Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

شاہی فرمان: تعلیمِ عام کے نئے نظام کی منظوری

نئے نظام میں نجی شعبے کی شمولیت کو بھی فروغ ملے گا (فوٹو: ایکس اکاؤنٹ)
ایوانِ شاہی سے نئے تعلیمِ عام کے قانون کی منظوری جاری کردی گئی ہے، جس کا مقصد تعلیمی نظام کی گورننس کو مضبوط بنانا، مقررہ اہداف کے حصول کے لیے ضروری وسائل کی فراہمی اور تعلیمی ماحول و معیار کو بلند کرنا ہے۔
ایس پی اے کے مطابق ایوان شاہی سے نئے عام تعلیمی قانون کی منظوری جاری ہونے پر وزیر تعلیم یوسف البنیان نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہدِ مملکت شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ اقدام مملکت میں تعلیم کی ترقی کے سفر میں اہم سنگِ میل ثابت ہوگا اور تعلیمی نظام کے حوالے سے انتظامی و عملی استعداد کو مزید مستحکم کرے گا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’نیا نظام وزارتِ تعلیم اور متعلقہ اداروں کے اختیارات و ذمہ داریوں کا واضح تعین کرتا ہے، جس سے تعلیمی پالیسیوں اور فیصلہ سازی کے عمل میں مزید بہتری اور تعلیمی نظام کی موثر نگرانی ہوگی۔‘
وزیر تعلیم کے مطابق قانون میں نجی اور غیرمنافع بخش شعبوں کی شمولیت کے لیے بھی جامع ضوابط وضع کیے گئے ہیں، جس کا مقصد سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی، تعلیمی شراکت داری کو فروغ دینا، تعلیمی خدمات کا معیار بہتر بنانا اور سعودی وژن 2030 کے اہداف کے مطابق تعلیمی امور کو وسعت دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’نیا قانون طلبہ اور اساتذہ کے حقوق کی پاسداری اور محفوظ و معاون تعلیمی ماحول کی فراہمی پر زور دیتا ہے۔ اس کے ساتھ طلبہ کے تعلیمی سفرمیں خاندان کے کردار کو بھی مزید موثر بنانے کی اہمیت کو اجاگرکیا گیا ہے۔‘
وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ ’قانون کے تحت ابتدائی مراحل کے تعلیمی ضوابط کو بھی مستحکم کیا گیا ہے اور بچوں کی شخصیت سازی، ذہنی نشوونما میں ابتدائی برسوں کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔‘
معذور طلبہ کے لیے تعلیمی اور معاون خدمات کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ غیرمعمولی صلاحیتوں کے حامل طلبہ کی حوصلہ افزائی اور ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے پروگراموں کے دائرہ کار کو بھی وسعت دی گئی ہے۔
اس ضمن میں وزارتِ تعلیم کا کہنا ہے کہ آئندہ مرحلے میں متعلقہ اداروں کے تعاون سے نظام کے انتظامی اور نفاذ سے متعلق قواعد و ضوابط مکمل کیے جائیں گے تاکہ اسے واضح طریقہ کار کے مطابق نافذ کیا جاسکے اور عمومی تعلیم کی ترقی اور اس کے نتائج کے معیار میں بہتری کے اہداف حاصل کیے جاسکیں۔

 

شیئر: