34 برس بعد کراچی میں ٹریفک حادثے کے شکار شہری کو انصاف مل گیا، ایک کروڈ ہرجانہ ادا کرنے کا حکم
منگل 21 جولائی 2026 13:58
زین علی -اردو نیوز، کراچی
کراچی کی مقامی عدالت نے 34 برس حکومت سندھ اور بس ڈرائیور کو ٹریفک حادثے سے متاثرہ شخص کو ایک کروڑ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم سنا دیا۔
کراچی میں پیش آنے والا ایسا ٹریفک حادثہ جس نے ایک شہری کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل دی اور اس کیس کا فیصلہ آنے میں تین دہائیوں سے زیادہ کا وقت لگ گیا۔ کراچی کی سٹی کورٹ نے 1992 میں کورنگی روڈ پر پیش آنے والے ایک حادثے کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے حکومت سندھ اور سرکاری بس کے ڈرائیور کو مشترکہ طور پر ایک کروڑ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
سینیئر سول جج جنوبی نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ حادثہ سرکاری بس کے ڈرائیور کی غفلت اور لاپرواہی کا نتیجہ تھا۔ عدالت کے مطابق ڈرائیور کی ذمہ داری صرف ان تک محدود نہیں رہتی چونکہ وہ سرکاری ادارے کی ملازمت کے دوران اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہا تھا، اس لیے حکومت سندھ بھی اس نقصان کی ذمہ دار ہے۔
عدالت نے حکم دیا ہے کہ ہرجانے کی رقم تین ماہ کے اندر متاثرہ شہری کشن لال کو ادا کی جائے۔
ایک حادثہ جس نے کشن کی زندگی کا رخ بدل دیا
عدالتی ریکارڈ کے مطابق یہ حادثہ 9 مارچ 1992 میں کراچی کے مصروف ترین شاہراہوں میں شمار ہونے والی کورنگی روڈ نزد اختر کالونی پر پیش آیا تھا۔ لیاری کے 27 سالہ رہائشی کشن لال سڑک پر موجود تھے کہ ایک تیز رفتار سرکاری بس جے اے 0079 نے انہیں ٹکرماری۔
حادثہ اتنا شدید تھا کہ انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، مگر ڈاکٹروں کو ان کی جان بچانے کے لیے ایک ٹانگ کاٹنا پڑی۔ اس کے بعد کشن لال مستقل جسمانی معذوری کا شکار ہوگئے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ مستقل معذوری صرف جسمانی نقصان تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات ایک انسان کی پوری زندگی پر مرتب ہوتے ہیں۔ روزگار، آمدنی، نقل و حرکت، خاندانی ذمہ داریاں اور سماجی تعلقات سب متاثر ہوتے ہیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ کشن لال بھی انہی مشکلات سے دوچار رہے اور اس حادثے کے اثرات انہوں نے برسوں تک برداشت کیے۔
حادثے کے بعد متاثرہ شہری نے ہرجانے کے لیے عدالت سے رجوع کیا۔ مقدمہ 1994 میں دائر کیا گیا، لیکن مختلف قانونی مراحل، دائرہ اختیار کے معاملات اور عدالتی کارروائیوں کے باعث اس کا فیصلہ کئی برس تک نہیں ہو سکا۔
بعد ازاں سندھ میں سول عدالتوں کے دائرہ اختیار میں تبدیلی کے بعد، 2025 کے سندھ سول کورٹس ترمیمی قانون کے تحت یہ مقدمہ سٹی کورٹ منتقل کیا گیا، جہاں اس کی دوبارہ سماعت ہوئی اور بالآخر فیصلہ سنایا گیا۔
یوں ایک ایسا مقدمہ، جس کا آغاز گزشتہ صدی میں ہوا تھا، موجودہ دہائی میں اپنے منطقی انجام تک پہنچا۔
عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ دستیاب شواہد اور ریکارڈ سے واضح ہوتا ہے کہ حادثہ بس ڈرائیور کی غفلت کے باعث پیش آیا۔
فیصلے کے مطابق عوامی شاہراہ پر تیز رفتاری سے گاڑی چلانا، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنا اور غلط سمت میں گاڑی لے جانا ایسی غفلت ہے جس کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کی ذمہ داری ڈرائیور پر عائد ہوتی ہے۔
عدالت نے مزید کہا کہ چونکہ متعلقہ ڈرائیور سرکاری بس چلا رہا تھا، اس لیے حکومت سندھ بھی قانونی طور پر اس نقصان کی ذمہ دار ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں اس بات پر بھی زور دیا کہ متاثرہ شخص کی مستقل معذوری نے اس کی معاشی حالت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ وہ اپنی سابقہ زندگی اور معمول کے مطابق کام کرنے کے قابل نہ رہے، جس کے باعث ان کی آمدنی اور معیارِ زندگی بھی متاثر ہوا۔
وکیل کا مؤقف
مدعی کے وکیل فراز فہیم ایڈووکیٹ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل 1992 میں پیش آنے والے حادثے کے بعد سے مستقل معذوری کا شکار ہیں۔
ان کے مطابق حادثے کے نتیجے میں ایک ٹانگ ضائع ہونے کے بعد کشن لال کی زندگی مکمل طور پر بدل گئی۔ وہ نہ صرف جسمانی مشکلات کا شکار رہے بلکہ روزگار اور معاشی استحکام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ متاثرہ شہری کئی برس تک انصاف کے منتظر رہے اور بالآخر عدالت نے تمام شواہد کا جائزہ لینے کے بعد ان کے حق میں فیصلہ دیا۔
ہرجانے کی رقم کیوں اہم ہے؟
پاکستان میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں فوجداری مقدمات تو درج ہوتے ہیں، تاہم متاثرہ افراد کی جانب سے سول عدالتوں میں ہرجانے کے دعوے نسبتا کم دیکھنے میں آتے ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق ہرجانے کا مقصد کسی شخص کی جان یا صحت کی قیمت مقرر کرنا نہیں بلکہ اس نقصان کا مالی ازالہ کرنا ہوتا ہے جو حادثے کی وجہ سے متاثرہ شخص کو برداشت کرنا پڑا۔
ایسے مقدمات میں عدالت متاثرہ شخص کی عمر، جسمانی نقصان، مستقبل کی آمدنی، علاج، مستقل معذوری اور دیگر حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہرجانے کی رقم مقرر کرتی ہے۔
اسی بنیاد پر اس مقدمے میں بھی عدالت نے ایک کروڑ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔
یہ مقدمہ ایک بار پھر اس سوال کو سامنے لاتا ہے کہ اگر کسی شہری کو اپنے بنیادی حق کے حصول کے لیے تین دہائیوں سے زیادہ انتظار کرنا پڑے تو اس کے اثرات کیا ہوتے ہیں۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سول مقدمات میں تاخیر پاکستان کے عدالتی نظام کا ایک بڑا مسئلہ رہی ہے۔ برسوں تک مقدمات زیر التوا رہنے کی وجہ سے نہ صرف متاثرہ افراد مشکلات کا سامنا کرتے ہیں بلکہ کئی مقدمات میں گواہ، دستاویزات اور دیگر شواہد بھی متاثر ہوتے ہیں۔
اس مقدمے میں بھی متاثرہ شخص کو انصاف ملنے میں تقریبا 34 برس لگے، جس دوران ان کی پوری عملی زندگی گزر گئی۔
ٹریفک حادثات اور احتیاط
پاکستان میں ہر سال ہزاروں افراد ٹریفک حادثات میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں یا مستقل معذوری کا شکار ہوتے ہیں۔ ایڈووکیٹ ساجد لطیف کے مطابق ان حادثات کی بڑی وجوہات میں تیز رفتاری، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی، غلط سمت میں گاڑی چلانا، غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ اور ناقص نگرانی شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عدالت کے حالیہ فیصلے کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ عوامی مقام پر لاپرواہی سے گاڑی چلانا ایک سنگین غفلت ہے اور اگر اس کے نتیجے میں کسی شہری کو نقصان پہنچے تو ذمہ دار افراد اور متعلقہ ادارے دونوں جواب دہ ہوں گے۔
کشن لال کے مقدمے کا فیصلہ صرف ایک شہری کو ہرجانہ دینے تک محدود نہیں بلکہ یہ ریاستی اداروں کی ذمہ داری، سرکاری ملازمین کی جواب دہی اور متاثرہ شہریوں کے حقوق سے متعلق بھی ایک اہم قانونی مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اگرچہ عدالت نے ہرجانے کی ادائیگی کے لیے تین ماہ کی مہلت دی ہے، تاہم یہ مقدمہ اس حقیقت کی بھی یاد دہانی کراتا ہے کہ حادثے کے چند لمحے کسی انسان کی پوری زندگی بدل سکتے ہیں، جبکہ اس نقصان کے ازالے کے لیے انصاف کا سفر بعض اوقات کئی دہائیوں پر محیط ہو جاتا ہے۔