Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا: طلبہ پر تشدد کے خلاف راہل گاندھی اور پریانکا گاندھی کا مودی کے گھر کے باہر دھرنا، استعفے کا مطالبہ

انڈیا کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے منگل کے روز وزیرِ اعظم نریندر مودی سے طلبہ کے احتجاج کے خلاف پولیس کارروائی کے بعد استعفے کا مطالبہ کیا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق راہل گاندھی اور ان کی بہن پریانکا گاندھی نے پارٹی کے دیگر رہنماؤں اور کارکنوں کے ہمراہ منگل کے روز وزیرِ اعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور دھرنا دیا۔
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’ہم وزیرِ اعظم مودی کی رہائش گاہ کی طرف مارچ کر کے ان سے یہ جواب مانگنے آئے ہیں کہ گزشتہ روز نوجوان طلبہ کے خلاف ہونے والے وحشیانہ تشدد کی ذمہ داری کون لے گا۔‘

راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا کہ مودی کو ’انڈیا کے نوجوانوں کا مستقبل تباہ کرنے پر‘استعفیٰ دے دینا چاہیے۔

ایوانِ زیریں میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے کہا کہ ’حکومت نہ تو اس معاملے کی ذمہ داری قبول کرنا چاہتی ہے اور نہ ہی پارلیمنٹ میں اس پر بحث کرانا چاہتی ہے۔‘
راہل گاندھی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب پولیس نے بتایا کہ پیر کے روز نئی دہلی کے مرکزی علاقے میں سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں 60 مظاہرین زخمی ہوئے۔ یہ گزشتہ تقریباً پانچ برسوں میں دارالحکومت کا سب سے بڑا احتجاج تھا۔
ہزاروں مظاہرین وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ یہ احتجاج آن لائن تحریک کاکروچ جنتا پارٹی کی اپیل پر کیا گیا۔
پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی اور لاٹھی چارج کیا، جبکہ مظاہرین نے جواب میں پولیس پر پتھراؤ کیا۔ دہلی پولیس کے مطابق جھڑپوں میں 118 پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔

'ہم نہیں رکیں گے'

سی جے پی نے اعلان کیا کہ وہ دھرمیندر پردھان کی برطرفی کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ منگل کے روز بھی سینکڑوں مظاہرین دہلی کے جنتر منتر احتجاجی مقام پر موجود رہے، جہاں کئی افراد پورے تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے تھے۔
مئی میں آغاز کے بعد سے سی جے پی کو سوشل میڈیا پر لاکھوں حامی مل چکے ہیں، جس کے باعث یہ تحریک 2024 میں تیسری مرتبہ اقتدار میں آنے والے نریندر مودی کے لیے سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک بن گئی ہے۔
سی جے پی کے ترجمان اشوتوش رانکا نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ’ہم نہیں رکیں گے۔ پردھان کو برطرف کرنا ہی ہوگا۔‘
منگل کو جنتر منتر پر مظاہرین کی تعداد پیر کے مقابلے میں کم تھی، جب سی جے پی نے ہزاروں افراد کو انڈین پارلیمنٹ کی جانب مارچ کے لیے متحرک کیا تھا۔
سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے مظاہرین پر زور دیا کہ وہ مایوس نہ ہوں۔
ٹرک پر کھڑے ہو کر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’وہ ہمارے حوصلے توڑنا چاہتے ہیں۔ آپ انہیں آواز دبانے نہ دیں۔‘

’انڈین جمہوریت کا شرمناک دن‘

احتجاج کے منتظمین نے حکام کی ’سخت گیر اور جابرانہ کارروائی‘ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سینکڑوں مظاہرین زخمی ہوئے ہیں۔
اشوتوش رنکا نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ ’یہ انڈین جمہوریت کی تاریخ کا ایک شرمناک دن ہے کہ ایک جائز مسئلے کے لیے آنے والے ایماندار طلبہ کو دہلی پولیس نے بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا۔‘
رانکا، جنہوں نے پیر کے روز سینئر وزیر جے پی نڈا سے ملاقات بھی کی، نے کہا کہ حکومت نے اب تک ان کے مطالبات کا کوئی جواب نہیں دیا۔
مظاہرین نے واضح کیا کہ وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔
25 سالہ قانون کے طالب علم چندر پرتاپ سشوی نے کہا کہ ’اب ہم پہلے سے بھی زیادہ بے خوف ہو چکے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’جب میں نے دیکھا کہ پولیس لوگوں کو اس طرح مار رہی ہے تو میرا خون کھول اٹھا۔‘

پارلیمنٹ میں ہنگامہ، حکومت کا دفاع

منگل کے روز اپوزیشن نے طلبہ پر’بے رحمانہ تشدد‘ پر بحث کا مطالبہ کیا، جس کے بعد پارلیمنٹ کا اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔
اگرچہ انڈیا کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے، لیکن دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں لاکھوں افراد اب بھی مستقل اور بہتر تنخواہ والی ملازمتیں حاصل کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں، جس سے عوامی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ احتجاج امتحانی نظام سے متعلق متعدد اسکینڈلز کے بعد سامنے آیا ہے، جنہوں نے انڈیا کے امتحانی نظام پر عوام کا اعتماد متزلزل کر دیا ہے۔
گزشتہ ماہ سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے باعث منسوخ کیے گئے امتحان کے بعد 22 لاکھ میڈیکل کے امیدواروں نے سخت سکیورٹی میں دوبارہ امتحان دیا۔
اس سے قبل تقریباً 20 لاکھ ہائی سکول کے طلبہ کے امتحانات کی آن لائن مارکنگ سے متعلق ایک اور اسکینڈل بھی سامنے آیا تھا۔
پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے منگل کو حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بعد حکومت نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعدد افراد کو گرفتار کیا۔
انہوں نے بتایا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے منگل کو اتحادی جماعتوں کے ساتھ بند کمرہ اجلاس میں مستقبل میں بے ضابطگیوں کی روک تھام کے لیے ’مکمل طور پر محفوظ اور ناقابلِ نقائص نظام‘ بنانے پر زور دیا۔

 

شیئر: