری کرنے والی گاڑیوں کے متبادل پر لاگو ہو گا۔
تاہم مرحلہ وار 2030 تک سرکاری محکموں، اداروں اور اتھارٹیز کی تمام نئی گاڑیوں کی خرید کو 100 فیصد الیکٹرک یا منظور شدہ کم اخراج ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کا ہدف بھی اس پالیسی کا حصہ ہے۔
چارجنگ کہاں ہو گی؟
اس وقت سب سے بڑی رکاوٹ صرف گاڑی کی قیمت نہیں بلکہ اسے چارج کرنے کی سہولت ہے۔ پالیسی میں دیے گئے تخمینے کے مطابق 2026 کے آغاز میں پورے پاکستان میں قریباً 30 عوامی چارجنگ پوائنٹس اور 10 سے کم فعال بیٹری سواپنگ سٹیشن موجود ہیں۔ ان میں بھی زیادہ سہولت لاہور، اسلام آباد اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں مرکوز تھی۔
نئی پالیسی کے تحت پنجاب حکومت فوری بنیادوں پر موٹرویز اور قومی شاہراہوں کے اہم داخلی اور خارجی مقامات پر 40 سرکاری فاسٹ چارجنگ سٹیشن قائم کرے گی۔
یہ سٹیشن حکومت کی ملکیت ہوں گے لیکن ان کا انتظام اور دیکھ بھال نجی کمپنیوں کو شفاف معاہدوں کے تحت دی جا سکے گی۔
طویل فاصلے کے سفر کے لیے موٹرویز اور شاہراہوں پر قریباً ہر 80 کلومیٹر بعد فاسٹ چارجر نصب کرنے کی تجویز ہے۔ شہری علاقوں میں زیادہ آبادی والے حصوں کے لیے پانچ سے سات مربع کلومیٹر کے اندر کم از کم ایک عوامی چارجنگ سہولت کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ بیٹری سواپنگ سٹیشن ہر پانچ سے دس مربع کلومیٹر، جبکہ دیہی اور نیم شہری علاقوں میں عام چارجنگ سہولت 10 سے 15 کلومیٹر کے فاصلے پر ہوں گے۔
سرکاری پارکنگ، بس ڈپو، رکشہ سٹینڈ، پیٹرول پمپ، بند ہو جانے والے سی این جی سٹیشن، شاپنگ مال، ہاؤسنگ سوسائٹیاں اور اپارٹمنٹ کمپلیکس مستقبل کے چارجنگ مراکز ہوں گے۔
موٹر سائیکل اور رکشے کے لیے پارکنگ یا سٹینڈ پر سست رفتار لیول ون چارجنگ سٹیشن لگانے والے پہلے 200 مقامات کو مجموعی لاگت کا 25 فیصد، زیادہ سے زیادہ تین لاکھ روپے تک، سبسڈی بھی دی جائے گی۔
پہلے 100 بیٹری سواپنگ سٹیشنوں کے لیے بھی لاگت کا 25 فیصد، لیکن زیادہ سے زیادہ پانچ لاکھ روپے فی سٹیشن دئیے جائیں گے لیکن اس کے لیے سمارٹ میٹر اور وفاقی و صوبائی تکنیکی معیار کی پابندی ضروری ہو گی۔
گھر میں ذاتی لیول ون چارجر اور مال یا ریستوران میں عام لیول ٹو چارجر لگانے پر براہ راست سرکاری سبسڈی نہیں ہو گی۔
پالیسی کے مطابق 2035 تک تین ہزار سے زیادہ چارجرز اور شمسی توانائی سے منسلک ہب قائم کیے جائیں گے۔
اسی طرح الیکٹرک موٹرسائیکل، رکشہ، کار، بس اور ٹرک اسمبل کرنے والے کارخانے، بیٹری پیک اور سیل بنانے والے یونٹ، موٹرز، کنٹرولرز، انورٹرز، بیٹری مینجمنٹ سسٹم، چارجر، سوفٹ ویئر اور ری سائیکلنگ پلانٹس بنا کر ایک نئی صنعت بھی قائم کی جائے گی۔
اسی طرح ریسکیو 1122 اور دیگر ہنگامی اداروں کو الیکٹرک وہیکلز کی بیٹریوں میں آگ، تھرمل رن اوے، برقی جھٹکے اور حادثے کا شکار الیکٹرک گاڑی کو محفوظ طریقے سے سنبھالنے کی خصوصی تربیت دینے کا منصوبہ بھی اس پالیسی کا حصہ ہے۔