بلیک گولڈ میوزیم: تہذیبوں کی تشکیل میں تیل کے کردار کی کہانی
منگل 28 جولائی 2026 10:54
میوزیم کا انتظام کا کابسارک کمپلیکس میں کیا گیا ہے ( فوٹو: ایس پی اے)
ریاض میں واقع بلیک گولڈ میوزیم، سعودی سمر 2026 پروگرام کے ایک حصے کے طور پر یہاں آنے والوں کو ایک حیرت انگیز ثقافتی تجربہ پیش کر رہا ہے۔
سمر سیزن کے تحت مملکت کے مختلف شہروں میں ثقافتی و سیاحتی پروگرام ’صیفنا علی کیفنا‘ کے سلوگن کے تحت جاری ہیں۔
ایس پی اے کے مطابق بلیک گولڈ میوزیم تیل کی دریافت کی کہانی کو بیان کرنے کے ساتھ گزشتہ دہائیوں میں تہذیبوں، معاشروں اور عالمی تبدیلیوں کی تشکیل میں اس کے کردار اور جدید دنیا پر اس کے اثرات کو اجاگر کرتا ہے۔
یہ میوزیم وزارتِ ثقافت کے تحت میوزیم اتھارٹی اور توانائی کے شعبے کے اشتراک سے کنگ عبداللہ پیٹرولیم سٹڈیز اینڈ ریسرچ سینٹر (کابسارک) کے تعاون سے قائم کیا گیا ہے۔
میوزیم کا انتظام کا کابسارک کمپلیکس میں کیا گیا ہے۔ مستقل نمائش کے طور پر 350 سے زائد جدید اور معاصر فن پارے رکھے گئے ہیں جو 170 سے زیادہ سعودی اور بین الاقوامی فنکاروں کی تخلیق ہیں۔

اس میں تاریخی تصاویر، دستاویزات، ملٹی میڈیا نمائشیں شامل ہیں جو مختلف ادوار میں تیل کے انسانی، ثقافتی اور سماجی اثرات کو اجاگر کرتی ہیں۔
میوزیم میں عارضی نمائشں کے لیے بھی مخصوص گیلریاں، تعلیمی و مشاورتی مراکز، کانفرنس ہال اور کیفے ٹیریاز موجود ہیں۔

میوزیم چار بنیادی حصوں پر مشتمل ہے جن کے عنوان ’اللقاء، الاحلام، شکوک، الرؤی‘ رکھے گئے ہیں۔ پہلا حصہ ملاقات یعنی اللقاء کا ہے جس میں تیل کی دریافت اور اس کے ابتدائی استعمال اور صنعتی تبدیلیوں کو بیان کیا گیا ہے۔
دوسرا سیکشن ’الاحلام‘ ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح تیل نے معاشروں کی تشکیل نو اور ترقیاتی عزائم کو تقویت دی۔

تیسرے حصے کا عنوان ’شکوک‘ ہے جس میں درپیش چیلنجز اور اس سے وابستہ سوالات کو بیان کیا گیا ہے جبکہ چوتھا حصہ ’الرؤی کا ہے جس میں تیل کی دریافت کے بعد ہونے والے مستقبل کی عکاسی کی گئی ہے۔
مصوری، مجسمہ سازی، فوٹو گرافی، ڈیزائن، فلم اور ملٹی میڈیا آرٹ کے ذریعے تیل کی دریافت اور اس کے بعد ہونے والی ترقی کو اجاگر کرتے ہوئے تیل کی کہانی کو بیان کیا گیا ہے۔
