Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’دار الفنون الاسلامیہ‘ میوزیم، 15 صدیوں پر محیط اسلامی فن کے نوادرات کا امین

یہ صرف ایک میوزیم نہیں بلکہ علم، فن اور ثقافتی مکالمے کا فعال مرکز بھی ہے(فوٹو، ایس پی اے)
جدہ کا ’دار الفنون الاسلامیہ‘ اپنی نوعیت کا پہلا میوزیم ہے جو اسلامی فنون کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔ میوزیم میں اسلامی دنیا کے مختلف خطوں سے تعلق رکھنے والے ایک ہزار سے زائد نادر فن پارے رکھے گئے ہیں۔
سعودی خبر رساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق میوزیم میں چین اور برصغیر سے لے کر شمالی افریقہ اور اندلس تک اسلامی تہذیب کے فنی ورثے کو اکھٹا کیا گیا ہے۔ میوزیم میں اسلامی فن کی 15 صدیوں پر محیط تاریخ یہاں اکھٹی کی گئی ہے۔
میوزیم جو کہ مختلف شعبوں پر مشتمل ہے، کا ایک حصہ عربی خطاطی کے لیے مخصوص ہے، جہاں قرآنی مخطوطات اور نادر فن پارے مسلمانوں کی خطاطی و کتابت سے وابستگی اور فنی مہارت کو اجاگر کرتے ہیں۔
دیگر نمایاں نوادرات میں تقریبا 2 میٹر 60 سینٹی میٹرلمبا ایک نادر کپڑا بھی ہے جس پر انتہائی باریک ’غباری خط‘ میں قرآن کریم کا ایک تہائی حصہ (دس پارے) تحریر کیے گئے ہیں۔ اس تحریر کی خصوصیت یہ ہے کہ اسے بہت توجہ سے دیکھنا پڑتا ہے جو یقینی طور پر مسلمان خطاطوں کی غیرمعمولی ہنر مندی کا واضح ثبوت ہے۔

عربی خطاطی اسلامی فن کی روح ہے جو ماضی کو حال سے جوڑتی ہے(فوٹو، ایس پی اے)

میوزیم میں موجود ایک انتہائی منفرد انداز میں تحریر قرآنی آیت بھی موجود ہے جو اس طرح لکھی گئی ہے کہ اس کے ہرحرف میں اللہ تعالی کے ناموں میں سے ایک نام شامل ہے۔
یہ فن پارہ اسلامی خطاطی میں فنی مہارت اور روحانی فکر کے حسین امتزاج کی عکاسی کرتا ہے۔
دار الفنون الاسلامیہ اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ عربی خطاطی محض لکھنے کا ذریعہ ہی نہیں بلکہ اسلامی فن کی روح ہے، جو ماضی کو حال سے جوڑتی ہے۔
جدہ میں موجود یہ دار الفنون الاسلامیہ ایک اہم ثقافتی مرکز اور منفرد فنی منزل کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں زائرین اسلامی تہذیب کے بصری اور روحانی ورثے کا قریب سے مشاہدہ کرتے ہیں۔
یہ صرف ایک میوزیم نہیں بلکہ علم، فن اور ثقافتی مکالمے کا فعال مرکز بھی ہے۔
میوزیم کے ذخیرے میں قرآنی مخطوطات، عربی خطاطی، قدیم سکے، مختلف برتن اور نادر تعمیراتی اشیا شامل ہیں، اس جگہ علمی لیکچرز، ورکشاپس اور فنی پروگراموں کا بھی باقاعدگی سے انعقاد کیا جاتا ہے۔

 

شیئر: