Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب اور پاکستان سمیت 13 دیگر ممالک نے بحری دفاعی اتحاد قائم کر لیا

اتحاد کا مقصد مشرق وسطی کی اہم آبی گزر گاہوں میں جہاز رانی کا تحفظ کرنا ہے( فوٹو: ایس پی اے)
 سعودی عرب اور دیگر 13 ملکوں نے جمعرات کو ایک بحری دفاعی اتحاد قائم کیا ہے، جس کا مقصد مشرق وسطی کی اہم آبی گزر گاہوں میں جہاز رانی کا تحفظ کرنا ہے۔
اس بات کا اعلان اتحاد پر بات چیت کے لیے موجود متعدد ملکوں کی  فوجی شخصیات کے اجلاس کے بعد کیا گیا ہے۔ اتحاد کے بانی ارکان میں سعودی عرب، کویت، بحرین، قطر، پاکستان، ترکیہ، مصر، اردن، یمن، جبوتی، بنگلہ دیش، سوڈان، نائیجر اور صومالیہ شامل ہیں۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ ’کثیر القومی میری ٹائم ڈیفنس الائنس کا مقصد گلوبل میری ٹائم سکیورٹی کو درپیش بڑھتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنا ہے۔‘ 
دارالحکومت ریاض میں اجلاس کے بعد جاری  مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ اتحاد بحری دفاعی تعاون کے لیے ایک فریم ورک کے طور پر کام کرے گا۔ جس کا مقصد اقوام متحدہ کے کنونشنز اور بین الاقوامی روایات کے مطابق میری ٹائم سکیورٹی کو بڑھانا، فریڈم آف نیویگیشن کا تحفظ اور بین الاقوامی تجارتی و توانائی کے راستوں کو محفوظ بنانا شامل ہے۔
ایس پی اے کے مطابق مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ’اجلاس میں شریک بانی ممالک نے اقوام متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں، بین الاقوامی قانون، عالمی معاہدوں اور تسلیم شدہ بین الاقوامی ضوابط و روایات سے وابستگی کا اعادہ کیا۔‘
یہ بھی کہا گیا ’بین الاقوامی بحری سلامتی کو درپیش بڑھتے ہوئے چیلنجز کے پیش نظر باب المندب، ریڈ سی اور خلیج عدن میں جہاز رانی کی آزادی، عالمی تجارتی راستوں کے تحفظ کے لیے مشترکہ دفاعی بحری تعاون کو مزید مضبوط بنانا ناگزیر ہوچکا ہے۔‘

اجلاس میں یورپی یونین کے علاوہ 43 ملکوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ( فوٹو: ایس پی اے)

بانی ممالک نے کہا کہ ’بحری سلامتی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ سرحدوں سے دور بحری خطرات سے نمٹنے کے لیے ممالک کے درمیان تعاون اور رابطہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے، جو عالمی امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوگا۔‘
اعلامیے میں متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی جن میں کثیر ملکی دفاعی بحری اتحاد کا قیام سرفہرست ہے۔
یہ اتحاد بحری سلامتی کے فروغ سمیت جہاز رانی اور بین الاقوامی تجارت و توانائی کی ترسیل کے راستوں کے تحفظ، باب المندب، ریڈ سی اور خلیج عدن میں مشترکہ بحری مفادات کے دفاع کے لیے کام کرے گا۔
اعلامیے کے مطابق شریک ممالک اپنے آئینی و قانونی تقاضوں کے مطابق اتحاد کے منشور میں باضابطہ شمولیت کے لیے اندرونی کارروائیاں مکمل کریں گے۔

بانی ممالک نے کہا کہ ’بحری سلامتی مشترکہ ذمہ داری ہے۔‘ ( فوٹو: ایس پی اے)

بحری سلامتی، معلومات اور انٹیلی جنس کے تبادلے، آپریشنل منصوبہ بندی، مشترکہ مشقوں، تربیت، تجربات کے تبادلے اور مشترکہ بحری کارروائیوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔
 یہ اتحاد مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے، اس کا ہدف کوئی ملک، اتحاد یا بین الاقوامی تنظیم نہیں، اس کی تمام سرگرمیاں بین الاقوامی قوانین، ریاستوں کی خودمختاری کے احترام اور جہاز رانی کی آزادی کے اصولوں کے دائرے میں انجام دی جائیں گی۔
اعلامیے میں کہا گیا ’سعودی عرب اس اتحاد کا بانی اور سربراہ ملک ہو گا، جبکہ اتحاد کا مستقل صدر دفتر بھی مملکت میں قائم کیا جائے گا۔‘
مشترکہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر، مشترکہ بحری آپریشنز سینٹر اور جنرل سیکریٹریٹ بھی مملکت میں قائم کیے جائیں گے جو اتحاد کے اہم انتظامی اور عملی ادارے ہوں گے۔

اعلامیے میں متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی ہے ( فوٹو: ایس پی اے)

قبل ازیں سعودی وزارت دفاع کا کہا تھا کہ ’سعودی عرب نے جمعرات کو ریاض میں کثیر القومی بحری دفاعی اتحاد کے قیام پر تبادلہ خیال کے لیے ایک اجلاس کی میزبانی کی ہے۔‘
 یہ اجلاس میری ٹائم سکیورٹی کو بڑھانے، بین الاقوامی آبی راستوں کے تحفظ، میری ٹائم نیویگیشن اور گلوبل ٹریڈ کو نشانہ بنانے والے خطرات سے نمنٹے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
اجلاس میں یورپی یونین کے وفد کے علاوہ 43 ملکوں کے چیف آف سٹاف اور ان کے نمائندوں نے شرکت کی۔
وزارت نے بیان میں کہا ’یہ اجلاس بحری دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے میں بین الاقوامی دلچسپی کی عکاسی کرتا ہے۔ بین الاقوامی آبی گزر گاہوں کی سکیورٹی کو نشانہ بنانے والے مشترکہ خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد کوششوں کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔‘

اتحاد کا مستقل صدر دفتر سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا۔( فوٹو: ایس پی اے)

اجلاس میں میری ٹائم سکیورٹی  کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات، جس میں کمرشل جہازوں، آئل ٹینکرز اور اہم بحری انفرا سٹرکچر پر حملے شامل ہیں، کا جائزہ لیا گیا۔ 
اس طرح کے خطرات کو روکنے، ان کا مقابلہ کرنے اور گلوبل شپنگ لائن کے تحفظ کے لیے کثیر الجہتی دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا۔
بات چیت میں بحری دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے، آبنائے ہرمز، بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں مشترکہ خطرات سے نمنٹے کے لیے ایک مضبوط انسٹی ٹیوشنل فریم ورک کی تشکیل پر توجہ مرکوز کی گئی۔

 

شیئر: