Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ارجنٹائن کی ٹیم فیفا ورلڈ کپ 2026 کی ’ولن‘ بن کر کیوں اُبھری؟

ناقدین نے سپین کے خلاف 1-0 کی شکست کے دوران ارجنٹائن پر غلط ہتھکنڈے استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ناقدین نے سپین کے خلاف 1-0 کی شکست کے دوران ارجنٹائن کے کھلاڑیوں پر غلط ہتھکنڈے اپنانے اور سپورٹس مین سپرٹ کا مظاہرہ نہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے، جس کے بعد ٹورنامنٹ کے دوران ارجنٹائن کی مضبوط ہونے والی ’ورلڈ کپ ولن‘ کی حیثیت مزید پختہ ہو گئی ہے۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ’ارجنٹائن کے شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ صرف جذباتی ہیں اور انہیں غلط سمجھا جاتا ہے۔
بیونس آئرس کے شمال میں رہائش پذیر 55 سال کے وکیل لیو سیمونے نے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ ہمیں اس بات کا کچھ کریڈٹ ملنا چاہیے کہ لوگ ہمیں زیادہ پسند نہیں کرتے، کیونکہ ہم میں ایک رجحان پایا جاتا ہے کہ ہم خود کو برتر اور دوسروں کو کمتر تصور کرتے ہیں۔‘
ان کی اہلیہ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ غرور اور فخر میں فرق نہیں کر پاتے۔‘
سٹار فٹبالر لیونل میسی اگرچہ دنیا بھر میں مقبول ہیں، لیکن ناقدین کے مطابق ارجنٹائن کو فیفا کی خاص حمایت حاصل رہی اور انہیں ریفریز کے فیصلوں میں رعایت ملی جین میں پینلٹیز اور مخالف ٹیموں کے خلاف کارڈز وغیرہ شامل ہیں، جس سے ان کے خلاف جذبات میں اضافہ ہوا۔
فائنل میچ میں بھی ارجنٹائن کی ٹیم نے متعدد فاؤلز کیے، میدان میں جھگڑے ہوئے اور جب سپین کو ورلڈ کپ ٹرافی مل رہی تھی تو اس دوران ارجنٹائنی کھلاڑیوں نے پشت پھیر لی۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اسے ’چڑچڑا پن، بچگانہ انداز اور ناگوار رویہ‘ قرار دیا۔

ارجنٹائن کے شائقین اور بعض کھلاڑیوں پر نسل پرستی کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

جرمنی کے سابق کھلاڑی تھامس ہٹزلزپرگر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ٹیم ’انتہائی ناپسندیدہ کھیل کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں‘ پر مشتمل تھی، جبکہ برطانوی ٹیلی ویژن کی شخصیت پیئرز مورگن نے کہا کہ ’ان کی زیادہ توجہ ہسپانوی کھلاڑیوں کو مارنے پر مرکوز رہی۔‘
ایزیزا ایئرپورٹ کے قریب پیر کی رات ہزاروں شائقین نے ٹیم کا استقبال کیا، تو وہاں موجود 35 سال کے مزدور میکسیمیلیانو ہیریڈیا نے کہا کہ ’ہم پر ہمیشہ تنقید ہوتی رہی ہے، ہم اس کے عادی ہیں، لیکن ہم ہر بار اپنی پوری کوشش کرتے ہیں۔‘
ہمیں یہ پسند ہے
ارجنٹائن کے بہت سے شہریوں نے سوشل میڈیا پر خود پر ہو رہی تنقید کو اعزاز کے طور پر لیا۔
صحافی پیڈرو روزمبلات نے انسٹاگرام پر لکھا کہ ’ارجنٹائنی کچھ اسی قسم کے بے باک ہیں جو دوسرے برداشت نہیں کر سکتے۔ ہماری بغاوت انہیں چبھتی ہے، غصہ دلاتی ہے، وہ ہمیں مغرور، دھوکے باز اور برا کہتے ہیں، اور ہمیں یہ پسند ہے، ہم اس پر فخر محسوس کرتے ہیں۔‘
سپورٹس صحافی ایزیکیل فرنینڈیز موریز نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کچھ تنقید درست بھی ہے کیونکہ ’ہم کبھی کبھی خود کو کائنات کا مرکز سمجھنے لگتے ہیں، جیسے یہ پوری کائنات اور ہماری اپنی ذات بھی ارجنٹائنی ہو۔‘
انہوں نے کہا کہ ’مقامی فٹبال کلچر میں اشتعال دلانا، مذاق اُڑانا اور شیخی بگھارنا شامل ہے، جس کا عالمی سطح پر ادراک نہیں کیا جاتا۔‘
ان کے مطابق، ہم دنیا سے یہ توقع نہیں کر سکتے کہ وہ ہمارے اندازِ زندگی، جذبات اور اظہار کو سمجھے۔

بہت سے ارجنٹائنی شہریوں نے سوشل میڈیا پر خود پر ہونے والی تنقید کو اپنے لیے اعزاز قرار دیا (فائل فوٹو: اے ایف پی)

تاہم انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ سپین کے ٹرافی لینے کے دوران ٹیم کا پشت پھیر لینا ’درست طرزِ عمل نہیں تھا۔‘
وکیل لیو سیمونے اس خیال کو مسترد کرتے ہیں کہ جسمانی کھیل ارجنٹینا کو ایک پرتشدد ٹیم بناتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ارجنٹائن ایک جارحانہ کھیلنے والی ٹیم ہے، جیسے زیادہ تر جنوبی امریکی ٹیمیں ہوتی ہیں، لیکن سپین نے بھی حکمتِ عملی کے تحت فاؤلز کیے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ فٹبال ہے، آپ کو اگر ٹکر لگنا پسند نہیں تو والی بال کھیلیں۔‘
وینزویلا کے 47 سالہ نیورولوجسٹ ایویلیو روبیو، جو ایک دہائی سے ارجنٹائن میں مقیم ہیں، کہتے ہیں کہ ’باہر کے لوگوں کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ یہاں فٹبال کو کس شدت سے جیا جاتا ہے۔‘
ان کے مطابق وینزویلا کے ایک ایسے شہری کے لیے جس کی قومی ٹیم عموماً ٹائٹلز نہیں جیتتی، اس جذبے کو قریب سے دیکھنا ’لاجواب‘ ہے۔
نسل پرستی کے الزامات
ارجنٹائنی شائقین اور بعض کھلاڑیوں پر نسل پرستی کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں، مثلاً ماضی میں ایک نعرہ بلند کیا گیا جس میں فرانسیسی ٹیم کے سیاہ فام کھلاڑیوں کا مذاق اڑایا گیا۔
کلب سطح پر بھی شائقین کی جانب سے میدان میں کیلے پھینکنے یا برازیلین شائقین اور سیاہ فام کھلاڑیوں کی طرف بندر جیسے اشارے کرنے کی طویل تاریخ موجود ہے۔
اس ورلڈ کپ کے دوران بھی فیفا نے ایک بیان میں نسل پرستی کی مذمت کی، جب ایک ارجنٹائنی مداح نے لائیو سٹریم کے دوران سیاہ فام امریکی انفلوئنسر آئی شو سپیڈ کو ’چڑیا گھر جا کر رونا دھونا کرو‘ کہا۔

ارجنٹائن کو ورلڈ کپ کے دوران فیفا کی خاص حمایت ملنے اور انہیں ریفریز کے فیصلوں میں رعایت ملنے کے الزامات بھی لگے (فائل فوٹو: گیٹی)

امریکی اداکار سیموئل ایل جیکسن نے بھی تنازع کھڑا کیا جب انہوں نے انسٹاگرام پر سیاہ فام شہریوں کو ارجنٹینا کی حمایت نہ کرنے کا مشورہ دیا اور اسے ’دنیا کے سب سے زیادہ نسل پرست ممالک میں سے ایک‘ قرار دیا۔
نیشنل یونیورسٹی آف سان مارٹن کے ماہرِ عمرانیات ایوان شولیاکر کے مطابق، فٹبال سے جڑے نسل پرستانہ رویوں کو پورے ارجنٹائنی معاشرے اور تاریخ پر لاگو نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ موجود ہے اور اس سے انکار نہیں ہونا چاہیے، ’لیکن اکثر ایسے لیبل ان ممالک کی طرف سے آتے ہیں جو خود ابھی تک نسل پرستی کے مسئلے کو مکمل طور پر حل نہیں کر سکے۔‘

شیئر: